بھارتی فورسز نے بڈگام میں ایک نوجوان کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا

فوجی نوجوانوں کو گھروں اور جیلوں سے اٹھا کر ماورائے عدالت قتل کر دیتے ہیں،مقامی افراد

بدھ 30 ستمبر 2026 13:31

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی ایک تازہ وکارروائی میں ضلع بڈگام میں ایک نوجوان کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سینٹرل ریزرو پولیس فورسز نے نوجوان کو ضلع کے علاقے یوس مرگ کے کوراگ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کیا۔

شہید نوجوان کی شناخت سلیمان شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ بھارتی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یوسمرگ میں آپریشن علاقے میں مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات پرشروع کیا اور نوجوان فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔بھارتی فورسز نے یوسمرگ میں 5 ستمبر کو بھی اسی طرح کے ایک جعلی مقابلے میں یاسر نامی نوجوان کو شہید کیا تھا۔

(جاری ہے)

دریں اثنا قابض فورسز نے بڈگام، بارہمولہ، راجوری اور پونچھ اضلاع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز اہلکار تفتیشی مراکز یا مختلف علاقوں سے نوجوانوں کو لاتے ہیں اور انہیں عسکریت پسند قرار دے کر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران شہید کر دیتے ہیں۔بھارت نے جموں وکشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط برقرار رکھنے کے لیے دس لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور علاقہ اس وقت دنیا کا سب کا بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ مانا جاتا ہے۔

بھارت نے علاقے میں تعینات فورسز اہلکاروںکو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بے لگام اختیارات دے رکھے ہیں ۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے سبب جنوری 1989 سے اب تک 96ہزار 5سو2 کشمیریوں کو شہید کیا ہے، جن میں 7,421 سے زائد کو دوران حراست یا جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔