بھارت ظلم و جبر اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کمزور نہیں کر سکتا، حریت رہنما

منگل 6 اکتوبر 2026 13:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بھارت بدترین ریاستی ظلم و تشدد، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور فوجی محاصرے کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتا، کشمیری عوام اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

یہاں جاری بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید یوسف نسیم، شمیم شال، انجینئر مشتاق محمود، مشتاق احمد بٹ، سید گلشن احمد اور محمد شفیع ڈار نےکہا کہ بھارت اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں اپنے فوجی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے آئے روز قابض فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت اسرائیلی طرز پر جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

قابض فوجیوں کو مختلف علاقوں میں زمینیں الاٹ کرنا اور غیر کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر ڈومیسائل جاری کرنا اسی نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔حریت رہنماؤں نے کہا کہ لاکھوں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی، مسلسل کرفیو نما پابندیوں، گرفتاریوں اور ریاستی جبر کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی سے کم کسی حل کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ اس مقصد کے لیے کشمیری قوم نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔حریت رہنماؤں نے کہا کہ طاقت کے نشے میں دھت بھارتی قابض فورسز کشمیری خواتین، بچوں، بزرگوں اور بالخصوص نوجوانوں کو مسلسل ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی تمام تر ریاستی طاقت استعمال کرنے کے باوجود کشمیری عوام کی آواز کو دبا نہیں سکا۔حریت رہنماؤں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور دیرپا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور کشمیری عوام بھارتی جبر و استبداد سے نجات حاصل کر سکیں۔