متنبہ کررہے ہیں صدارتی نظام لانے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹ جائے گا. بلاول بھٹو

یہ کیسا نظام ہے امیر کو سہولتیں اور غریب پر ظلم کیاجارہا ہے،آئی ایم ایف سے قرضے لینے کیلئے پارلیمان کو اعتماد میں ہی نہیں لیاگیا. پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اپریل 15:06

متنبہ کررہے ہیں صدارتی نظام لانے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹ جائے گا. بلاول ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 25 اپریل۔2019ء) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا صدارتی نظام رائج کرنے کی کوشش کی تو متنبہ کررہاہوں یہ ملک ٹوٹے گا، وزیراعظم کے بیان سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مرد کوعورت کہنے سے کیاپیغام دیناچاہتے ہیں. تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا معاشی صورتحال عوام کے سامنے ہے، عوام تڑپ رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت مزدوروں کو بے روزگارکررہی ہے مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے لوگوں کوکم تنخواہیں بھی مل رہی ہیں ہر پاکستانی کیلئے زندگی تنگ ہوتی جارہی ہے.

(جاری ہے)

بلاول بھٹو نے کہاکہ جس بے دردی سے وزیر مہنگائی پر بات کرتے ہیں عوام دیکھ رہے ہیں حکومت کے لوگ کہتے ہیں مہنگائی ایشو نہیں ، غربت ہمیشہ سے ایشو رہا، حکومت کا کام ہے عوام کو ریلیف پہنچائیں ہم برداشت نہیں کریں گے آپ عوام پر ظلم کر یں. پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا بیرونی قرضہ بھی دیاجاسکتاہے اورعوام پرظلم بھی نہیں ہوسکتا، کیا موجودہ حکومتی وزیرصرف امیر ہونے کیلئے اقتدار میں آئے، بیرونی قرضہ کیا عوام کی کمر توڑ کر حاصل کیا جارہا ہے، یہ لوگ غریب کا حق مارنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے امیر کو سہولتیں اور غریب پر ظلم کیاجارہا ہے، عمران خان کس معاشی انصاف کی بات کرتے ہیں، غریب کیلئے چیزیں مہنگی کی جارہی ہیں، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریب عوام کی بات کی ہے. بلاول بھٹو نے کہاکہ کیا غریب عوام کو ریلیف مل سکتاہے؟ پیپلز پارٹی نے تمام حکومتوں کی نسبت سب سے زیادہ نوکریاں دیں اور 150فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی کا کارنامہ ہے.

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ عمران خان نے کہاتھا ایک کروڑ نوکریاں دوں گا مگر آج وہ روزگار چھین رہے ہیں،انہوں نے کہا تھا 50لاکھ گھر بناﺅں گا آج تجاوزات کے نام پر گھر بھی چھینے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ نظام نہیں چلے گا حکومتوں میں عوام کی معاشی صورتحال کابھی خیال رکھاجاتاہے. انہوں نے کہا بجٹ میں عوام کوریلیف نہیں ملا تو یاد رکھیں بےشک سیاستدانوں کوجیل میں ڈالیں عوام خود اپنے حق کیلئے نکلیں گے، آئی ایم ایف سے قرضے لینے کیلئے پارلیمان کو اعتماد میں ہی نہیں لیاگیا، عوام ٹیکسز کے ذریعے مزید بوجھ برداشت نہیں کریں گے.

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہرجگہ پرناکام نااہل حکومت حملے ہی حملے کررہی ہے، نااہل حکومت کیخلاف کوئی بات کرتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرتے، ایف آئی اے اب دہشت گردوں کے سہولت کارکے ماتحت ہے. انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے، ون یونٹ اورآمرانہ حرکتوں سے یہ ملک ٹوٹاہے صدارتی نظام رائج کرنے کی کوشش کی تو متنبہ کررہاہوں کہ یہ ملک ٹوٹے گا، پیپلزپارٹی ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہوگی.

وزیراعظم عمران خان کے صاحبہ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیان سےکوئی فرق نہیں پڑتا، صاحبہ لفظ کہنے سے کسی کاقدچھوٹانہیں ہوگاجس نے کہاوہ چھوٹا ہوگا، وہ اس قسم کے بیانات سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، کیاآپ ایسے بیان دےکرخواتین کےخلاف بات کررہے ہیں. بلاول بھٹو نے کہا مرد کوعورت کہنے سے کیاپیغام دیناچاہتے ہیں، وزیراعظم کہتے ہیں عورت ہوناگالی ہے، ہم سمجھتے ہیں خواتین کوسوسائٹی میں آگے لاناچاہیے، ایسے بیان دے کر عمران خان اپنے بے عزتی کررہے ہیں، کچھ نہیں پتہ توبات نہ کریں، اچھی بات نہیں کرنا آتا تو خاموش رہیں.

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ ایک بیان اور وزیراعظم دوسرا بیان دے رہے ہیں، سمجھدار لوگوں کو چاہیے ہمارے وزیراعظم کو کچھ سمجھائیں، پیپلزپارٹی ہر فورم پر حکومت کو للکار رہی ہے، اسی لیے انہیں تکلیف ہے، عجیب بات ہے اپوزیشن پارلیمان میں بات کررہی ہے اور حکومت جلسے کررہی ہے.

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments