چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیکر حکومت کو برطرف کرے،

نوازشریف کو وزراء کو باہر بھیج کر سازش کر رہا ہے ، حکومت کو اگرچند مہینے اور مل گئے تو ملک اگلے پچاس سال تک بہتری کی طرف نہیں جا سکتا،دیہاتوں میں 22گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے ،بجلی گھر بند ہوچکے ہیں ، عملی طور پر حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ، 85ارکان حکومت کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کی میڈیا سے گفتگو

پیر نومبر 21:40

چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیکر حکومت کو برطرف کرے،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے کہا کہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیکر حکومت کو برطرف کرے، نوازشریف کو وزراء کو باہر بھیج کر سازش کر رہا ہے ، حکومت کو اگرچند مہینے اور مل گئے تو ملک اگلے پچاس سال تک بہتری کی طرف نہیں جا سکتا،دیہاتوں میں 22گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے ،بجلی گھر بند ہوچکے ہیں ، عملی طور پر حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ، شوگر ملیں بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے کسان رو رہا ہے، حکومت کے 85ارکان ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ۔

پیر کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید دستی نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا جو بہت افسوس کی بات ہے ،حکومت کو اسمبلی میں بل کی ناکامی نظر آرہی ہے ، حکومت کے 85ارکان ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ، حکومت کا اجلاس سے بھاگنے سے ثابت ہوا کہ (ن) لیگ ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی ہے ،ذلت اور رسوائی کی وجہ سے حکومت میدان سے بھاگ چکی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نوازشریف اپنے پارٹی کے ارکان کا اعتماد کھوچکے ہیں ، ملک اس وقت اندھیرے میں ہے ، دیہاتوں میں 22گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے ،بجلی گھر بند ہوچکے ہیں ، عملی طور پر حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ، شوگر ملیں بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے کسان رو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے ملک اندھیرے میں ڈوب گیا ہے ، معاشی طور پر پاکستان تباہ ہوچکا ہے ، روزانہ 4,5ارب روپے چھاپے جا رہے ہیں ، ان کو چند مہینے اور مل گئے تو ملک اگلے پچاس سال تک بہتری کی طرف نہیں جا سکتا ، یہ نوازشریف کی نااہلی کا رونا رو رہے ہیں ، یہ پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں ، ملک اس وقت لاوارث ہے ، نوازشریف کو وزراء کو باہر بھیج کر سازش کر رہا ہے ، پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ،چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیکر حکومت کو برطرف کرے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments