بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتنمک اور اس کے اثرات

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نمک اور اس کے اثرات
جسم مختلف کام سرانجام دینے کے لیے نمک پر انحصار کرتا ہے۔ بلڈ پریشر اور عصبی ہیجان کی لہروں کی ترسیل میں بھی نمک کا عمل دخل ہوتا ہے

نمک اور اس کے اثرات
جینا کولیٹا:
جسم مختلف کام سرانجام دینے کے لیے نمک پر انحصار کرتا ہے۔ بلڈ پریشر اور عصبی ہیجان کی لہروں کی ترسیل میں بھی نمک کا عمل دخل ہوتا ہے۔ خون میں نمک کی سطح کو متوازن رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ زیادہ نمک کھاتے ہیں تو آپ کوپیاس لگتی ہے اور آپ خوب پانی پیتے ہیں۔ اس طرح خون پتلا ہوجاتا ہے اور جسم میں نمک کے جمع یا گاڑھا ہونے کا عمل درست حالت میں آجاتا ہے۔ پانی اور نمک کی زیادہ مقدار پیشاب کے ذریعے سے جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔ یہ ایک عام سانظریہ یا خیال ہے ۔ نمک کے بارے میں جو تصورات ہم نے ذہن میں بٹھا لیے ہیں ، وہ غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چند روسی خلابازوں کو زیادہ نمک کھلایا گیا تو انہیں پیاس کم محسوس ہوئی ، البتہ بھوک زیادہ لگی۔ تحقیق کاروں نے چوہوں پر تجربہ کیا اور انھیں زیادہ نمک کھلایا تو ان کے حرارے (کیلوریز)زیادہ جلے۔ پھر انھیں نمک کی 25 فیصد زیادہ مقدار کھلائی گئی ، تاکہ دیکھا جائے کہ ان کا وزن برقرار رہتا ہے یا بڑھتا ہے، لیکن ان کا وزن برقراررہا۔ جسم کس طرح نمک کی مقدار میں توازن قائم رکھتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار وزن میں اضافے کرنے یا نہ کرنے کا سبب کس طرح بن سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات یا خیالات ہیں، جن کی تشریح ضروری ہے۔ تحقیق کاروں نے 1994ء میں 135 روزہ خلائی پروگرام ترتیب دیا۔ یہ ایک وسی پروگرام تھا، جو ایک نقلی مشقی تربیت پر مشتمل تھا۔ خلابازوں کو ایک نقلی خلائی اسٹیشن پر یہ دن گزارنے تھے۔ تحقیق کاروں نے سب سے پہلے خلابازوں کے پیشاب کے نمونے تھے، جن کے جسموں میں نمک کی سطح متوازن تھی۔ نمک کھانے سے خلابازوں کے جمسوں میں نمک کی سطح کو پیشاب کی خارج شدہ مقدار کے ساتھ گھٹنا چاہیے تھا، جب کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ خلابازوں نے جو غذائیں کھائی تھیں،ان میں نمک کی درست مقدار کا تعین ہی نہیں ہوسکا تھا، لیکن تحقیق کاروں کو یقین تھا کہ خلابازوں کے جسموں میں نمک کی متوازن مقدار کی وجہ کچھ اور ہے۔ ایک دوسری مختصر نقلی مشقی تربیت میں تحقیق کاروں نے خلابازوں کو روزانہ ایسی غذائیں کھانے کو دیں ، جن میں ۱۲ گرام نمک کی مقدار شامل تھی۔ چند دن انھیں ایسی غذائیں دی گئیں، جن میں ۹ گرام نمک شامل تھا۔ پھر چند دن انھیں ۶ گرام نمک والی غذائیں کھانے کودیں گئیں۔ نمک کی ہر مقدار ۲۸ دنوں تک دی گئی۔ آخری طویل مشقی تربیت میں انھیں مزید ۱۲ گرام نمک والی غذائیں روزانہ کھلائی گئیں۔ بعد ازاں خلابازوں کے پیشاب کے نمونے لیے گئے اور خارج شدہ نمک کی مقدار کا معائنہ کیا گیا ۔ نتائج کافی حیران کن تھے۔ جب خلابازوں نے زیادہ نمک والی غذائیں کھائیں تو ان کے پیشاب کے ذریعے سے نمک کی زیادہ مقدار خارج ہوئی۔ ان کے خون میں نمک کی سطح برقرار رہی اور ان کے پیشاب کی مقدار میں اضافہ ہوا۔ پیشاب کے نمونے حیران کن اس لیے تھے کہ زیادہ نمک والی غذائیں کھانے دوران خلابازوں نے کافی دنوں تک زیادہ پانی پینے کے بجائے کم پانی پیا تھا، حالانکہ نمک کی زیادہ مقدار کھانے سے پیاس لگتی ہے۔ ایسی صورت میں انھیں زیادہ پانی پینا چاہیے تھا ۔ تحقیق کاروں کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ کم پانی پینے کے باوجود خلابازوں کے پیشاب کی خارج شدہ مقدار زیادہ تھی۔ ایسا کیوں تھا اور یہ مقدار جسم میں کس طرح پیداہوئی تھی؟ مزید تحقیق سے پتا چلا کہ ایسا اس لیے تھا کہ نمک کی زیادہ مقدار کھانے سے جسم میں پانی کی مقدار زیادہ بنتی ہے اور یہی اس تحقیق کا نچوڑ ہے۔ جسم میں ”گلوکوکارٹی کائڈ“ نامی ہارمونوں کی سطح جب بڑھ جاتی ہے تو دباؤ سے وہ اپنے اندر موجود عضلات اور چربی کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیتے ہیں، اس طرح اس نظام کے تحت جسم میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے جسم استعمال کرتا ہے اور پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے ، چاہے کم پانی پیا گیا ہو۔ ہرفرد کے مزاج اور ماحول کے مطابق اس پر غذاؤں کے مختلف اثرات پڑتے ہیں۔ کسی فرد کا زیادہ نمک کھانے سے وزن بڑھ سکتا ہے اور کسی کا مناسب وزن برقرار رہتا ہے۔ کسی فرد پر نمک کھانے کے اثرات کسی اور طرح اور کسی پر دوسری طرح مرتب ہوسکتے ہیں۔ مذکورہ تحقیق انھی حقائق کا پتا دیتی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں کھانوں میں انتہائی مناسب مقدار جسم اور صحت کے لیے مفید ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے