Haye Chuk Aa Gayi - Article No. 2110

ہائےچک آ گئی - تحریر نمبر 2110

جمعہ مارچ

Haye Chuk Aa Gayi - Article No. 2110
کمر کا درد آج کل بہت عام ہے،بے شمار لوگ اس تکلیف میں مبتلا ہیں۔کمر کا درد عموماً بیٹھ کر کام کرنے کی عادت اور کاموں کو نمٹانے کے غیرمناسب انداز کا نتیجہ ہے۔اس میں کسی حد تک ان نفسیاتی عوامل اور جذباتی دباؤ کا دخل بھی ہوتا ہے جس کے باعث انسانی جسم کے عضلات میں اچانک تشنج یا اینٹھن پیدا ہو جاتی ہے۔کمر چونکہ سارے جسم کا بوجھ اٹھاتی ہے،کبھی کبھی بھاری جسم والے لوگوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتی ہے یا زیادہ وزن اٹھانا جب اس کے بس میں نہیں رہتا تو کمر درد کرنے لگتی ہے۔

سو میں سے تقریباً چالیس افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی اس درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔یہ بیماری عام مگر قابل علاج ہے۔عمر کے ابتدائی حصے میں سولہ سے پچیس سال کی عمر تک جو درد ہوتا ہے وہ عموماً Mechanical ہوتا ہے جو لا علمی یعنی ٹھیک طرح سے نہ بیٹھنے،تکلیف دہ بستر اور وزن اٹھانے کے غلط طریقوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

ریڑھ کی ہڈی ایک دوسرے سے مربوط اڑتیس لچک دار مہروں پر مشتمل ہوتی ہے۔

یہ ہڈی جوڑوں سے منسلک ہوتی ہے جس کے ذریعے مختلف کام لیے جاتے ہیں۔ریڑھ کی ہڈی انسانی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے جس کے حصار میں عصبیے(Nerves) گھرے ہوتے ہیں جن کے ذریعے دماغ جسم کے باقی اعضاء کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔
کمر کے نچلے حصے کو پانچ مہرے سہارا دیتے ہیں۔اللہ نے ہر دو مہروں کے درمیان ایک شاک ابزرور (Shock Observer) رکھا ہوا ہے۔یہ ایک خاص قسم کی مضبوط جیلی ہے جو دونوں مہروں کے درمیان رگڑ کو روکتی ہے۔

عمر کے ساتھ ساتھ یہ جیلی نما ڈسک آہستہ آہستہ خشک ہونے لگتی ہے اور مہروں کے درمیان رگڑ سے وہاں کے بافتے (ٹشوز) اور پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں اورہڈیوں میں چھوٹی چھوٹی نوکیں بن جاتی ہیں۔اس قسم کے درد کو (Spondylitis) کہتے ہیں۔بعض اوقات نوجوانوں میں بھی ایک دم جھکنے یا وزن اٹھانے سے ڈسک پر دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے اور یہ اپنی جگہ سے ہل جاتی ہے۔اسی کو Disc کا سلپ (Slip) ہو جانا کہتے ہیں۔

کمر درد کی کئی وجوہ ہیں اور ان کے علاج کے لئے بھی مختلف قسم کے طریقے مروج ہیں جن میں قدیم روایتی اور جدید دونوں ہی شامل ہیں۔
فزیو تھراپی
کمر درد کے علاج کے لئے فزیو تھراپی کے مختلف طریقوں کو آزمایا جاتا ہے۔جن میں ورزش کا طریقہ سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔اس کے علاوہ جدید طرز کی مشینوں سے جن میں Laser Ultrasonic,Shortwave اور کمر کی بافتوں کو کھینچنے کے لئے Traction وغیرہ سے خدمات لی جاتی ہیں۔

ایسے مریض جنہیں پہلے سرجری کا مشورہ دیا جاتا تھا اب اگر دو سے چار ہفتے فزیو تھراپی کروا لیں تو انہیں خاطر خواہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
سرجری
کمر درد کا آپریشن نہایت احتیاط سے کیا جانے والا آپریشن ہے۔ذرا سی بھی بے احتیاطی ہو جائے تو کسی عصبیے کو نادانستہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔سرجری میں کمر کے پٹھوں کو علیحدہ کرکے ریڑھ کی ہڈی کی صفائی کی جاتی ہے پھر جس جگہ پر اور جتنی بھی وجوہ کا دباؤ ہو اس کو دور کیا جاتا ہے اور ہڈی،بافتوں اور ڈسک کی غیر معمولی موٹائی کو صاف کیا جاتا ہے مگر کمر درد کے ہر مریض کے لئے سرجری ضروری اور مفید نہیں۔


نیوروسٹیمولیٹر(Neurostimulator)
یہ ایک خاص قسم کا آلہ ہے جسے دائیں کولہے میں پانچ سینٹی میٹر گہرا اور چوڑا سوراخ کرکے نصب کیا جاتا ہے پھر کمر کے درمیان ایک چھوٹا سا چیرا لگا کر نہایت احتیاط سے آٹھ الیکٹروڈز پر مشتمل ایک تار ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ آلے سے منسلک کیا جاتا ہے اس سے درد میں فوری طور پر افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

کیونکہ یہ درد پر مشتمل اشارے دماغ تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
انفراریڈ بیلٹ(Infrared Belt)
انفراریڈ شعاعیں 1800ء میں دریافت ہوئیں لیکن دو صدیوں بعد ہی انہیں کمر درد کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکا۔یہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے گورڈون (Gordon) کا کارنامہ ہے اس نے (Lumber Wrop) نامی ایک ایسی مددگار حفاظتی پیٹی بنائی ہے جو انتہائی کم سطح کی انفراریڈ توانائی استعمال کرتے ہوئے خون کی گردش میں اضافہ کرتی ہے جس کے باعث درد میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

کمر درد میں مبتلا لوگ اپنے روز مرہ معمولات اور سونے کے دوران بھی یہ پٹہ استعمال کر سکتے ہیں مگر اس کے مسلسل استعمال سے جلد پر بھورا نشان نمودار ہو جاتا ہے۔
میجک اسپائن وینڈ(Magic Spine Wand)
اس طریقہ علاج میں سوئی کے ذریعے سے جلد میں سوراخ کرکے ڈسک پر دباؤ اور درد پیدا کرنے والے ریشوں کی ایک قلیل مقدار دور کر دی جاتی ہے اس پر بمشکل ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے اور مریض سوئی کے باعث پیدا ہونے والے زخم پر محض ایک پٹی لگانے کے بعد گھر واپس جا سکتا ہے۔


نئی ہڈی کی افزائش
اکثر ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کے باعث کمر درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔معالجین نے ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے تحت غیر صحت مند اور ناکارہ مہرے ایک غیر تکلیف دہ عمل جراحی سے گزرتے ہیں اور پھر مریض کو ایسی ادویہ استعمال کرائی جاتی ہیں جو ہڈیوں کی قدرتی افزائش میں معان ہوتی ہیں۔

یہ جدید اور انوکھا طریقہ مفید ہے مگر ابھی یہ بھی صرف تجرباتی بنیادوں پر استعمال ہو رہا ہے۔طریقہ علاج جو بھی ہو ہر بیماری کی طرح کمر درد میں بھی پرہیز علاج سے بہتر ہے والا مقولہ صادق آتا ہے۔ اس سلسلے میں غذائی ہدایات کے طور پر موسم سرما کی سبزیاں مثلاً کچنار،سوہانجنا،مولی،شلجم،میتھی،ادرک اور ہلدی کمر درد میں نفع بخش غذائی دوائیں ہیں اس کے علاوہ اگر درج ذیل حفاظتی اقدامات یا احتیاطیں اپنائی جائیں تو کمر درد میں افاقہ ممکن ہے۔


احتیاط
جو لوگ بیٹھ کر اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں مصروف رہتے ہیں،انہیں چاہیے کہ وہ ہر گھنٹے کے بعد اٹھ کھڑے ہوا کریں اور کام میں کچھ وقفہ آنے دیں۔نرم گدوں والی سیٹوں پر نہ بیٹھیں،اگر ایسا کرنا پڑے تو پوزیشن کو تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تبدیل کرتے رہیں۔جن لوگوں کو کمر درد کی پرابلم شروع ہو چکی ہو انہیں سونے کے لئے سخت سطح کا انتخاب کرنا چاہیے۔

تختے لگے ہوئے چارپائی یا فرش پر دری وغیرہ بچھا کر سونے کی عادت اپنا لینی چاہیے۔انہیں ا پنے پہلوؤں کے بل اس طرح سونا چاہیے کہ ٹانگیں گھٹنوں سے مڑی ہوئی ہوں اور جسم کے ساتھ 90 درجے کا زاویہ بنائیں۔زمین سے کوئی چیز اٹھانی ہو تو کمر کو نہ جھکائیں بلکہ گھٹنوں کو جھکا کر اس چیز کے قریب تر بیٹھیں،اسے ہاتھ میں پکڑ کر کمر کو سیدھی رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اٹھیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-19

Your Thoughts and Comments