آم کیلئے دسمبر کے شروع سے وسط فروری تک کورا پڑنے کا زیادہ امکان ہے،زرعی ماہرین

ہفتہ 22 جنوری 2022 23:47

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 جنوری2022ء) آم کے مرکزی پیداواری علاقوں میںکورا عام طورپر دسمبر کے شروع سے وسط فروری تک پڑتا ہے تاہم کورا پڑے کا زیادہ امکان۔ وسط دسمبر سے آخر جنوری تک ہوتا ہے ، دنیا بھرمیں آم پیدا کرنے والے 90 ممالک میں پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا چھٹا نمبر ہے جبکہ آم پاکستان میں 170ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کیا جاتا ہے جس سے سالانہ 1784 ہزار ٹن پھل پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان میں آم کی اوسط پیداوار 10.09 ٹن فی ہیکٹر ہے ، پھلو ں میں انفرادی حیثیت کا حامل پھل ’’آم‘‘ جس کو ایشیائی پھلوں کا بادشاہ کہلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے، انسانی غذا کا اہم حصہ ہے۔ آم دنیا کے تقریباً 90 ممالک میں پیدا ہوتا ہے جن میں سے 72 ممالک کی پیداوار صرف 13 فیصد جبکہ باقی 18 ممالک دنیا کی کل پیداوار کا 87 فیصد آم پیدا کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

آن لائن کے مطابق زرعی ماہرین نے آم کے باغات کا کورا سے تحفظ کے سلسلہ ہدایت کی ہے کہ اوسط پیداوار کو بڑھانے کیلئے پیداوار میں کمی کے اسباب کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے بہتر پیداوار کے حصول کے لئے مناسب اور بروقت کھادوں کا استعمال ، ضرورت کے مطابق آبپاشی اور مختلف بیماریوں سے بچائو کے علاوہ دیگر زرعی عوامل بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ، آم کے مرکزی پیداواری علاقوں میںکورا عام طورپر دسمبر کے شروع سے وسط فروری تک پڑتا ہے تاہم کورا پڑے کا زیادہ امکان وسط دسمبر سے آخر جنوری تک ہوتا ہے۔

جب سردیوں میں رات کے درجہ حرارت میں بتدریج کمی کے ساتھ ہوا میںنمی کا تناسب بڑھتا ہے اورعام طور پر آم کے پیداواری علاقوں میں 12ڈگری سینٹی گریڈ درجہء حرارت پر یہ تناسب 100فیصد تک پہنچ جاتا ہے اس طرح درجہ حرارت مزید کم ہونے پر ہوا میں موجود یہ نمی زمین اور پودوں کے پتوں پر جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ باغات میںپودوں کی عمر کے مطابق پودوں کے گھیرے میں گلا سڑا گوبر بکھیرنے سے زمینی درجہ حرارت میں تبدیلی کو روک کر کورے کے ممکنہ نقصان سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

بڑے پودوں کے تنوں پر سفیدی کریں اور چھوٹے پودوں کے تنوں پر پرالی وغیرہ باندھ دیں مزید براں انہیں پٹ سن کے کپڑے سے لپیٹ کر بھی کورے ا ورسردی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔۔جن پودوں کی موٹی شاخیںکاٹی گئی ہوں ان پر بورڈیکس پیسٹ لگا دیںتاکہ یہ پودے زخم بھرنے کے دوران بیماریوںکے اثرات سے محفوظ رہیں۔ بورڈیکس پیسٹ بنانے کیلئے چونا،نیلا تھوتھا اور پانی کا تناسب 1 :1:10 ہونا چاہئے ۔کورا سے متاثرہ پودوں کی کانٹ چھانٹ کرنے کے فوراً بعدپودوں کی عمرا ور جسامت کے لحاظ سے غذائی اجزاء مہیا کریں تاکہ بڑھوتری کا عمل تیز ہو سکے۔ پودوں کو غذائی اجزاء ڈالنے کے بعد آبپاشی کا خاص خیال رکھیں۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments