سعودی عرب: غیر ملکی ملازمین کے ہمراہ رہائش پذیر اہلِ خانہ پر لگایا گیا ٹیکس وبال بن گیا

ایک لاکھ سے زائد افراد مُلک چھوڑ کر جا چکے ہیں

پیر جون 14:42

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)سعودی عرب گزشتہ کئی عشروں سے غیر ملکیوں کے لیے روزگار کے حوالے سے جنت بنا ہوا تھا۔ دُنیا بھر سے مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے لاکھوں ہُنر مند افراد یہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جن کی شبانہ روز محنت کے باعث سعودی عرب میں انڈسٹریل سیکٹر کو بہت ترقی مِلی۔

اس ملک میں صنعتوں کے قیام کے وقت مقامی آبادی میں ہُنر مند افراد کی کمی تھی۔ اسی باعث دیگر ممالک سے ہُنر مند افراد منگوا کر یہ کمی پُوری کی گئی۔ مگر بعد میں سعودی شہریوں نے تعلیم کے حصول کی طرف خاص توجہ دی اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ اس وقت مُلک میں لاکھوں افراد بے روزگار ہیں کیونکہ ملازمتوں پر غیر مُلکیوں کا قبضہ ہے۔

(جاری ہے)

پچھلے چند سالوں سے سعودی فرمانرواؤں نے مقامی لوگوں میں روزگار کے حوالے سے مایوسی کو بھانپتے ہوئے خصوصی اصلاحی اقدامات اُٹھائے ہیں جن کے تحت آہستہ آہستہ ملازمتیں غیر ملکیوں سے لے کر مقامی افراد کو منتقل کی جائیں گی۔ اس پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گزشتہ سال سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی ملازمین کے ساتھ رہائش پذیر فیملی ممبران پر فی ممبر 100سعودی ریال کا رہائشی ٹیکس نافذ کیا گیا۔

جس کے باعث سال 2017ء کی دوسری سہ ماہی میں باسٹھ ہزار سے زائد افراد مُلک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس بات کا انکشاف جنرل اتھارٹی آف سٹیٹسٹکس کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ جس کے مطابق پچھلے سال ملازمین کے فیملی ممبران پر رہائشی ٹیکس کی مد میں 100سعودی ریال کی فیس رکھی گئی تھی۔ جبکہ سال 2018ء میں یہ فیس بڑھ کر دو سو ریال ہو چکی ہے۔ 2019ء میں فیس تین سو ریال جبکہ 2020ء میں بڑھ کر چار سو ریال تک پہنچ جائے گی۔

سعودی حکومت نے سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح 2020ء تک نو فیصد تک جبکہ 2030ء میں یہ شرح 7 فیصد تک لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ مملکت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ 2020ء تک تقریباً 12 لاکھ ملازمتیں جو پہلے غیر مُلکیوں کے قبضے میں ہیں‘ وہ سعودی باشندوں کو دے دی جائیں گی۔ جنوری 2018ء میں نجی کمپنیوں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی ملازمین کے اہل خانہ پر فی کس فرد کی رہائشی فیس کی مد میں 300سے 400 سعودی ریال تک وصول کریں گی۔

وزارت خزانہ کے مطابق وہ نجی کمپنیاں جن میں سعودی باشندوں کی بجائے غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ ہے وہ 2019ء میں رہائشی ٹیکس کی مد میں 600سعودی ریال جبکہ 2020ء میں 800 سعودی ریال تک کی رقم وصول کریں گی۔ تاہم وہ کمپنیاں جہاں پر غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی ملازمین کے مقابلے میں کم ہے‘ اُن پر 2018ء میں 300 سعودی ریال کی فیس عائد کی گئی ہے جبکہ یہ فیس 2020ء تک بتدریج700سعودی ریال تک جا پہنچی گی۔

Your Thoughts and Comments