Apni Kulhari Apna Paoon

Apni Kulhari Apna Paoon

اپنی کلہاڑی، اپنا پاوٴں

حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا

محمد طارق:
حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا جلدی سے ماسٹر حنیف کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے ہزار روپے کے نوٹ کواُٹھا کر اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔
ایک لمحے کے لئے اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا:” بری بات ہے،یوں راستے میں پڑی ہوئی چیز کے مالک نہیں بن جاتے ، بلکہ مالک تک تو چیز پہنچا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ماسٹر حنیف کا نوٹ ہوگا۔ ان سے پوچھ لو اور ساتھ ہی آس پاس کے دو چار گھروں سے بھی معلوم کر لو جس کا ہو اس تک پہنچا دو ، بڑا ثواب ملے گا۔

گردن جھٹخ کر وہ اپنے آپ سے بولا:”واپس کیسے کردوں میں تو مزے اُڑاوٴں گا برگر، سموسے ، چاٹ، دہی بھلے اور بہت سی مزے مزے کی چیزیں کھاوں گا ۔

(جاری ہے)

آہا کتنا مزہ آئے گا۔ میں ان پیسوں سے اپنے دوستوں عابد، شاہد اور قاسم کی دعوت کروں گا۔

ہم تینوں مرغی فرائی اور بریانی کے مزے اُڑائیں گے۔ آخر شاہد نے بھی تو دو مہینے پہلے ہماری دعوت کی تھی۔ کئی دنوں تک ہم تینوں اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور وہ تھا کہ خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔کتنا مزہ آئے گا جب تینوں دوست میرے بھی گُن گائیں گے ۔
“ اس نے اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا ڈالا۔
اب اس کا رُخ اپنے دوستوں کے گھروں کی طرف تھا۔اس نے تینوں کو گھروں سے بُلا کر اِکھٹا کیا اور دعوت کی خو ش خبری سنا ڈالی۔
”ارے چھوڑو، یہ منھ اور مسور کی دال“۔ عابد نے حامد کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے فقرہ کسا کیوں کہ اسے حام کی مالی حالت کا بخوبی علم تھا۔

”ہاں۔یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا، کیوں کہ کیکر کے درخت پر بیر نہیں اُگا کرتے۔“ شاہد نے بھی عابد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
”یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا ۔ حامد اور دعوت وہ بھی مہنگے ہوٹل میں نہ بھئی نہ۔“ بھلا قاسم کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔

”اچھا تمھیں میری بات پر یقین نہیں آرہا ، لویہ دیکھو،“ حامد نے جذباتی انداز میں جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہزار روپے کا نوٹ نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ وتینوں اُچھل پڑے اور ان کے منھ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
ارے ، تم تو چھپے رستم نکلے، مارے خوشی کے قاسم چہک اُٹھا، پھر پوچھا یہ تو بتاکہ کہ ہزار روپے آئے کہاں سے؟“
عید قریب ہے یقینا کسی رشتے دار نے عید سے پہلے عیدی دی ہوگی۔
حامد کے جواب دینے سے پہلے ہی عابد بول پڑا۔
”ہمیں اس سے کیا کہ ہزار روپے کہاں سے آئے کیوں کہ ہمیں آم کھانے سے مطلب ہونا چاہیے پیڑ گننے سے نہیں۔ “ شاہدنے جواب دیتے ہوئے آنکھوں سے اشارہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ تینوں اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اب ان کا رُخ شہر کے مشہور ہوٹل کی طرف تھا
حامد نے کھانے کا آرڈر دیا۔ عابد شاہد اور قاسم نے اپنی آستینیں چڑھا لیں جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آج کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گئے۔ تھوڑی دیر بعد کھانا آگیا۔ مرغی فرائی اور بریانی سے خوب انصاف کرنے کے بعد وہ آئس کریم پر ٹوٹ پڑے۔
کھانے سے فارغ ہو کر جب حامد نے بِل بنوایا تو پورے نو سو روپے کا بل بنا ۔ دوستوں کی فرمایش پر چار ٹھنڈی بوتلیں منگوا کر حساب کتاب برابر کر دیا۔
حامد شام کو جب ڈکاریں لیتا ہوا گھر میں داخل ہوا تو اماں کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
چار پائی سر ہانے اماں غم سے نڈھال بیٹھی تھیں اور ان کی انکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔
” خیر تو ہے اماں! کیا ہوا؟ وہ سچ مچ روہا نسا ہو گیا۔
پہلے تو اماں اس کی اچانک امد سے حیران ہوئیں پھر خود کو سنبھال کر آنسو پونچھتے ہوئے بولیں:” بس بیٹا! کیا بتاوٴں، تجھے تو پتا ہی ہے گھر کے حالات کا عید بالکل قریب ہے بس چار ہی د ن باقی رہ گئے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے کہ تیرے لئے عید کے نئے کپڑے اور جوتے خریدلیں۔
آج ہی میں نے تیرے ابا سے کہا کہ ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کے لئے تو نئے کپڑوں اور جوتوں کا بندوبست ضرور کریں۔ مہینے دو مہینے کیلئے کسی سے ادھار ہی لے لیں۔ تجھے تو پتا ہی ہے بیٹا تیرے ابا کو ادھار سے کتنی نفرت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آدمی اس سے دوسروں کی نظروں میں گر جاتا ہے او ساتھ ہی یہ بھی کہ اُدھار چکانے کے لئے پیسے کہاں سے لائیں گے جب کہ یہاں گھر کا خرچ ہی پورا نہیں ہوتا۔
میرے بار بار کہنے پر وہ بڑی مشکل سے ماسٹر حنیف سے ہزار روپے ادھار لینے پر راضی ہوگئے۔ یہاں تک کہہ کر اماں تھوڑی دیر کے لئے رکیں اور ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے دوبارہ بولی : ”بیٹا! تیر ے ابانے ماسٹر حنیف سے ہزار روپے ادھار لیے تھے وہیں کہیں گر گئے کیوں کہ ان کی جیب پھٹی ہوئی تھی اور ان کو معلوم نہیں تھا۔
کہہ رہے تھے کہ ہزار کا بندھا ہوا نوٹ دیا تھاماسٹر حنیف نے ۔ بعد میں وہاں جا کر بہت ڈھونڈا مگر روپے نہ ملے۔ بس بیٹے۔ اب ہم تیرے لئے عید کے نئے کپڑوں اور جوتوں کا بندوبست نہیں کر سکتے۔“
اماں نے آخری جملہ بڑے دود بھرے لہجے میں کہا تھا جو حامد پر بجلی بن کر گرا ۔
اب اسے پتاچلا کہ جو ہزار روپے اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر خرچ کیے تھے وہ اس کے اپنے ہی تھے یعنی اپنی کلہاڑی خود اپنے پاوٴں پر مارلی تھی یہ جان کر وہ پچھتانے لگا اور تصور ہی تصور میں اپنے آپ کو پرانے کپڑوں اور جوتوں میں عید کی نماز پڑھنے کے لئے جاتا ہوا دیکھنے لگا۔

Your Thoughts and Comments