Urdu Akhabarat Ki Tareekh

اردو اخبارات کی تاریخ

اردو اخبارات کی تاریخ کافی پرانی ہے اور ہندوپاک کی تقسیم سے پہلے وہاں سے شائع ہوتے تھے۔لفظ اردو تر کی زبان سے لیا گیا ہے،جس کے معنی ہیں لشکری۔

منگل اکتوبر

Urdu akhabarat ki tareekh

شکیل صدیقی
اردو اخبارات کی تاریخ کافی پرانی ہے اور ہندوپاک کی تقسیم سے پہلے وہاں سے شائع ہوتے تھے۔لفظ اردو تر کی زبان سے لیا گیا ہے،جس کے معنی ہیں لشکری۔یہ مغل حکمراں شاہ جہاں کے زمانے میں پھلی پھولی۔اردو میں فارسی ،ہندی،ترکی اور عربی الفاظ کی کثرت ہے۔

اتر پردیش میں اردو زبان کو بہتر اور رواں بنایا گیا۔عربی اور فارسی کی طرح اسے دائیں سے بائیں ہاتھ کی طرف لکھا جاتاہے۔اس میں بنیادی طور پر 39حروف ہیں اور13اضافی۔اس طرح کل 52حروف ہوتے ہیں۔پاکستان میں نصاب سے فارسی ختم ہونے کے بعد اردو کو بہت فروغ ملا۔

اردو کا پہلا اخبار”جام جہاں نما“تھا جو ہیرا ردتانے1822ء میں کلکتہ سے شائع کیا تھا۔
14جنوری1850ء میں منشی ہر سکھ رائے نے ہفت روزہ”کوہ نور“شائع کرنا شروع کیا جو ساڑھے تین سو کی تعداد میں فروخت ہوتا تھا۔

(جاری ہے)

1858ء میں منیر خیر الدین نے اردو گائد کے نام سے کلکتہ سے پہلا روز نامہ شائع کیا۔

ایک اور اہم اخبار جو اس زمانے میں شائع ہوا،وہ لاہور سے شائع ہونے والا”روزنامہ پنجاب“تھا۔اس کے بعد لکھنوٴ سے منشی نول کشور نے 1858ء میں اردو کا پہلا اخبار”اودھ اخبار“شائع کرنا شروع کیا۔
اخبار تو زیادہ فروخت نہیں ہوتے تھے ،لیکن اردو کو فروغ دینے کے لیے پڑھے لکھے افراد نے کوششیں شروع کردیں۔
مثلاً علی گڑھ سے ”تہذیب الاخلاق“مدر اس سے ”شمس الاخبار“بمبئی سے”کشف الاخبار“شائع ہوئے۔یہ سب ہفت روزہ تھے۔البتہ ”اودھ اخبار“روزنامے کی شکل میں شائع ہونے لگا اور منشی نول کشور کے بعد اس کے مدیر رتن ناتھ سر شار ہو گئے۔
یہ اخبار کافی عرصے تک شائع ہوتا رہا۔
دہلی سے شائع ہونے والا پہلا اخبار”فوائد الناظرین“تھا جوراماچندر نے 1852ء میں شائع کیا۔یہ اخبار لوگوں کو بہت پسند آیا۔اس لیے کہ اس زمانے میں ہندوپاک پر انگریزوں کی حکومت تھی اور یہ اخبار حکومت پر تنقید کرتا تھا۔
1877ء میں سجاد حسین نے اردو کا پہلا مزاحیہ ماہنامہ”اودھ پنچ“شائع کرنا شروع کیا،جسے لوگوں نے پسند کیا۔
بیسویں صدی کی ابتدا میں تین روزنامے شائع ہورہے تھے۔پیسہ اخبار،اودھ اخبار اور صلح کُل تینوں عوامی اخبارات تھے اور میانہ روی سے شائع ہوتے تھے ،لیکن ان کے بعد شائع ہونے والے اخبارات انگریزوں کے بہت خلاف تھے ،جن میں زمیندار تھا جو لاہور سے 1903ء میں شائع ہونا شروع ہوا۔
اس کی اشاعت تیس ہزار تھی۔پھر1904ء میں مولوی ثنااللہ خان نے ہفت روزہ”وطن“شائع کرنا شروع کیا،جو 33برس تک شائع ہوتا رہا۔1912ء میں مولانا محمد علی جوہر نے ”نقیب ہمدرد“شائع کرنا شروع کیا جو بہت مقبول ہوا۔مولاناابو الکلام آزاد نے ”الہلال“شائع کرنا شروع کیا۔
اس اخبار میں سیاست کے علاوہ مذہبی مضامین ہوتے تھے ۔اس کے مضامین اور ان کے پیش کرنے کا انداز سب سے جدا تھا۔چنانچہ اسے خوب شہرت حاصل ہوئی۔1919ء میں مہشی کرشنن نے لاہور سے”پر تاب“شائع کرنا شروع کر دیا۔یہ گاندھی جی کے خیالات کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتا تھا۔
اس میں زیادہ تر کانگریس کی خبریں ہوتی تھیں۔چونکہ انگریزوں کے خلاف تھا ،اس لیے کئی بار بند ہوا۔اس اخبار کا پنجاب کے اردو پڑھنے والوں اور دہلی میں رہنے والوں پر گہرا اثر تھا۔1945ء میں جواہرلال نہرو نے”قومی آواز“کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔

ان اخبارات نے لوگوں میں بیداری کی ایک لہر دوڑادی۔ان اخبارات میں سیاست کے علاوہ سماجیات اور ادب بھی ہوتا تھا۔غزل ،نظم ،کہانیاں ،ڈرامے اور افسانے وغیرہ۔اس کے علاوہ خواتین کی دل چسپی کے لیے ادبی مضامین ،کشیدہ کاری اور کھانا پکانے کی ترکیبیں بھی ہوتی تھیں۔
انگریزوں کے خلاف اردو
اخبارات نے جو تحریک چلائی ان میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ہندوؤں کی سیاسی جماعت کا نگریس اور مسلمانوں کی مسلم لیگ تھی۔
ہندو پاک کی تقسیم کے موقع پر اردو صحافت کو کافی نقصان اُٹھانا پڑا۔
لاہور میں فسادات کے دوران”ملاپ“کی مشینیں اور کاغذ جلادیا گیا۔ساتھ ہی اس کے مدیر کو بھی قتل کر دیاگیا۔جس کے نتیجے میں چھے ہفتوں تک اخبار شائع نہیں ہو سکا۔اس کے بعد یہ اخبار دہلی سے شائع ہونے لگا۔لاہور میں حالات اچھے نہیں تھے۔
اس لیے ”پرتاب “بھی دہلی سے شائع ہونے لگا۔ہندو پاک کی تقسیم کے وقت کُل 415روزنامے ہفت روزے اور ماہنامے شائع ہوتے تھے ۔جس میں سے 345کا تعلق بھارت سے تھا،جب کہ 70پاکستان سے شائع ہونے لگے۔بعد میں ان کی تعداد بڑھ کر 513ہو گئی۔

روزنامہ”جنگ“1939ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔میرا خلیل الرحمن اس کے مالک اور مدیر تھے۔اس میں ملک کے اچھے لکھنے والوں کی تحریریں شائع ہوتی تھی۔مثلاً مجید لاہوری ،شوکت تھانوی ،ابراہیم جلیس ،ابن انشا اور پیر علی محمد راشدی۔

ادارہ جنگ ،عوام ہفت روزہ میگ ،دی نیوز،ہفت روزہ اخبار جہاں اور ڈیلی نیوز بھی شائع کرتاہے۔کراچی سے شائع ہونے والے اخباروں میں ”حریت“کافی مقبول ہوا۔س کے مدیر فخر ماتری تھے۔یہ چھوٹے سائز کا اخبار تھا جس کی خبریں اور کالم دوسرے اخبار سے قطعی مختلف تھے۔
یہ 1960ء میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔مشہور ناول نگار ابن صفی نے صحت یاب ہونے کے بعد ایک ناول ”ڈاکٹر دعا گو“اس میں قسط وار لکھنا شروع کیا تھا۔کچھ عرصے بعد یہ اخبار نا معلوم وجوہ کی بنا پر بند ہو گیا۔
اردو اخبارات میں روزنامہ”نوائے وقت“لاہور اورروزنامہ”انجام“کراچی بھی کافی مقبول ہوئے۔
انجام کچھ عرصے تک شائع ہوتا رہا اس کے بعد بند ہو گیا۔البتہ نوائے وقت اب بھی شائع ہورہا ہے۔
تقریباً اٹھارہ برس پہلے شائع ہونے والے اخبار”ایکسپریس“کو اس کی خبروں اور کالموں کی وجہ سے لوگوں نے بہت پسند کیا۔چنانچہ پاکستان کے دوسرے بہت سے شہروں سے شائع ہونے لگا اور اب بھی شائع ہورہا ہے۔

انگریزی اخبارات میں”ڈان“سب سے بڑا اخبار ہے۔یہ تقسیم ہندوپاک سے پہلے 1941ء میں ہفت روز ہ کی حیثیت سے شائع ہوا تھا،اس کے بعد 1942ء میں روزنامہ ہو گیا۔اس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے دہلی میں رکھی تھی۔اسے مسلمانوں اور مسلم لیگ کی آواز کہا جاتا تھا۔روزنامہ ڈان اب بھی پاکستان کے کئی شہروں سے شائع ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments