کاٹن ایکسچینج عمارت حوالگی تنازع، توہین عدالت کی درخواست پر سماعت

عدالتی حکم کے باوجود وزیر نے عمارت کا افتتاح کیا، انور منصور؛ فیصلہ چیلنج کیا تو توہین عدالت کیسے بنتی ہی عدالت

بدھ 30 ستمبر 2026 17:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی حوالگی کے تنازع سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت کراچی کاٹن ایکسچینج کے وکیل انور منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہیں بار بار عدالت میں پیش ہونے پر شرمندگی محسوس ہورہی ہے، عدالتی حکم کے باوجود وزیر اسی عمارت کا افتتاح کرکے چلے گئے۔

جسٹس محمد سلیم جیسر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’’یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں، ہمارا کوئی وزیر ہوتا ہی ‘‘ انور منصور نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود وزیر نے عمارت کا افتتاح کیا۔جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ بات کو ادھر ادھر نہ گھمائیں، سیدھا بتائیں کیا ہمارا کوئی وزیر ہی کے ایم سی کے وکیل حیدر وحید نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہورہا، ان کے دلائل صرف ایک جملے پر مشتمل ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ توہین عدالت کیسے بنتی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ فریقین نے عدالتی فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے، جب فیصلہ قبول نہیں تو توہین عدالت کس بات کی بنتی ہی انور منصور نے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت نہیں گئے بلکہ فیصلے کے ایک پیراگراف کے خلاف رجوع کیا ہے۔ عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی۔