لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی میں ترمیم کالعدم قرار دے دیں ،الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم

غیر ملکی آمدن ،زیر کفالت افراد کی تفصیلات ،قرضہ نادہندگی ،دوہری شہریت ،یوٹیلٹی ڈیفالٹ ،پاسپورٹس ،مجرمانہ سرگرمیاں ،مقدمات کا ریکارڈ ،ٹیکس ڈیفالٹ چھپانے کے اقدام کالعدم قرار ،نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں‘حکم

جمعہ جون 20:04

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء) لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی میں ترمیم کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیدیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر فیصلہ سنایا ۔ سعد رسول نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 60، 110اور 137کو چیلنج کیا تھا۔

(جاری ہے)

عدالت نے کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی آمدن ،زیر کفالت افراد کی تفصیلات ،قرضہ نادہندگی ،دوہری شہریت ،یوٹیلٹی ڈیفالٹ ،پاسپورٹس ،مجرمانہ سرگرمیاں ،مقدمات کا ریکارڈ ،ٹیکس ڈیفالٹ چھپانے کے اقدام کالعدم قرار دے دیئے ۔فاضل عدالت نے کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیدیا اور حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔

Your Thoughts and Comments