پی ٹی آئی میں شامل موسمی پرندوں نے”پر“پھیلانے شروع کردیئے

پی ٹی آئی میں انتخابی ٹکٹس کا وعدہ کرکے من پسندافراد کونوازنے پرہنگامہ آرائی، کارکنان کاانصاف ہاؤس پرحملہ،شیشے توڑ دیے، نامنظور نامنظور پارٹی بورڈ نامنظور،ہرشخص چاہتا ہےکہ اس کوٹکٹ ملے ہرشخص کوٹکٹ نہیں دے سکتے،پی ٹی آئی رہنماء عمران اسماعیل

ہفتہ جون 18:11

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ جون ء): تحریک انصاف میں دھڑا دھڑ شامل ہونے والے موسمی پرندوں کے اپنا آپ دکھانا شروع کردیا، پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کو انتخابی ٹکٹس دینے کا وعدہ کیا جاتا رہا ، جس کے باعث اب ٹکٹوں کے معاملے پرمن پسند افراد کو نوازنے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا، پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان نے ٹکٹس کی غیرمنصفانہ تقسیم کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے انصاف ہاؤس پرحملہ کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان نے من پسندافراد کو ٹکٹس دینے کیخلاف پارٹی قیادت اور پارٹی بورڈ کے خلاف احتجاج کیا۔ کارکنان نے شارع فیصل پرانصاف ہاؤس پرحملہ کردیا۔ جس سے انصاف ہاؤس کے شیشے ٹوٹ گئے۔کارکنوں نے انصاف ہاؤس کی دیواروں پر وال چاکنگ بھی کردی۔

(جاری ہے)

جس میں نامنظور نامنظور پارٹی بورڈ نامنظور کے نعرے لکھے گئے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماء عمران اسماعیل نے میڈیا کو بتایا کہ کارکنان شاید ٹکٹس کی تقسیم کرناراض تھے۔

ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کوٹکٹ ملے لیکن ہر شخص کوٹکٹ نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہاکہ جب انصاف ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کی گئی اس وقت عارف علوی ، فردوس شمیم ، علی زیدی،خرم شیرزمان اور میں دفتر میں موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جب ہنگامہ آرائی شروع ہوئی توکارکنان نے پی ٹی آئی رہنماء عارف علوی اور فردوس شمیم کو گھیر لیا، اور خوب نعرے بازی کی۔ رمیشن کمارنے میڈیا کو بتایا کہ ہنگامہ آرائی شروع ہونے سے پہلے میں روانہ ہوچکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کارکنان کو صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے سندھ اور کراچی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کا مقابلہ کرنے کیلئے دھڑا دھڑ لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا۔ ایسے لوگوں کو بھی پارٹی میں شامل کرلیا گیا جو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتے تھے تاہم ان کوبھی پارٹی ٹکٹ دینے کا وعدہ کرلیا گیا۔

جبکہ اب تحریک انصاف میں بڑی تعداد میں دوسری جماعتوں سے وفاداریاں تبدیل کرنے والے اور ہرالیکشن سے پہلے ہوا کا رخ دیکھ کر اڑان بھرنے والے موسمی پرندے شامل ہوگئے ہیں۔ لیکن اب تحریک انصاف کو پارٹی ٹکٹس تقسیم کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف تاحال خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کا فیصلہ نہیں کرپائی۔

Your Thoughts and Comments