Hum Aik Hy

Hum Aik Hy

ہم ایک ہیں!

وہ سب بکھر رہے تھے اور پھر،،،،،،،،،،

مسرت کلانچومی:
دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا سارا سال خشک رہتا تھا جب بارشیں ہوتی تو اس میں پانی بہتا نظر آتا لیکن وہ پانی گہرا نہ ہوتا اس لئے اس میں بچے بڑے نہاتے نظر آتے گاؤں میں چند چھوٹے گھر تھے کچھ کچی مٹی سے بنے ہوئے اور کچھ پکی اینٹوں سے لیکن وہ سب گھر ایک جیسے ہی لگتے تھے اب چند دنوں سے شہر کی جانب سے پکی اینٹوں سیمنٹ،گارڈر سریوں اور لکڑی کے دروازوں کھڑکیوں سے بھری ٹرالیاں آرہی تھی جلال الدین نے اپنا تین کمروں کا کچا گھر مسمار کردیا تھا اور اب وہاں پکا مکان بن رہا تھا تھوڑے ہی عرصے میں یہاں شہروں میں دکھائی دینے والے گھروں جیسا گھر بن گیا صحن کے آگے بڑا سا دروازہ،،،،،اونچا برآمدہ،،،،،خوبصورت بل کھاتی سیڑھیاں،،،،چھت کے احاطے پر جالی دار چبوترہ،،،گاؤں کے لوگ اس گھر کو حیرت اور رشک سے دیکھتے۔

(جاری ہے)

سب جانتے تھے جلال الدین کا بیٹا غیر ملک کمانے گیا ہے وہاں سے خاصی رقم اس کے پاس آرہی ہیں وہ عام آدمی سے بڑا آدمی بن گیا تھا اس کا سب سے یارانہ تھا لیکن اب وہ بات کرتا تو اس کے لہجے میں رعونیت بھری ہوتی کوئی پوچھتا”کیا حال ہے جلال؟“”کیا بتاؤں یار،،،،،وہ جواب دیتا آج تمہاری بھابھی نے مرغ پلاؤ کے ساتھ قورمہ بھی بنالیا ساتھ کھیر تیار کر لی پیٹ بھر کر کھالیا اب طبعیت کچھ بھاری سی ہے،کوئی پوچھتا آج کل کیا ہورہا ہے جلال الدین،بڑے دنوں سے ہمیں ملے نہیں،بس یار وہ جواب دیتا ہر تیسرے دن شہر جانا پڑتا ہے شاپنگ کرنے کبھی گھر کا فرنیچر لینے کبھی کپڑے خریدنے اور کبھی گھر کی آرائش کی چیزیں خریدنے ذرا فرصت نہیں تم لوگوں کو ملنے کی۔
“سوال کرنے والا عجب حسرت آنکھوں میں لئے وہاں سے چلا جاتا۔جلال کے اس بدلتے رویے کا سب سے زیادہ دکھ اس کے بڑے بھائی جمال کو ہوا جلال نے اپنی بیٹی کی منگنی بچپن میں ہی جمال کے بیٹے سے کردی تھی جمال کے بیٹے نے اب چھوٹی سی دکان کھول لی تھی جمال نے جب جلال الدین سے اس کی بیٹی کی رخصتی کی بات کی تو وہ عجب بے رخی سے بولا دیکھو بھائی میری بیٹی اب بڑے گھر میں رہتی ہیں وہ تمہارے دو کمروں کے کچے مکان میں نہیں رہ سکتی اپنے بیٹے سے کہو وہ ایسا ہی دو منزلہ گھر بنوائے۔
“لیکن لالہ۔اس نے نئی دکان کھولی ہے ہماری ایسی حیثیت نہیں کہ تمہارے جیسا گھر بنواسکیں اصل میں آپ کے پاس پیسہ آگیا ہے اور آپ ہمیں اپنے قابل نہیں سمجھتے۔“جمال کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ہاں یہی سمجھ لو جلال نے منہ موڑلیا۔
جمال نے منت سماجت کی لیکن وہ نہ مانا اور جمال دل برداشتہ ہوکر وہاں سے چلا آیا۔اس گاؤں میں ایک اور گھر تھا جو باقی گھروں سے بہتر تھا اس میں رہنے والا ممتاز گاؤں کے دوسروں لوگوں سے مالی لحاظ سے بہتر سمجھا جاتا تھا وہ غریب لوگوں کو قرض دیتا لیکن وصولی کے لیے انہیں بہت تنگ کرتا اور ان کی قیمتی چیزیں ہتھیا لیتا تھا۔
جامو دودھ والے کی ماں کا آپریشن ہوا تو اس نے ممتاز سے بیس ہزار روپے ادھار مانگ لیے ممتاز نے اسے ادھار تو دے دیا لیکن جلد ہی واپسی کے لیے تنگ کرنے لگا جامو کبھی اپنی محنت کی کمائی سے ہزار دو ہزار روپے ادھار کی واپسی کی صورت میں بناتا تو ممتاز غصے سے کہتا قسطوں میں ذرا ذرا سی رقم نہیں لوں گاپوری رقم دے۔
اور جب جامو پوری رقم کا بندوبست نہ کرسکا تو وہ اس کی بھینس کھول کر چل پڑا جامو منتیں کرنے لگا بھائی دیکھ ہمارا گزارا ہی اس بھینس کے دودھ پر ہے دودھ بیچ کر ہی کچھ کماتا ہو بھینس تم لے گے تو ہم کیا کریں گے بھوکے مرجائیں گے۔
مرجا بھوکا میں کیا کروں،،،جس دن بیس ہزار روپے لاکر دوں گے بھینس لے جانا جامو آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہ کرسکااسی گاؤں میں ایک گھر نور محمد کمہار کا تھا وہ مٹی کے برتن بناتا تھا اور شہر جاکر بیچتا تھا اس کا چھ سالہ بیٹا ایک ٹانگ سے معذور تھا نور محمد بہت محنت سے برتن بنا کرایک کمرے میں جمع کررہا تھا اس کا بیٹا پوچھتا؟۔
ابا جی اتنے سارے برتن ہم کیا کریں گے،،،،،،،؟۔نور محمد پیار سے جواب دیتا بیٹا جب بہت سے برتن بکے گئے تو ہمارے پاس زیادہ پیسے جمع ہوجائے گے پھر ہم ان پیسوں سے تمہاری ٹانگ کا علاج کرائیں گے پھر میں چلنے لگوں گا؟ابا جی کیا دوسرے بچوں کی طرح دوڑیں لگاؤں گا؟ہاں میرے بچے نور محمد اسے سینے سے لگالیتا،نور محدمحمد کے گھر کے ساتھ ہی مائی رحمت کا گھر تھااس کا بیٹا وسیم شہر میں ملازمت کرتا تھا وہ اکیلی رہتی تھی اور سارا مہینہ اس کا انتظار کرتی ،وہ یکم تاریخ کو تنخواہ لے کر آتا اپنی ماں کے حوالے کرتا دو دن رہتا اور واپس شہر چلا جاتا اس طرح ہر گھر کی ایک کہانی تھی،چند دنوں سے شدید بارشیں ہوگئی تھیں اتنی بارش پہلے کبھی نہ ہوئی تھی گلیوں میں کافی پانی جمع ہوچکا تھاسارے گاؤں والے پریشان تھے اور اللہ سے بارش رک جانے کی دعائیں مانگ رہے تھے اس بار بھی یکم تاریخ آگئی مائی رحمت نے وسیم کی پسند کا ساگ اور گڑوالے چاول بنائے تھے وہ بڑی بے چینی سے بیٹے کا انتطار کر رہی تھی اچانک مسجد میں اعلان ہوا۔
بھائیوں اور بہنوں دریا میں سیلاب آگیا ہے گاؤں کو سخت خطرہ ہے جتنی جلدی ہوسکے اپنے گھر چھوڑدو پرانے کنویں کے پاس جو مٹی کے اونچے ٹیلے ہیں ان پر جمع ہوجاؤ۔مائی رحمت نے صحن کا دروازہ کھولا اور اپنے بیٹے کی راہ تکنے لگی لوگ گھروں سے نکل کر ٹیلے کی طرف بڑھ رہے تھے وہ سخت پریشان تھے نہ صرف ان کے گھر اور گھر کا سازو سامان بہہ جانے کا خدشہ تھا بلکہ ٹیلے دور ہونے کی وجہ سے ان کی جانیں چلے جانے کا خوف بھی تھا جن کے پاس کوئی بیل گاڑی یا کوئی تانگہ تھا اس نے نہ صرف اپنا کنبہ اس پر بٹھا لیا تھا بلکہ سمٹ سمٹا کر دوسروں کو بھی بیٹھنے کی جگہ دے دی تھی،جلال بھی پریشان ہوگیا اپنی بیٹی اوربیوی کے ساتھ باہر نکل آیا تھا اس کے قریب سے کوئی بیل گاڑی یا تانگہ گزرتا وہ ساتھ لے جانے کی التجا کرتا لیکن کوئی اس کے لئے جگہ نہ بنا سکاجلال کو محسوس ہورہا تھا لوگ نکل جائے گے اور وہ وہی رہ جائے گا سیلاب کا ریلا آئے گا اسے اس کے گھر والوں سمیت بہا کر لے جائے گا اچانک اس کے قرین گدھا گاڑی رکی اس میں جمال اور اس کے بیوی بچے بیٹھے ہوئے تھے ساتھ ضروری سامان تھا آجاؤ لالہ جمال نے پکارا۔
اس نے اپنا سامان نیچے پھینک دیا اور جگہ بنادی جلال نے احسان مند نظروں سے بھائی کو دیکھا اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ گدھا گاڑی میں بیٹھ گیا نور محمد کمہار نے اپنے بیٹے کو کندھوں پر بٹھالیا تھا اس نے دیکھا مائی رحمت دروازے میں کھڑی ادھر اُدھر دیکھ رہی ہے اور سخت پریشان ہے نور محمد نے آواز دی ماسی۔
آجاؤ،، دیر کیوں کررہی ہوں ابھی سیلاب آئے گا اور تمہیں بہا کر لے جائے گا مجھے اپنے بیٹے کا انتظار ہے میں اگر یہاں سے چلے گی تو وہ مجھے کہا ڈھونڈے گا۔“پہلے اپنی جان بچاؤنور محمد زور سے بولا۔زندگی ہوتو بچھڑے مل ہی جاتے ہیں رحمت مائی بنے کھانا رومال میں باندھ لیا تھا وہ نور محمد کے ساتھ چل پڑی ۔
جامو نے اپنی ماں کو ایک تانگے میں سوار کردیا تھا اور خود پیدل جارہا تھا،بچاؤ۔بچاؤ جامو کو پیچھے سے آواز سنائی دی اس نے مڑکر دیکھا ممتازلڑ کھڑاکر چل رہا تھا اور پھر وہ بارش کے پانی میں گر گیا جامو نے بھاگ کر اسے پانی میں کھڑاکیا اور بولا میرا کندھا پکڑلو اور میرے سہارے چلو ممتاز کچھ دیر اس کے سہارے چلا لیکن پھر گرنے لگا مجھے بخار ہے مجھ سے چلا نہیں جارہا وہ ہانپتے ہوئے بولا۔
ممتاز دبلا پتلا چھوٹے قد کا آدمی تھا زیادہ بھاری نہ تھا جامو نے اسے کندھوں پر اٹھالیا گوکہ اسے اٹھا کر پانی میں چلنا آسان نہ تھا لیکن جامو نے ہمت نہ ہاری۔گاؤں کے سب لوگ ٹیلے پر بیٹھے تھے اب کوئی چھوٹا بڑا امیر غریب نہ تھاسب کا ایک ہی جیسا حال تھا بھوکے پیاسے بے بس اور مجبور سب روٹی کے چند ٹکڑوں کے لئے محتاج تھے نہ سونے کے لیے بستر تھا نہ سر پر کوئی چھت،،،اللہ کے سوا ان کا کوئی آسرا نہ تھا سب کی زبان اور دل پر اللہ کا نام تھا ایک سرکاری گاڑی آئی انہیں کھانا اور پانی کی بوتلیں دے کر چلی گئی سب مل بانٹ کر کھارہے تھے رحمت مائی بڑی دیر سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ شاید اس کا بیٹا آجائے اس نے بھی رومال کھول کر کھانا نکالا اور سب کے آگے رکھ دیا ممتاز کا جسم بخار کی وجہ سے ٹوٹ رہا تھا وہ نیچے پڑا ہائے ہائے کررہا تھا جامو آگے بڑھا اس نے پانی میں رومال بگھویا نچوڑا اور ممتاز کے ماتھے پر لگاتا رہا۔
بخار کچھ کم ہورہا تھا جامو اس کی ٹانگیں دبانے لگا اسے محسوس ہوا ممتاز اسے تشکر بڑی نظروں سے دیکھ رہا ہے گاؤں میں سیلاب آچکا تھا حد نظر تک پانی ہی پانی تھا گھر اور فصلیں ڈوب چکی تھیں امدادی ٹیمیں اپنا کام کررہی تھی خدا خدا کرکے پانی اترا لوگ گاؤں میں واپس لوٹے تو گھروں کے کافی حصے ٹوٹ چکے تھے،جلال الدین کے مکان کے کچھ حصوں میں دراڑیں پڑچکی تھیں اور صحن کی دیواریں گر گئی تھیں مائی رحمت کا بیٹا وسیم بھی شہر سے آچکا تھا وہ سب کو جمع کرکے بولا ہماری اکیلے کوئی زندگی نہیں ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے تو اللہ بھی ہمارے ساتھ دے گا پہلے بھی اپنے گھر خود بنائے تھے اور اب بھی مل کر اپنے گھر دوبارہ بنالیں گے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کریں گے ہماری بستی پھر سے آباد ہوگی سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اپنے گھر تعمیر کرنے لگے جمال بھی کچی مٹی سے اپنا گھر بنانے لگا تو اس کا بھائی جلال آیا اور بولا جمال میرے صحن کی پکی اینٹے لے جاؤ اوراس سے اپنا گھر بناؤ اور،،،،وہ آپ کا صحن؟جما ل حیرت سے بولا فی الحال مٹی کے گارے سے بنالوں گا پھر کبھی پکا بھی کرلوں گاپہلے تمہارا گھر بننا چاہیے آخر میری بیٹی نے اسی گھر میں تمہاری بہو بن کر آنا ہے جمال نے جلال کو گلے لگالیا،جامو بھی اپنے گھر میں اینٹے لگا رہا تھا تو ممتاز آگیا اس کے ساتھ جامو کی بھینس بھی تھی وہ بولا یہ رسہ تڑا کر جانے کہاں بھاگ گئی تھی بڑی مشکل سے ڈھونڈ کر لایا ہوں یہ لو اپنی بھینس مگر وہ تمہارا قرض؟جامو حیران رہ گیا تھوڑا تھوڑا کر کے اتر ہی جائے گا اکٹھے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ممتاز پیار سے جامو کا کندھا تھپتھپا کر بولا خوشی سے جامو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے نور محمد بہت دکھی تھا وہ بولا گھر تو میں بنا ہی لوں گا مگر میرے سارے برتن ٹوٹ گئے اور بہہ گئے ہیں اب میں کیا بیچ کر بیٹے کا علاج کراؤں گا وسیم بولا تمہارا بیٹا ہم سب کا بیٹا ہے ہم سب مل کر پیسے جمع کریں گے اور اس کا علاج کرائیں گے نور محمد نے خوش ہوکر وسیم سے ہاتھ ملایا وسیم نے اپنے دوسرے ہاتھوں سے جامو کا ہاتھ پکڑ لیا اور جامو نے جمال کا،،،،،اور یوں سب ایک دوسرے سے جڑتے گئے سب ایک ہوگئے۔

Your Thoughts and Comments