Dast Ka Ana Ya Ashaal Ka Sbbab

دست آنا یا اسہال کا سبب

Dast Ka Ana Ya Ashaal Ka Sbbab
دست آنا یا اسہال کا سبب:
نفسیاتی عوامل نظام ہضم کی اس بیماری کا اہم سبب ہیں امتحان کا خوف،زندگی کی پہلی تقریر یا کوئی بھیانک منظر وغیرہ عام مثالیں ہیں اکثر اوقات ناقص غذا اسہال کا سبب بنتی ہے جسم خصوصاً معدے میں زہر داخل ہونے سے دست آنے لگتے ہیں ہیضے میں بھی اسہال آنے لگتے ہیں لیکن اس میں قے دستوں کا اچانک شروع ہوجانا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی نقاہت اسے عام صورتوں سے محیز کرتے ہیں علاوہ ازیں ہیضہ گرمیوں میں ہوتا ہے اور وبا کی صورت میں پھیلتا ہے ہیضے کی صورت میں ڈاکٹر تک فوری رسائی یا گھر پر حفاظت اقدامات ضروری ہے چھوٹے بچوں کو اسہال زیادہ دودھ پلانے مصنوعی یا حیوانی دودھ پلانے یا غذا کے معاملے میں ماں کی بدپرہیزی سے لگتے ہیں گرمیوں میں اسہال کا مرض بچوں میں وبائی صورت میں پھیل سکتا ہے جوکہ بعض اوقات مہلک ثابت ہوتا ہے اگر بچے کو اچانک دست آنے لگیں وہ درد سے چیختا ہو اور اس کی حالت تیزی سے خراب ہورہی ہو تو فوراً ڈاکٹر سے ملیں دائمی اسہال کے مریض مسلسل کمزورہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ مرض ان کی جان بھی لے سکتا ہے کبھی کبھار اسہال کا سبب نظام ہضم کے کسی عضو کی کوئی خرابی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


علاج: نفسیاتی تناؤ سے بچنے کے لیے اے وومین لارجیکٹل Largectil سٹیلا زین وغیرہ استعمال کی جاسکتی ہے اگر اسہال کسی زہریلے مادے کی وجہ سے ہوں تو انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے زہر کی وجہ سے لگنے والے اسہال اچانک شروع ہوتے ہیں اور ان میں عموماً خون یا بلغمی مادہ شامل ہوتا ہے اور پیٹ میں سخت درد ہوتا ہے بعض اوقات جلابوں کے ساتھ قے بھی آتی ہے ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اسہال کو روکنے کے لیے پیکٹوسلPectocil یا کیوپیکٹیٹKaopectate کی دو دو گولیاں ہر چار گھنٹے بعد استعمال کریں اور و روز تک ایسا کرتے رہیں گرمیوں میں اچانک اسہال لگ جانے کی صورت میں سلفا گواناڈینSulphaguanidine کی گولیاں استعمال کریں آغاز بیک وقت چار گولیاں لے کر اس کے بعد ہر چھ گھنٹے کے بعد دو گولیاں کھائیں اسہال آنے سے ہمارے جسم کے نمکیات کافی مقدار میں ضیاع کی وجہ سے ہوتی ہے نمکین پانی پئیں اور پوٹاشیم کلورائڈ کی گولیاں ہر چھ گھنٹے کے بعد دو گولیاں کھائیں اگر اسہال کے ساتھ درد بھی ہو تو آپ پیریگورکParegoric چائے کے دو چمچے استعمال کرسکتے ہیں بچوں کو اسہال لگنے کا سبب معلوم کرنے کی کوشش کریں اور اسی کا انسداد کریں دودھ کی مقدار کم کردیں مصنوعی یا حیوانی دودھ بند کردیں مائیں اپنی غذا میں پرہیز برتیں اگر اسہال زیادہ آرہے ہوں تو وقتی طور پر دودھ پلانا بالکل بند کردیں اس کی بجائے گلوکوز پلائیں اگر دست بہت شدید ہوں یا گھریلو علاج بے اثر رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں غذا میں اصلاح ایک اہم تدابیر ہے اسہال کے دوران پھلوں اور سبزیوں سے مکمل پرہیز کریں سخت غذائیں نہ کھائیں اسہال لگنے کے چھ گھنٹے کے بعد تک کوئی چیز نہ کھائیں البتہ نمکیات کا استعمال جاری رکھیں اگلے چھ گھنٹوں کے دوران ہر گھنٹے پون گھنٹے کے بعد فروٹ جوس یا یخنی پئیں پھر نرم غذاؤں کااستعمال اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ آپ کا نظام ہضم سنبھل نہ جائے۔


پیٹ کے درد کے اسباب: پیٹ کے درد کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں پیٹ کے دائیں طرف نچلے یا اوپر والے حصے میں (پسلیوں کے بالکل نیچے)اچانک سخت درد اٹھنا خطرے کا سگنل ہے فوراً ڈاکٹر سے ملیں پیٹ میں کبھی کبھار ہلکا درد ہونا خصوصاً بائیں طرف نظام ہضم کی خرابیوں کی علامت ہے پیٹ میں اکثر و بیشتر ہونے والا درد نظام ہضم کے کسی عضو کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے اس کے لیے بھی ڈاکٹر سے رابطہ قائم کرنا ضروری ہے۔


علاج: پیٹ کے شدید درد کے لیے بسکوپینBuscopan بیریلجن Baralgin یا نوولیجن Novalgin کی گولیاں تیر بہدف علاج ہے درد کی شدت کے مطابق ایک یا دو گولیاں استعمال کریں اگر گھر میں انجکشن دینے کی سہولت موجود ہو تو انہی دواؤں کے انجکشن سے درد سے اور بھی تیزی سے چھٹکارا پایاجاسکتا ہے لیکن اس شدیددرد کو مت بھولیے اور پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے معائنہ کرائیے معمولی درد کے لیے اپنے ہاضمے اور غذا کاجائزہ لیجیے اگر گھریلو علاج بے اثر رہیں یا درد اکثر ہوتا ہو تو ڈاکٹر سے ملیے۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-10

Your Thoughts and Comments