بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتاخروٹ

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اخروٹ
قلب دوست میوہ
شیخ عبدالحمید عابد :
اخروٹ ایک صحت بخش میوہ ہے ۔ اس کی دو قسمیں ہیں ، نرم چھلکے والا، یعنی کاغذی اخروٹ اور سخت چھلکے والا اخروٹ ۔ اخروٹ میں تقریباََ 70فیصد تیل ہوتا ہے، جو صحت کے لیے مفید ہے ۔
ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہفتے میں چاریا پانچ اخروٹ کھانے والے افراد ذیابیطس قسم دوم سے محفوظ رہتے ہیں۔ دوران حمل اخروٹ کھانے سے حاملہ کا بلڈپریشرمعمول پررہتا ہے ۔ اس کے علاوہ پیدا ہونے والے بچے کی آنکھوں اوردماغ کے لیے مفید ہے، کیوں کہ اس میں حیاتین (وٹامنز )اور اومیگا ۔ 3فیٹی ایسڈہوتے ہیں۔ اخروٹ کھانے سے کولیسٹرول نہیں بڑھتا ۔ یہ پیٹ کی چربی کم کرنے میں بھی مددگار ہے ۔
سردیوں میں اخروٹ کو خشک میوے کے طور پر زیادہ کھایاجاتا ہے ۔ برفانی علاقے کے افراد موسم کی شدت کامقابلہ کرنے کے لیے اخروٹ بکثرت کھاتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں رہنے والے بھی اسے اکثرت سے کھاتے ہیں۔ اخروٹ اپنے غذائی حراروں (کیلوریز) کے سبب موسم سرمامیں جسم میں طاقت اور حرارت پیداکرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سردیوں میں غذا اور دوا کے طور پر زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
اخروٹ کھانے کی عادت آپ کو دل کے دورے سے بچاسکتی ہے ۔ معالجین نے دعوا کیا ہے کہ روزانہ دو اخروٹ کھانا امراض قلب سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ غذائی ماہرین کے مطابق اخروٹ میں ایسی لحمیات (پروٹینز) حیاتین اور چکنائی ہوتی ہے ، جس سے دل کے دورے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
ایک امریکی ادارے میں کی گئی تحقیق کے مطابق اگر روزانہ اخروٹ کھایا جائے تودل کی بیماریاں دور ہوجاتی ہیں۔ اگر کسی فرد کے دل کے عضلات کمزور ہونے لگیں تو اسے باقاعدگی سے روزانہ دو اخروٹ کھانے چاہییں ۔
اخروٹ میں حیاتین ب (وٹامن بی ) اور حیاتین ج( وٹامن سی ) کے علاوہ فولاد ، تانبا، فاسفورس ، کوبالٹ ، میگنیزیئم ، پوٹاشیئم اور سوڈیئم جیسے مفید صحت اجزاپائے جاتے ہیں ، جوبدن کی تعمیر ومرمت میں بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔
اخروٹ قدرت کی وہ نعمت ہے، جسے عام طور پر ایک مزے دارمیوے کے طور پر کھایاجاتا ہے، لیکن ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرطان سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے ۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنس دانوں نے تجربات سے ثابت کیاہے کہ روزانہ مٹھی بھراخروٹ کھانے سے جسم کو اومیگا ۔ 3فیٹی ایسڈ ، معدنیات اور حیاتین مل جاتی ہیں، جوسرطان سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اخروٹ میں پائے جانے والے مفید صحت اجزاسرطان زدہ خلیوں کی طرف خون کی فراہمی کو کم کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے سرطان باقی جسم میں نہیں پھیلتا ۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اخروٹ کھانے سے اومیگا۔ 3فیٹی ایسڈ کی مقدار میں تقریباََ دس گنا اضافہ ہوجاتا ہے، جو سرطان کی رسولیوں کو روکنے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوتا ہے ۔
تشنج اور لقوہ کے مریضوں کے لیے اخروٹ بہت مفید ہے ۔ اخروٹ کاچھلکا پیس کرنا ف پر مالش کرنے سے پیچش کازورٹوٹ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ سرپرمالش کرانے سے دماغ میں طاقت ، فرحت اور تازگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اخروٹ کاچھلکا جلا کرکھایاجائے تو بواسیر ختم ہوجاتی ہے ۔
اخروٹ کاتازہ چھلکا دانتوں پر ملنے سے مسوڑے اور دانت مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ اس کا چھلکا بہترین مسواک ہے ۔ اس سے منھ کاگندہ لعاب خارج ہوجاتا ہے ۔ دانت صاف اور مسوڑے مضبوط ہوجاتے ہیں۔ مضبوطی کے باعث اخروٹ کے درخت کی لکڑی فرنیچر بنانے میں بھی استعمال کی جاتی ہے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے