بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتاچھی صحت کے لیے حیاتین ضروری

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اچھی صحت کے لیے حیاتین ضروری
جس طرح جسم پر آب وہوا اثرانداز ہوتی ہے، اسی طرح غذابھی جسم پر اپنے اثرات ضرور مرتب کرتی ہے۔ انسانی جسم کے لیے حیاتین بہت ضروری اور مفید ہیں۔
عمران سجاد:
جس طرح جسم پر آب وہوا اثرانداز ہوتی ہے، اسی طرح غذابھی جسم پر اپنے اثرات ضرور مرتب کرتی ہے۔ انسانی جسم کے لیے حیاتین بہت ضروری اور مفید ہیں۔ ان کی کمی سے جسم متعدد امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔ ذیل میں حیاتین کے بارے میں اہم اور مفید معلومات دی جارہی ہیں۔
حیاتین الف (وٹامن اے) یہ حیاتین روغنیات میں ہوتی ہے۔ اگر یہ حیاتین حاصل کرنی ہوتو اس کے لیے دودھ، تیل، مکھن، کلیجی اور انڈے کھانے چاہییں۔ یہ اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس حیاتین سے بھوک بڑھ جاتی ہے۔ آنکھوں کے لیے یہ بہت مفید ہے ۔ اگر جسم میں اس کی کمی ہوجائے تو بینائی متاثر ہوتی ہے۔ آنکھیں سوج جاتی ہیں۔ گردے اور مثانے کی بیماریوں کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جلد خشک ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں کے امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔ یہ حیاتین گاجر، بندگوبھی، ٹماٹر اور دوسری سبزیوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، اس لیے انھیں اپنی روز مرہ کی غذاؤں میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔
حیاتین ب (وٹامن بی) : حیاتین پھل، اناج اور مچھلی میں ہوتی ہے۔ یہ سب سے زیادہ گندم کی بھوسی میں ہوتی ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے اعصابی کمزوری پیداہوجاتی ہے۔ دل بڑھ جاتا ہے۔ ٹانگیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ آنتیں اور معدہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ جگر کی کارکردگی گھٹ جاتی ہے۔ یہ حیاتین بھی صحت کے لیے ضروری ہے۔ شکر قند، آلو، پالک، شلجم، بینگن، پھول گوبھی، مٹر، ٹماٹر، سلاد اور چقندر اس کے حصول کے ذرائع ہیں۔ خربوزے میں بھی یہ حیاتین پائی جاتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ سبزیاں اور پھل کھا کر حیاتین” ب“ حاصل کی جاسکتی ہے۔
حیاتین ج (وٹامن سی): یہ حیاین ترش پھل کھاکر حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کی زیادہ مقدارآملے اور لیموں میں ہوتی ہے۔ یہ حیاتین کھانسی سے بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ متعدی امراض اور بدہضمی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اگر جسم میں اس حیاتین کی کمی ہوجائے تو دانت کمزور ہوجاتے ہیں۔ جوڑوں میں درد رہنے لگتا ہے۔ مسوڑے سوج جاتے ہیں۔ قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے۔ جس میں کیلسئیم اور فولاد کی مقدار گھٹ جاتی ہے۔ یہ حیاتین سبزیوں میں بھی ہوتی ہے۔
حیاتین د(وٹامن ڈی) : جسم کی تعمیر میں یہ حیاتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے۔ جب جسم میں فولاد اور کیلسئیم کاتوازن بگڑجاتا ہے تو یہ اس کی علامت ہے کہ جسم میں حیاتین”د“ کی کمی ہوگئی ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے بچے سوکھے کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے۔ دھوپ سے بھی یہ حیاتین حاصل کی جاسکتی ہے۔ صبح وشام کی دھوپ میں پندرہ بیس منٹ ضرور بیٹھنا چاہیے۔ یہ حیاتین مچھلی کے تیل میں بھی ہوتی ہے۔
حیاتین ھ (وٹامن ای) : آلو، انڈے، مونگ پھلی اور دودھ سے یہ حیاتین حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر یہ حیاتین جسم کو ملتی رہے تو سرکے بال نہیں گرتے۔ یہ جسم کوتوانائی دیتی ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے جسم کمزور ہوجاتا ہے۔ اگر یہ حیاتین حاصل کرنی ہے تو سبزپتوں والی سبزیاں زیادہ کھانی چاہییں۔ یہ مکھن، تل آلو، بندگوبھی، گاجر، سلاد، شکرقند، دیلے اور شلجم میں زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔
حیاتین ح (وٹامن ایچ) یہ حیاتین گڑ، پیاز، مکئی، گوشت اور مچھلی میں پائی جاتی ہے۔ یہ جسم کی تعمیر میں بہت مدد گار ہوتی ہے۔اس حیاتین کی کمی سے جسم میں خارش پیدا ہوجاتی ہے۔
حیاتین کے (وٹامن K) : یہ حیاتین سبزرنگ کی سبزیوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گوشت میں بھی ہوتی ہے مناسب مقدار میں گوشت کھاکر یہ حیاتین حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ امرود میں زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے۔ خون کو رواں رکھتی ہے اور خون کی بیماریوں کو روکتی ہے۔
حیاتین گ (وٹامن جی) : حیاتین” گ“ بھی جسم کی تعمیر میں معاون ہوتی ہے۔ اگر جسم میں اس حیاتین کی مقدار کم ہوجائے تو وزن گھٹنے لگتا ہے۔ بھوک کم ہوجاتی ہے۔ چہرے پرسوجن آجاتی ہے۔ سرکے با گرنے لگتے ہیں۔ جلد خراب ہوجاتی ہے۔ یہ حیاتین سبزیوں اور پھلوں میں ہوتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے