پاک فوج کا چیف جسٹس سے جسٹس شوکت عزیز کے بیان پر کاروائی کا مطالبہ

اسلام آبادہائیکورٹ کےمعززجج نے اداروں پرسنگین الزامات لگائے ہیں،معزز عدالت الزمات سے متعلق مناسب کاروائی کرے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹویٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جولائی 15:20

پاک فوج کا چیف جسٹس سے جسٹس شوکت عزیز کے بیان پر کاروائی کا مطالبہ
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔22 جولائی 2018ء) ڈی جی آئی ایس پی آرکا جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی تقریرپرردعمل سامنے آ گیا۔پاک فوج نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ معزز عدالت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فوج پر لگائے گئے الزمات سے متعلق مناسب کاروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ کہا کہ عدلیہ کےجج نےسیکیورٹی ایجنسیوں پرسنگین الزامات لگائے۔اسلام آبادہائیکورٹ کےمعززجج نے اداروں پرسنگین الزامات لگائے ہیں،ریاستی اداروں کا وقار یقینی بنایا جائے۔ملکی اداروں کی وقاراورتکریم کےتحفظ کیلیے سپریم کورٹ اپناکرداراداکرے،۔جسٹس شوکت عزیز کے بیان کی تصدیق کروائیں۔

(جاری ہے)

معزز عدالت الزمات سے متعلق مناسب کاروائی کرے۔

یاد رہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پہلے ہین اس معاملے کا نوٹس لے چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا تو افسوس ہوا۔ہم قانون کی بالاد ستی اور آئین کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ہم پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا ادارے کے سربراہ کے طور پر یہ بات سختی سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

اور نہ ہی ہمارے ججوں پر کوئی دباؤ ہے۔ہم پوری طرح آزاد اور خودمختاری سے کام کر رہے ہیں۔ایک جج کی طرف سے اس طرح کے بیانات نا قابل فہم اور نا قابل یقین ہیں جائزہ لیں گے اس متعلق کیا کاروائی ہو سکتی ہے اور کاروائی کرنے کے بعد حقائق قوم کے سامنے لائیں گے۔ چیف جسٹس نے جسٹس شوکت عزیز کے بیان کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔واضح رہے ہفتے کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیر صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ آج کے اس دور میں انٹر سروسز انٹیلی جنس پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے۔

جسٹسشوکت عزیز صدیقی نے دعویٰ کیا کہ خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک رسائی کرکے کہا کہ انتخابات تکنواز شریف اور ان کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا، شوکت عزیز صدیقی کو بینچ میں شامل مت کرو اور میرے چیف جسٹس نے کہا جس بینچ سے آپ کو آسانی ہے ہم وہ بنا دیں گے۔ اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے ،ْ مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ان احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور بار ایک گھر ہے اور یہ ایک ہی گھر کے حویلی میں رہنے والے لوگ ہیں لیکن عدلیہ کی آزادی سلب ہوچکی ہے اور اب یہ بندوق والوں کے کنٹرول میں آگئی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments