جدید ترین ایئرپورٹ اسلام آباد میں ٹیلیفون لائنزموجود ہی نہیں

فلائٹ انکوائری، اے ایس ایف، کسٹمرزسمیت دیگراداروں کے دفاترزمیں بھی ٹیلیفون کی سہولت میسرنہیں،جبکہ نیوایئرپورٹ تعمیرپر81 بلین لاگت آئی ہے۔میڈیا رپورٹس

اتوار مئی 18:55

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): جدید ترین ایئرپورٹ اسلام آباد میں ٹیلیفون لائنزسرے سے موجود ہی نہیں ہیں، فلائٹ انکوائری، اے ایس ایف، کسٹمرزسمیت دیگراداروں کے دفاترز میں بھی ٹیلیفون کی سہولت میسرنہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے جدید ترین ایئرپورٹ اسلام آباد میں ٹیلیفون لائنزسرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

جس کے باعث مسافروں اور عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فلائٹ سے متعلق معلومات کیلئے مسافروں کو ایئرپورٹ ہی جانا پڑرہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے کسی بھی آفس میں ٹیلیفون نہیں ہے۔ حتیٰ کہ انفارمیشن ڈیسک پربھی ٹیلیفون لائن موجود نہیں۔ ذرائع نجی ٹی وی نے مزید بتایا کہ اے ایس ایف بیس کیمپ جو کہ 12میل دوربنایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ایئرپورٹ انتظامیہ کا اے ایس ایف بیس کیمپ سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے۔

واضح رہے نیوایئرپورٹ اسلام آباد کے پی سی ون کی تعمیر اور تزئین وآرائش پر81 بلین لاگت آئی ہے۔ ایئرپورٹ کو جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ایئرپورٹ پر جانے کیلئے وفاقی دارلحکومت کے مختلف شاہراؤں سے لنک کیا گیا ہے۔ جبکہ جدید ایئرپورٹ کو میٹروبس کے روٹ سے بھی لنک کیا گیا ہے۔ تاکہ جڑواں شہروں کے ایسے لوگ جو بیرون یا اندرون ملک سفر کرنا چاہتے ہوں ان کو ایئرپورٹ جانے میں کوئی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

بلکہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ یعنی میٹروبس کے ذریعے ہی سفر کرکے آرام سے وقت پر ایئرپورٹ پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت کے جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر تمام بین الاقوامی سہولیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ 81بلین کی خطیر رقم خرچ کرنے اور حکومتی دعوے کے باوجود جدید ایئرپورٹ پر تاحال کئی نقائص موجود ہیں۔ جن میں ایک اہم مسئلہ ٹیلی فون لائنز کا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ جدید ترین ایئرپورٹ اسلام آباد میں ٹیلیفون لائنزسرے سے موجود ہی نہیں ہیں، فلائٹ انکوائری، اے ایس ایف، کسٹمرزسمیت دیگراداروں کے دفاترز میں بھی ٹیلیفون کی سہولت میسرنہیں ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments