Aqalmand Gadha

عقلمند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی،بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی

منگل جولائی

Aqalmand Gadha

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی،بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی،شیر نے پنجوں سے آنکھوں کو ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا،یقینا وہ کالاہرن تھا۔


شیررات سے بھوکا تھا۔کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑلیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے․․․․․
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔

(جاری ہے)


جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ہرن کی بے چینی آنکھیں ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے ۔اس نے کان کھڑے کرکے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دوریچھ کے بچے کھیل رہے تھے۔
ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگ لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے،ہرن لمبی لمبی چھلانگیں مارتا ہوا پہاڑو کی طرف بھاگا۔

شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی،لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا ،اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا،آخر
کا ر ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا،جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے،شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے،
جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔
”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے دیکھا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔”یہ میراشکار ہے پہلے میں نے اسے دیکھا ہے“۔
شیر دہاڑا”میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں اس لیے اس شکار پر میراحق ہے“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا:
”میرے محترم بادشاہوں!یہ میری خوش نصیبی ہو گی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندان کے افراد کی غذا بنوں،لیکن پہلے آپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔

شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے،اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا:”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں۔“
شیر نے کہا”چلو مجھے منظور ہے ،وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتاہے“۔

چیتے نے گدھے کو حکم دیا”او گدھے !ادھر آ․․․․․“گدھا پہلے تو ڈراکہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کرلیں ،پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا:
”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظر ڈالی جبکہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی ،کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں ڈھینچوں ڈھینچوں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کردیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا۔

شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے،لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے۔اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہادھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہوجائیں گے۔

شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے ،جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا ،پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا،پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف سناٹا تھا ۔
ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھا بھی غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا۔
چیتے نے سر جھکاکر افسوس سے کہا۔”شیر صاحب!گدھا وہ نہیں گدھے تو دراصل ہم دونوں ہیں“۔

Your Thoughts and Comments