بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتجاڑوں میں گِری دار میوے کھایئے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جاڑوں میں گِری دار میوے کھایئے
روزانہ تھوڑا سامیوہ کھانے سے صحت پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ میوے سردیوں میں کھائے جاتے ہیں

صائمہ ایس ۔حسین
بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ روزانہ تھوڑا سامیوہ کھانے سے صحت پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ میوے سردیوں میں کھائے جاتے ہیں۔ اخروٹ ایسا میوہ ہے، جو ہر موسم میں کھایا جاتا ہے۔ یہ اپنے سخت خول ہی میں پک جاتا ہے۔ چوٹ مارنے پر یہ خول ٹوٹتا ہے اور اس میں سے گِری نکال لی جاتی ہے۔ پستہ بھی مزے دار ہوتا ہے۔ اس طرح سے کاجو اور بادام بھی کھانے میں مزے دار اور صحت بخش ہوتے ہیں۔ سردیوں میں چلغوزہ بھی کھایا جاتا ہے۔ میوے ٹھوس غذا ہیں، اس لیے کہ ان میں حرارے (کیلوریز)زیادہ ہوتے ہیں۔ چناں چہ انھیں زیادہ کھانے سے آپ فربہ ہوسکتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر میوے کو نمک لگا کر نہ کھایا جائے تو وزن نہیں بڑھتا۔ میووں کی چکنائی آنتوں میں نہیں جمتی، البتہ میووں میں شامل دوسرے اجزا آنتوں میں جذب ہوجاتے ہیں، لیکن نقصان نہیں پہنچاتے۔ اگر کسی فرد کو میووں سے الرجی ہوتو اسے اپنے معالج سے مشورہ کرلینا چاہیے۔
مونگ پھلی:مونگ پھلی میں حیاتین ھ (وٹامن ای)ہوتی ہے اور اس میں پائی جانے والی چکنائی غیر سیر شدہ ہوتی ہے، جوصحت کے لیے مفید ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نیاسن، فولیٹ ، لحمیات اور مینگینز بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں مانع تکسید اجزا بھی ہوتے ہیں۔
بادام: بادام کا چھلکا براؤن ہوتا ہے، جس میں ٹینن نامی مادّہ پایا جاتا ہے ، جو اس کے غذائیت بخش اجزا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پانچ بادام رات کو بھگو دیجیے اور صبح ہونے پر ان کا چھلکا اتار کر کھایئے۔ اس صورت میں ان میں موجود ایک خامرہ ”لی پیز“ آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ بادام کھانے سے چکنائی ہضم ہوجاتی ہے او ر اچھا کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر میں نظم وضبط پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے عضلات اور ہڈیاں بھی مضبوط ہوجاتی ہیں۔ بادام کا دودھ اور مکھن حیوانات کی مصنوعات کا متبادل سمجھے جاتے ہیں۔ بادام میں ریشہ بہت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کیلسیئم ، پوٹا شیئم، فولاد اور مینگنیز بھی ہوتا ہے۔ یہ چیزیں دودھ، دہی کی مصنوعات کا متبادل ہیں۔
اخروٹ: اخروٹ کی گِری کی شکل دماغ جیسی ہوتی ہے، جو قدرت کی طرف سے اشارہ ہے کہ یہ دماغ کے لیے مفید ہے۔ اخروٹ کھاتے وقت اس کا باریک چھلکا اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اخروٹ مانع تکسید میوہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں میگنیزیئم ، حیاتین ھ اور مفیدِ قلب چکنائی ہوتی ہے۔
کاجو: اگر کاجو ساری رات کے لیے بھگودیے جائیں تو صبح انھیں پیسنے پر دودھ بن جاتا ہے۔ اس دودھ میں اگر چینی نہ ملائی جائے تو اس کی ایک پیالی میں 25 حرارے، دوگرام چکنائی اور سیر شدہ چکنائی بالکل نہیں ہوتی۔ کاجو کو کسی بھی حالت میں کھائیں،یہ جلد کی حفاظت کرتا ہے اور دھوپ کے مضر اثرات سے بچاتا ہے ۔ اس میں حل ہونے والا ریشہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں میگنیز، پوٹا شیئم، تانبا، فولاد، میگنیزیئم، جست اور سیلینئیم ہوتا ہے۔ یہ بھی مانع تکسید میوہ ہے اور بصارت کے لیے مفید ہے۔
کشمش: خشک انگور کو کشمش کہتے ہیں۔ اسے میٹھی ڈشوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ کشمش قبض ختم کرتی ہے ۔ اس میں میگنیزیئم اور پوٹاشیئم جیسے صحت بخش اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، جن کی وجہ سے معدے کی تیزابیت ختم ہوجاتی ہے۔ کشمش نزلے اور کھانسی کو دور کرتی ہے۔ جو افراد اپنے وزن میں اضافہ کرنا چاہتے ہوں، انھیں چاہیے کہ وہ روزانہ کشمش کھائیں۔ یہ خراب کولیسٹرول کو کم کردیتی ہے۔ اس میں حیاتین الف اورھ(وٹامنز اے اور ای) بھی پائی جاتی ہیں، جو جلد کے لیے نئے خلیات بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
شہد: ”ہیلی کو بیکٹر پائلوری“ نامی بیکٹیریا سے معدے کا زخم اور پیٹ کا سرطان ہوجاتا ہے ۔ اس بیکٹیریا سے امراض ِ قلب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بچوں کی بڑھو تری کو متاثر کرتا ہے۔ اس بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے معالجین مریضوں کو ضد حیوی ادویہ زیادہ مقدار میں کھلاتے ہیں، جن سے یہ بیکٹیریا ہلاک ہوجاتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہی کام شہد سے لیا جاسکتا ہے، یعنی روزانہ شہد کھانے سے یہ خطرناک بیکٹیریا مرجاتا ہے۔ اس طرح مریض ضد حیوی ادویہ کے مضر اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ شہد جلد کو نم رکھتا اور اسے جھرّیوں وداغ دھبوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ چار چمچے شہد پانی میں گھول کر پی لیا جائے تو خون میں مانع تکسید اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے شریانوں کی تنگی ختم ہوجاتی ہے۔ شہد کھانے سے جلد ی امراض دور ہوجاتے ہیں۔ ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں اور شہد ملا کر پینے سے گلے کی خراش اور کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ رات کو سونے سے قبل ایک کپ نیم گرم دودھ میں شہد ملاکر پینے سے نیند اچھی آتی ہے۔ شہد میں جراثیم کش اور مانع سوزش وورم خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ آنتوں ، معدے اور ہر قسم کے امراض دور کرنے میں بھی فائدہ مند ہے۔
پستہ: پستہ صحت بخش ہوتا ہے ۔ اس میں لمحیات بہت زیادہ اور چکنائی بے حد کم ہوتی ہے۔ دوسرے گِری دار میووں کی نسبت اس میں سب سے کم حرارے ہوتے ہیں۔ سادہ اور غیر نمکین پستے میں پوٹاشیئم اور فاسفورس ہوتا ہے، جب کہ سوڈئیم کم ہوتا ہے۔ چناں چہ جن افراد کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہوتی ہے، انھیں پستہ کھانے سے نقصان نہیں ہوتا ۔
چلغوزہ: چلغوزہ مہنگا میوہ ہے ۔ ذائقے میں چلغوزے میٹھے ہوتے ہیں۔ دوسرے خشک میووں کی طرح یہ دل کو تقویت دیتے ہیں اور بھوک کو کم کرتے ہیں۔ یہ توانائی میں اضافہ کرتے ہیں، کیوں کہ ان میں معدنیات (مزلز)اور حیاتین خوب ہوتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے