غلط مالی فائدہ وقت گزرنے سے قانونی حق نہیں بن جاتا‘لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے ایل ایل بی کی بنیاد پر اضافی انکریمنٹ کا دعوی مستردکر دیا

جمعرات 1 اکتوبر 2026 12:04

غلط مالی فائدہ وقت گزرنے سے قانونی حق نہیں بن جاتا‘لاہور ہائیکورٹ
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اکتوبر2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے ایم اے کے بعد ایل ایل بی کی بنیاد پر دوبارہ ایڈوانس انکریمنٹ لینے کے معاملے پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایک تعلیمی ڈگری پر انکریمنٹ حاصل کرنے کے بعد دوسری ڈگری کی بنیاد پر دوبارہ ایڈوانس انکریمنٹ کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے سابق وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ملازم محمد یاسین کی آئینی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے ایل ایل بی کی بنیاد پر دئیے گئے انکریمنٹ کی مد میں ملنے والی رقم ریٹائرڈ ملازم کی پنشن سے منہا کرنے کے اقدام کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

(جاری ہے)

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ غلطی سے ملنے والی مالی مراعات سے کسی شخص کے لیے مستقل قانونی حق پیدا نہیں ہوتا جبکہ غیر قانونی رعایت کو ملازم کی حسنِ نیت بھی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی، غیر قانونی اقدام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فائدے کو آئینی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ عدلیہ یا انصاف کی فراہمی کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے وہاں کام کرنے والے ملازمین عدالتی نظام سے متعلق ملازمین کے لیے مخصوص ایل ایل بی انکریمنٹ کے حقدار نہیں ہو سکتے۔فیصلے کے مطابق انتظامیہ کو دہائیوں بعد بھی اپنی سابقہ غلطی درست کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ جنرل کلازز ایکٹ کے تحت غلط حکم واپس لینا انتظامیہ کا قانونی حق ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مالی فائدہ اگر غلطی سے دیا گیا ہو تو اسے برقرار رکھنے کا کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ حکومت کی تعلیمی اور مالی پالیسیوں میں عدالتی مداخلت کی گنجائش محدود ہے اور ایل ایل بی کی بنیاد پر دیے گئے ایڈوانس انکریمنٹس کی کٹوتی کا اقدام قانونی ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کی پابندی کا بھی اعادہ کرتے ہوئے محمد یاسین کی آئینی درخواست عدم ثبوت کی بنیاد پر خارج کر دی۔