ملکی معیشت، اعلانات ضروریات اور خواہشات سے ترقی نہیں کرتی،میاں زاہد حسین

کاروباری برادری کے تعاون سے 58 سو ارب کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے،چیئرمین نیشنل بزنس گروپ

جمعہ 18 جون 2021 16:08

ملکی معیشت، اعلانات ضروریات اور خواہشات سے ترقی نہیں کرتی،میاں زاہد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2021ء) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ تیس سال سے پاکستان کی شرح نمو جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں 1.8 فیصد کم رہی ہے جسے اب بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شرح نمو بڑھانے میں کاروباری برادری کا کردار انتہائی اہم ہے اور اگر اس کو مناسب صنعتی و تجارتی ماحول فراہم نہ کیا گیا تو ہماری شرح نمو اور ٹیکس بیس کبھی نہیں بڑھے گی اور 5800 ارب روپے ٹیکس کا حصول بھی ممکن نہی ہو گا، جس سے عوام کے مصائب اور حکومت کی مالی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں صنعت زراعت اور ایس ایم ایز کو توجہ دی گئی ہے اور دستاویز بندی پر بھی فوکس کیا گیا ہے مگر بعض فیصلوں پر کاروباری برادری میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے جسے حل کیا جائے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ اگلے سال شرح نمو میں مزید اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسے پانچ فیصد تک پہنچانے کے لئے تقریباً پینسٹھ ارب ڈالر کی درآمدات کرنا ہونگی جبکہ برآمدات ستائیس ارب اور ترسیلات 30 ارب ڈالرتک رہنے کا اندازہ ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 8 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جبکہ قرضوں کی واپسی کے لئے بھی اربوں ڈالر درکار ہونگے۔حکومت کے آخری سال میں شرح نمو کو چھ فیصد پر لانے کے لئے پچھتر ارب ڈالر تک کی درآمدات اور 35 ارب ڈالر کی برآمدات کرنا ہونگی جو ایک چیلنج ہو گا۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ پٹرولیم پراڈکٹس، ایل این جی، بجلی، پام آئل اور کوئلے سمیت درآمد کی جانے والی متعدد اشیاء کی قیمت میں اضافہ کا قومی امکان ہے جس سے خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔معیشت ملکی ضروریات اعلانات اور خواہشات کی بنیاد پر ترقی نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے کاروبار دوست پالیسیوں اور پبلک سیکٹر کاروباری اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس کے لئے کئی سال تک مسلسل محنت اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments