امریکا مسیحی پادری کے بدلے گولن کو حوالے کرے، طیب اردگان

ہمارے اتحادی ہی ہماری پیٹھ پیچھے چھڑا گھونپ رہے ہیں، ہمیں اپنے اسٹریٹجیک پارٹنرز سے خطرات لاحق ہیں، ہنگامی حالات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں صحتمندانہ طریقے سے انتخابی مہم جاری رکھ سکتی ہیں، امریکہ کی جانب سے تنقید ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے،ترک صدر کا انٹرویو

اتوار اپریل 23:20

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ اگر امریکا ترکی میں قید مسیحی پادری کی رہائی چاہتا ہے تو اسے امریکا میں مقیم جلا وطن ترک مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن کو انقرہ کے حوالے کرنا ہو گا،ہمارے اتحادی ہی ہماری پیٹھ پیچھے چھڑا گھونپ رہے ہیں، ہمیں اپنے اسٹریٹجیک پارٹنرز سے خطرات لاحق ہیں، ہنگامی حالات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں صحتمندانہ طریقے سے انتخابی مہم جاری رکھ سکتی ہیں، امریکہ کی جانب سے تنقید ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔

ایک ملکی نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویو میں ترک صدر نے کہا کہ ہمارے اتحادی ہی ہماری پیٹھ پیچھے چھڑا گھونپ رہے ہیں، ہمیں اپنے اسٹریٹجیک پارٹنرز سے خطرات لاحق ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے قبل از وقت انتخابات کے بارے میں کہا کہ اس وقت مغربی ممالک سے اور خاص طور پر پنے اسٹرٹجیک پارٹنر ز سے خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں موجود اڈے کس کے خلاف ہیں امریکہ دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان فراہم کررہا ہے۔

شام کے مشرق میں امریکہ نے پانچ ہزار ٹریلر اسلحے سے لدے ہوئے روانہ کیے ہیں۔ ہم امریکہ کو رقم فراہم کرتے ہوئے اس قسم کے اسلحے کو خریدنے سے قاصر ہیں لیکن یہ دہشت گرد تنظیمیں بلا معاوضہ یہ جدید اسلحہ اور سازو سامان حاصل کررہی ہیں۔اس کا مطلب ہے ہمیں کہاں سے خطرہ لاحق ہی ہمیں یہ تمام خطرات اپنے ہی اسٹریٹجیک پارٹنرز سے لاحق ہیں۔ ہمیں شام سے بھی مختلف مقامات سے خطرات لاحق ہیں ۔

انہوں نے ملک میں جاری ہنگامی حالات کے دوران انتخابات کروانے سے متعلق کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں صحتمندانہ طریقے سے انتخابی مہم جاری رکھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اس قسم کی تنقید ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ کیونکہ جس قسم کی دھاندلیاں امریکہ میں ہوتی ہیں اس قسم کی کوئی دھاندلی یہاں پر نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دائرہ کار میں وہ یورپ کے ایک ملک جس کا نام ابھی وہ نہیں بتائیں گے میں ترک باشندوں سے خطاب کریں گے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کے بارے میں کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک 16 ہزار 650 دہشت گردوں کا قلع قمع کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments