Doran E Hamal Machli Khayen

دوران حمل مچھلی کھائیں

Doran E Hamal Machli Khayen
مچھلی کی افادیت سے کم وپیش ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے۔ یہ امراض قلب شوگر اور کینسر سمیت کئی بیماریوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ اس کا استعمال مختلف موسمی بیماریوں بخار، نزلہ، زکام اور کھانسی وغیرہ سے کافی حدتک محفوظ رکھتا ہے۔ مچھلی کاتیل وزن اور ڈپیریشن میں کمی کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول،آنکھ کے امراض اور جلدی امراض میں بہت مفید ہے۔

نیچرل سائنس پروگرام کی تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے۔ جاپان کی ٹوکیویونیورسٹی کے محققین نے ایک تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ دوران حمل بچے کے دماغ کی مناسب نشوونما کے لئے اومیگا 6کے ساتھ ساتھ اومیگا 3فیٹی ایسڈ کی بھی سخت ضرورت ہوتی ہے اور ان دونوں کا توازن قائم نہ رہنے کی صورت میں بچے کی ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اومیگا تھری سے ذہنی یکسوئی ، پڑھائی اور الفاظ کے ذخیرے زیادہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

(جاری ہے)

محققین کے مطابق ہم عموماََ اپنی غذا میں نباتاتی تیل اور چکنائی کے دیگر ایسے ذرائع استعمال کرتے ہیں جن سے اومیگا 6کافی مقدار میں حاصل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہماری غذا میں اومیگا تھری کی بہت کمی پائی جاتی ہے جس کے باعث حمل کے دوران بچے کے دماغ کی نشوونما مناسب طور پر نہیں ہوسکتی لہٰذا بالغ ہونے تک اُن میں نہ صرف ابنارمل، جذباتی رویے پائے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے بلکہ ذہانت میں بھی کمی دیکھنے میںآ تی ہے۔

لاس اینجلس ٹائم کے مطابق امریکی خواتین دوران حمل مچھلی کاا ستعمال بہت کم کرتی ہیں جبکہ پبلک ہیلتھ مہم اس بات پر زور دیتی ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے لئے فش کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیاجائے۔ غذائی ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو شارک سوڈاور مارلن نسل کی مچھلیوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مچھلی کے فوائد کے پیش نظر 2014ء کے بعد امریکی حکومت نے مچھلی کی زیادہ سے زیادہ کھپت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ تحقیق کے مطابق جن ممالک میں مچھلی کا استعمال زیادہ کیاجاتا ہے وہاں ڈپریشن کی شرح کم پائی گئی ہے نیز مچھلیوں کی مختلف اقسام کی بدل بدل کر استعمال کرنا چاہئے تاکہ اُن سے حاصل کردہ اجزاسے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2016-04-22

Your Thoughts and Comments