بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتپھلوں کا سردار۔ آم

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پھلوں کا سردار۔ آم
آم کو پھلوں کا سردار کہا جاتا ہے۔ آم گرمیوں کاسب سے مقبول پھل ہے۔ آم میں نشاستے (کاربو ہائڈریٹس) اور روغنی اجزا کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

پروفیسر سرور شفقت:
آم کو پھلوں کا سردار کہا جاتا ہے۔ آم گرمیوں کاسب سے مقبول پھل ہے۔ آم میں نشاستے (کاربو ہائڈریٹس) اور روغنی اجزا کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ آم میں حیاتین الف اور ج (وٹامنز اے اور سی کیلسیئم، فولاد اور پوٹاشیئم کے علاوہ گلوکوس بھی کثرت سے پایاجاتا ہے۔ آم غذائیت بخش پھل ہے۔ یہ جسمانی کمزوری کو ختم کرتا ہے۔ خون پیدا کرتا اور جسم کو فربہ بناتا ہے۔ آم میں کیلسیئم کی موجودگی ہڈیوں کے لیے مفید ہے۔ آم، جگر، دل ، دماغ، ہڈیوں اور پٹھوں کو شدید گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ کمزور بچوں کو خاص طور پرآم کھلانا چاہیے۔ یہ کھانسی اور دمے کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے۔ حافظے کو تقویت دیتا ہے، اس لیے دماغی کمزوری والے افراد کو آم خاص طور پر کھانا چاہیے۔ آم میں موجود قدرتی اجزادل کے امراض، سرطان اور جلدی بیماریوں سے حفاظت کانہایت مئوثر ذریعہ ہیں۔ اس میں موجود فولاد جلد کی تروتازگی اور دل کشی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب کہ پوٹاشیئم کی بڑی مقدار بلڈپریشر کو قابومیں کرتی ہے۔ گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے بھی آم کھانا مفید ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق آم چھاتی اور بڑی آنت کے سرطان سے محفوظ رکھنا ہے۔ آم کھانے کے شوقین افراد میں اس سرطان کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے توآم بہت مفید پھل ہے۔ جسم سے زہریلے مادے اور سرطان کے خلیات ختم کرنے کے لیے بلوبیری، آم ، انناس اور دیگر پھلوں پر تجربات کیے گئے ، جن میں آم سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا۔ انگور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سب سے بہتر خون صاف کرنے والا پھل ہے، مگر آم نے اس پر بھی سبقت حاصل کرلی ہے۔ آم میں پایاجانے والا کیمیائی مادہ پولی فینول (Polyphenol) بڑی آنت، چھاتی، پھیپھڑوں اور ہڈیوں کے گودے اور غدہ قدامیہ (پروسٹیٹ گلینڈ) کے سرطانوں کو ختم کردیتا ہے۔
کچے آم (کیری) بھی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔ کچے آم میں حیاتین ب 1اور ب 2 (وٹامنز بی 1 اور بی 2) پکے ہوئے آم کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔ کچے آم کو بھون کر اس کانرم گودا شکر اور پانی میں ملا کر شربت کے طور پر پینے سے گرمی کے اثرات کم ہوجاتے ہیں۔ کیری پر نمک لگاکرکھانے سے پیاس کی شدت کم ہوجاتی ہے، جب کہ پسینے کی وجہ سے جسم سے خارج ہونے والے نمکیات کی کمی بھی پوری ہوجاتی ہے۔ کچا آم تپ دق خون کی کمی اور پیچش سے بچاؤ کے لیے جسم کی مزاحمتی صلاحیت کو طاقت وربناتا ہے۔ کیری میں جوترش تیزابی مادے ہوتے ہیں، وہ صفرے کے اخراج کو بڑھادیتے ہیں اور آنتوں کے زخموں کو مندمل کرتے ہیں۔ کھٹے، کچے آم جگر کو صحت مند بناتے ہیں۔ معالجین صفرادی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کیری کی قاشوں کو شہد اور کالی مرچ کے ساتھ کھانے کامشورہ دیتے ہیں۔ کچا آم آنکھوں کے مرض شب کوری (جس میں رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے) کودور کرنے میں بھی مفید پایا گیا ہے۔
آم کے پتے، چھال، گوند اور گٹھلی دوا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ آم کے پرانے اچار کاتیل گنج کے مقام پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ آم کے درخت کی پتلی ڈالی کی لکڑی سے روزانہ مسواک کرنے سے منھ کی بو جاتی رہتی ہے۔ جن لوگوں کو پیشاب رکنے کی شکایت ہو، وہ آم کی جڑکا چھلکا اور برگ شیشم دس دس گرام ایک کلو پانی میں جوش پی لیں، پیشاب کھل کرآئے گا۔ ذیابیطس کے مرض میںآ م کے پتے جو خود بہ خود جھڑجائیں، سائے میں خشک کرکے سفوف بنالیں۔صبح وشام دوگرام سفوف پانی میں ڈال کر پینے سے چند دنوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ آم کی چھال قابض ہوتی ہے اور اندورنی جھلیوں پر نمایاں اثر کرتی ہے، اس لیے سیلان الرحم (لیکوریا) آنتوں اور رحم کی تکلیف، پیچش اور خونی بواسیر ختم کرنے کے لیے بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔ ان امراض میں آم کے درخت کی چھال کا سفوف یاتازہ چھال کا رس نکال کر دیاجاتا ہے۔ آم کی گٹھلی کی گری قابض ہوتی ہے، چوں کہ اس میں بکثرت گیلگ ایسڈ ہوتا ہے اس لیے کثرت، حیض، پرانی پیچش، اسہال، بواسیر اورلیکوریا ختم کرنے میں مفید ہے۔
آم بچوں اور بڑوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ یہ اپنے رنگ کی کوشش اور ذائقے کی وجہ سے نہ صرف برصغیر، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔
قدرتی طریقے سے پکے ہوئے آم میں جو غذائیت ہوتی ہے، وہ مصنوعی طریقے سے پکے آم کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
یوں توآم کی بے شمار اقسام ہیں، مگر پاکستان میں بکثرت پیداہونے والی اقسام درج ذیل ہیں۔
دسہری:
اس کی شکل لمبوتری، چھلکا خوبانی کے رنگ جیسا بارک اور گودے کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا گہر ا زرد، نرم ذائقے دار اور شریں ہوتا ہے۔
چونسا:
یہ آم قدرے لمبا، چھلکا درمیانی موٹائی والا ملائم اور رنگت پیلی ہوتی ہے۔ اس کاگودا گہرا زرد، نہایت خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی پیلی لمبوتری، سائز بڑا اور ریشہ کم ہوتا ہے۔ اس کی ابتدائی کاشت ملیح آباد (بھارت) کے قریبی قصبے” چونسا“ سے ہوئی۔
انور رٹول:
اس کی شکل بیضہ نماا ور سائز درمیانہ ہوتا ہے۔چھلکا چکنا ور سبزی مائل زرد ہوتا ہے۔ گودا بے ریشہ، ٹھوس، سرخ مائل زرد، نہایت شیریں ، خوشبودار اور رس دار ہوتا ہے۔ اس کی گٹھلی بیضوی اور نرم ریشے سے ڈھکی ہوتی ہے۔ اس قسم کی ابتدا میرٹھ( بھارت) کے قریب قصبہ ” رٹول“ سے ہوئی۔
لنگڑا:
یہ آم بیضوی لمبوترا ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا چکنا، پتلا اورگودے کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا سرخی مائل زرد ملائم شیریں اور رس دا ر ہوتا ہے۔
فجری:
یہ آم بیضوی لمبوترا ہوتا ہے۔ فجری کاچھلکا زردی مائل سطح برائے نام کھردری، چھلکا موٹااور گودے کے ساتھ لگاہوتا ہے۔ گودازردی مائل سرخ، خوش ذائقہ رس دار اور ریشہ برائے نام ہوتا ہے۔اس کی گٹھلی لمبوتری موٹی اور ریشے دار ہوتی ہے۔
سندھڑی:
یہ آم بیضوی اور لمبوترا ہوتا ہے۔ اس کاسائز بڑا، چھلکا زرد، چکنا باریک گودے کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے۔ گودا شیریں، رس دار اور گٹھلی لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔ یہ اصلا مدراس آم ہے۔
مالدا:
یہ آم سائز میں بڑا ہوتا ہے۔ ڈیڑھ سے دو کلو میٹر تک کے وزن کا بھی دیکھا گیا ہے۔ بیرونی چھلکا سبز رنگ کا اور اندورنی گودا پیلا شیریں ہوتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے