حیدرآباد میں سگ گزیدگی کے واقعات میں اضافہ، 3 ماہ میں 1091 کیسز رپورٹ

رواں سال بچوں سمیت 14 افراد جاں بحق، آوارہ کتوں کی روک تھام کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت، ہر دو ہفتے بعد جائزہ اجلاس ہوگا

اتوار 4 اکتوبر 2026 20:51

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اکتوبر2026ء) حیدرآباد ضلع میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات، انسدادِ ریبیز اقدامات اور آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی زیر صدارت ڈی سی کمپلیکس میں بین المحکماتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مہوش برڑو سمیت محکمہ صحت، بلدیات، لائیو اسٹاک و اینیمل ہسبنڈری، پولیس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع حیدرآباد میں سگ گزیدگی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 1091 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ رواں سال بچوں سمیت 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین کی ٹیم نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کتوں کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

سول ہسپتال حیدرآباد سمیت ضلع کے 9 صحت مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین اور آر آئی جی ویکسینیشن کی سہولت 24 گھنٹے دستیاب ہے۔ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کو سنگین عوامی صحت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تدارک کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کتے کے کاٹنے کے ہر کیس میں طبی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد، زخم کی فوری صفائی اور اینٹی ریبیز ویکسین کا بروقت اور مکمل کورس یقینی بنایا جائے، علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ مرض مہلک ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے بروقت طبی امداد اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے مثر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین نے بتایا کہ جولائی سے ستمبر کے دوران کتوں کی افزائش کے موسم کے باعث سگ گزیدگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو صابن اور پانی سے کم از کم 15 منٹ تک اچھی طرح دھونا اور متاثرہ شخص کو فوری طور پر اینٹی ریبیز مرکز پہنچانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے حالیہ عرصے میں 400 سے زائد آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے گئے ہیں۔اجلاس میں محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، بلدیاتی اداروں، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، محکمہ تعلیم، پولیس اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط حکمت عملی کے ذریعے سگ گزیدگی اور آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے پر زور دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر نے ضلع کے تمام 9 اینٹی ریبیز مراکز کی باقاعدگی سے نگرانی اور علاج کے مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہر دو ہفتے بعد جائزہ اجلاس منعقد کرنے اور آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران کو اپنی کارکردگی اور پیش رفت کی رپورٹ کے ساتھ شرکت کرنے کی ہدایت بھی کی۔