بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتمچھلی کا گوشت اور تیل

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مچھلی کا گوشت اور تیل
قدرت نے مچھلی کے گوشت میں ذائقے کے ساتھ بہت سی بیماریوں کے لیے شفابھی رکھی ہے ۔ طبّی ماہرین کے مطابق اگر مچھلی کا گوشت روزمرہ کی غذاؤں میں شامل کرلیا جائے تو یہ نہ صرف جوڑوں کی تکلیف اورورم کودورکرتا ہے ، بلکہ شریانوں اور قلب کے امراض ختم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔
سعدیہ قمر :
قدرت نے مچھلی کے گوشت میں ذائقے کے ساتھ بہت سی بیماریوں کے لیے شفابھی رکھی ہے ۔ طبّی ماہرین کے مطابق اگر مچھلی کا گوشت روزمرہ کی غذاؤں میں شامل کرلیا جائے تو یہ نہ صرف جوڑوں کی تکلیف اورورم کودورکرتا ہے ، بلکہ شریانوں اور قلب کے امراض ختم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔
سمندری غذاؤں میں مچھلی کے گوشت کو منفرد مقام حاصل ہے ۔ غذائیت سے بھرپور ، ذائقے دار اور جلد ہضم ہونے والی اس غذا کوصدیوں سے بڑے شوق سے کھایاجارہا ہے۔ مچھلی کا گوشت دنیا کے تقریباََ ہر ملک میں کھایاجاتا ہے ۔ اعدادوشمارسے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں اسے زیادہ کھایا جاتا ہے، لیکن اب مچھلی کی غذائی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسے زیادہ کھایا جارہا ہے ۔
مچھلی کاگوشت :
مچھلی کے گوشت میں 15سے 20فیصد لحمیات (پروٹینز) پائی جاتی ہیں۔ اس میں امینوایسڈکی بھی وافر مقدار ہوتی ہے، جو خلیوں کے بننے اور بافتوں (ٹشوز) کی مرمت کے علاوہ جسمانی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھلی کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام بہتر ہوجاتا ہے ۔
سمندر ی مچھلی میں آیوڈین پائی جاتی ہے ، جوکسی اور گوشت میں نہیں ہوتی ۔ آیوڈین انسان جسم کے لیے بہت مفید ہے ۔آیوڈین کی کمی سے جسم میں ہارمونی نظام بہت متاثر ہوتا ہے اور غدہ درقیہ (تھائی رائڈگلینڈ) میں بھی خرابی پیداہوسکتی ہے ۔
مچھلی کھانسی دورکرنے میں بہترین دوا کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کا شوربا آنتوں کے امراض ختم کرنے کے لیے بھی مفید ہے ۔ مچھلی میں اومیگا۔ 3فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں، جو انسانی دماغ اور بینائی کے لیے کسی ٹانک سے کم نہیں ہوتے ۔ مچھلی کے گوشت میں حیاتین ب اور الف (وٹامن بی اور اے ) کے علاوہ حیاتین د(وٹامن ڈی ) بھی ہوتی ہے، جوہڈیوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔ ان حیاتین کے علاوہ اس میں کیلسیئم ، فاسفورس، فولاد اور دیگر معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق ہفتے میں 100سے 200گرام مچھلی کا گوشت کھانا چاہیے ۔ مچھلی دل کے مریضوں کے لیے بہت ضروری اور مفید ہے ۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی غذاؤں میں مچھلی کو بھی شامل کرلیں تو نہ صرف دل کی ، بلکہ دیگر بیماریوں سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
مچھلی کاتیل :
مچھلی کے گوشت کے ساتھ ساتھ اس کے تیل میں بھی قدرت نے بہت سے فوائد رکھے ہیں ۔ امراض قلب کے ماہرین بتاتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ شریانوں میں تنی پیداہوجاتی ہے اور دل اپنی کارکردگی درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتا، جس کی وجہ سے حملہ قلب کاخطرہ ہوتا ہے ،لہٰذا بڑھاپے میں مچھلی کاتیل پیناچاہیے۔ یہ شریانوں کی صفائی کرتا ہے ۔ اس ضمن میں پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرلیں ۔
مچھلی کاتیل جوڑوں کا درد اور ورم ، ہائی بلڈ پریشر، ذہنی دباؤ اور گردے کے امراض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔سردیوں میں عام طور پر چائے کاآدھا یاایک چمچہ مچھلی کا تیل روزانہ پینے سے جسم گرم رہتا ہے اور جلد نرم وملائم رہتی ہے ۔
مچھلی کے گوشت کی حفاظت :
مچھلی خریدنے کے بعد اس کا گوشت پلاسٹک کا صاف ستھری تھیلیوں میں ڈال کر فریزر میں محفوظ کردیں، تاکہ خراب ہونے سے بچار ہے اور اس کی تازگی بھی برقرار رہے ۔
فریزر کا درجہ حرارے صفرفارن ہائیٹ رکھیں ، تاکہ گوشت ٹھنڈک کی لپیٹ میں رہے اور جلد فریزہو کر محفوظ ہوجائے ۔ مچھلی کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے نمک کااستعمال بھی کیاجاسکتا ہے ۔ نمک میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ گوشت کو سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔
مچھلی پکانے کے طریقے :
مچھلی کو بھاپ میں گلانے یاپکانے سے بہتر ہے کہ اسے آگ پربھون لیاجائے یافرائی کرلیاجائے ۔ اگر آپ مچھلی کو فرائی کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے قتلوں میں مسالہ لگاکر انھیں ریفریجریٹر میں رکھ دیں ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد قتلوں کو نکال کرفرائی کرکے کھائیں۔ فرائی کی ہوئی مچھلی بہت مزے دار ہوتی ہے ۔
مچھلی کو پکاتے وقت اس بات کاخیال رکھیں کہ وہ کچی نہ رہ جائے ۔ کچے گوشت میں نہ تو ذائقہ ہوتا ہے اور نہ وہ صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے ۔ مچھلی روغنی کھانی چاہے، اس لیے کہ یہ زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے، شوربے والی مچھلی بھی پکائی جاتی ہے۔ یہ بھی مزے دار ہوتی ہے ۔ اس کاشوربانزلے زکام سے نجات دلاتاہے ۔ مچھلی کو پکانے کے لیے گھی کے بجائے معیاری خوردنی تیل استعمال کرناچاہیے، اس لیے کہ غیر معیاری تیل سے گوشت خراب اور بدذائقہ ہوسکتا ہے ۔
مچھلی کاگوشت صحت کے لیے بہت مفید ہے ۔ ہمیشہ تازہ مچھلی کھائیں، کیوں کہ باسی مچھلی صحت کے لیے مضر ہوتی ہے ۔

(3) ووٹ وصول ہوئے