نیب کی جانب سے مختلف اسکینڈلز کی تحقیقات

نیب کے ریٹائرڈ افسران تحقیقات پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اکتوبر 10:56

نیب کی جانب سے مختلف اسکینڈلز کی تحقیقات
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 اکتوبر 2018ء) : نیب نے ملک سےکرپشن کے خاتمے اور بد عنوانی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے لیکن نیب کےاپنے ہی ریٹائرڈ افسران نیب کے آڑے آ رہے ہیں۔ نیب کے ریٹائرڈ افسران کرپشن اسکینڈلز میں ملوث کمپنیوں میں اعلیٰ عہدے حاصل کر کے تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ریٹائرڈ افسران کے نیب ہیڈکوارٹر اورریجنل دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ۔

ریٹائرڈ افسران کرپشن کی تحقیقات کا سامنا کرنے والی کمپنیوں میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمتیں حاصل کرکے انکوائری ختم اور کمزور ریفرنس دائر کرانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیب کے ریٹائرڈ افسران نیب ٹی سی ایس رولز 2002ء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کمپنیوں میں مختلف عہدوں پر تعینات ہوئے ۔ نیب کے ٹی سی ایس رولز 2002ء کی شق 9 کے مطابق ریٹائرڈ افسران کے لیے نجی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازم ہے ۔

نیب کے بیشتر ریٹائرڈ افسران چیئرمین نیب کی پیشگی منظوری کے بغیر نجی کمپنیوں میں ملازمت کررہے ہیں۔ حکام کے مطابق نیب کے رولز کی خلاف ورزی کے مرتکب افسران کے خلاف بھی کارروائی زیر غور ہے ۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران سہیل نے نیب کے تمام ریجنل دفاتر کو مراسلہ ارسال کردیا اور نیب کے تمام افسران کو ریٹائرڈ افسران کے ساتھ روابط اور کرپشن کی تحقیقات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنے سے منع کردیا ہے ۔

حکام کے مطابق چیئرمین نیب کی جانب سے تمام افسران کو واضح پیغام دیا گیا کہ ریٹائرڈ افسران کے ساتھ کرپشن میں ملوث کمپنیوں کی معلومات کا تبادلہ کرنے والے افسران کے خلاف نیب قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ نیب کے 6 ریٹائرڈ افسران ایسی کمپنیوں میں تعینات ہیں جن کے خلاف اربوں روپے کرپشن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق چیئرمین نیب کی پیشگی منظوری کے بغیر ریٹائرڈ افسران کے نیب ہیڈکوارٹر اورریجنل دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments