متحدہ عرب امارات :خاتون سے صحرا میں اجتماعی زیادتی کرنے والوں کو لمبی سزا

سزا پانے والے ملزمان میں پاکستانی نوجوان بھی شامل

پیر جون 13:35

دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) چاقو کی نوک پر خاتون کو اغوا کرنے اور پھر صحرا لے جا کر اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کرنے والے دو ملزمان کو عدالت نے پندرہ پندرہ سال جبکہ ایک ملزم کو دس سال قید کی سزا سُنائی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنوری 2018ء کی ایک دوپہر کو 41 سالہ کینیائی سیکرٹری اور اس کا ایک ہم وطن ملازم ساتھی باب الخلیل کے قریب سڑک پر جا رہے تھے کہ پانچ افراد پر مشتمل ایک گروہ نے اُنہیں روک لیا۔

ملزمان کے خطرناک ارادے دیکھ کر جب خاتون نے موقع سے بھاگنے کی کوشش کی تو ملزمان نے خاتون کو جان سے مارنے کی دھمکی دے روکا اور پھر زبردستی ایک موٹر سائیکل پر سوار کرا کے صحرا کی جانب رُخ کر لیا۔ اس سے پہلے انہوں نے کینیائی مرد کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اُن کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تو وہ اُسے جان سے مار دیں گے۔

(جاری ہے)

پانچوں ملزمان نے خاتون کو صحرا کے دُور دراز علاقے میں لے جا کر اُسے برہنہ کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

دُبئی کی عدالت نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر ایک اماراتی اور دُوسرے نامعلوم قومیت والے شخص کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سُنائی۔ جبکہ ایک پاکستانی ملزم کو خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنے کے الزام میں دس سال قید کی سزا سُنائی ہے۔ پولیس کے مطابق کینیائی مرد کی جانب سے واقعے کی اطلاع دینے پر ایک پولیس ٹیم صحرا میں روانہ کر دی گئی۔

جہاں خاتون صحرا میں مِلی جبکہ ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستانی اور اُس کے دوسرے غیر مُلکی ساتھی ملزم کو سزا پُوری کرنے کے فوراً بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ جبکہ اس مقدمے میں نامزد دو کم سن ملزمان میں سے ایک کو چھ ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔ ملزمان کو واردات کے دوران نشے کی حالت میں ہونے اور کینیائی مرد کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے الزام میں بھی سزا دی گئی ہے۔

Your Thoughts and Comments