13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک صدی“ کے عنوان سے منعقد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک صدی“ کے عنوان سے منعقد کیاگیا جس میں معروف اہل قلم شخصیات نے افسانے کے حوالے سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی

ہفتہ دسمبر 15:58

13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2020ء) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک صدی“ کے عنوان سے منعقد کیاگیا جس میں معروف اہل قلم شخصیات نے افسانے کے حوالے سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی،

اجلاس کی نظامت اختر سعیدی نے کی، زاہدہ حنا نے ”عصری حسیت اور جدید ا±ردو افسانہ “کے حوالے سے کہاکہ ادیب ادب کے ذریعے سماج کی صورت حال سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا ہے، وہ ادیب اور دانشور جو ادب کو ایک کاری ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بھی درباروں میں اپنی جگہ نہیں بناتے بلکہ ان کا کام لوگوں تک سچائی اور حقائق کو اس کی اصل شکل میں پہنچانا ہے،

انہوں نے کہاکہ ہمارے سماج میں روشن خیالی سے تنگ نظری کی طرف واپسی ہوئی ہے جس کی جھلک قرة العین حیدر اور دیگر افسانہ نگاروں کے افسانوں میں نظر آتی ہے، ساجد رشید کی کہانی تو اس پس منظر میں ناقابلِ فراموش ہے، صبا اکرام نے ”معاصر افسانے کے تخلیقی اسالیب“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلوب عربی کا لفظ ہے جسے رائج الوقت ا±ردو میں اسٹائل کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اسلوب کہیں باہر سے تھوپا نہیں جاتا بلکہ وہ ایک تخلیق کار کے خود اندر سے پھوٹتا ہے، انہوں نے کہاکہ ہم عصر زبانوں میں جو اسالیب نظرآتی ہیں وہ تخلیق سے ہی نکلتی ہیں، ایک تخلیق کار جو محسوس کرتا ہے وہی اس کے اسلوب میں بھی نظر آتا ہے، امجد طفیل نے ”اردو افسانہ: حقیقت، علامت اور جدیدیت کے تناظر میں“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ادب اور ثقافتی زندگی کو باہر رکھنا ضروری ہے اور وہ لوگ قابلِ قدر ہیں جو نامساعد حالات میں بھی ادب اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی سب سے نمایاں ہے،

انہوں نے کہاکہ اردو افسانے کا سفر 117برس پر محیط ہے، 1930ئ کی دہائی میں افسانے نے ایک کروٹ لی، ترقی پسند تحریک اور حلقہ اربابِ ذوق سے وابستہ لوگ حقیقت نگاری کے نظریے کو مکمل کرتے ہیں،۱نہوں نے کہاکہ انسانی کردارجس طرح انسانی معاشرے کے بغیر بیان نہیں کیے جاسکتے اسی طرح انسانی معاشرت کو بھی بغیر انسانی کردارکے بیان نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کا قیام ایک سنگ میل ہے جس کے فوری بعد ردِعمل کے طور پر فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے افسانے سامنے آئے بعد ازاں انتظار حسین نے ا±ردو افسانے کی تاریخ کو بدل دیااور وہ مواد جسے سمجھا جاتا تھا کہ یہ افسانے کے لیے نہیں ہے اسے بھی اپنے افسانوں کا موادبنادیا، انہوں نے کہاکہ 1980ئ کی دہائی میں جو لوگ سامنے آئے ان میں امتزاجی رنگ نظر آتا ہے ان لوگوں نے مختلف رنگوں کو اپنے افسانوں میں جمع کیا انہوں نے کہاکہ 21ویں صدی میں ہمیں آج کی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے نئی جمالیات کی ضرورت ہے، کوئی بھی تخلیق کار اپنے اصل کلچر سے جڑے بغیر کوئی بھی بڑا کام نہیں کرسکتا، اگر ہم اردو افسانے کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو میری نسل کے لوگ یہ کام کرکے دکھائیں، ناصر عباس نیر نے”اردو میں مزاحمتی افسانہ “کے موضوع پر لاہور سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لکھنے کا عمل بجائے ایک خود مزاحمت ہے اگر یہ بات مان لی جائے تو یوں محسوس ہوگا کہ ادب صرف مزاحمت پر ہی مبنی ہوتا ہے جوکہ درست نہیں، 1857ئ کی جنگ ِ آزادی میں لکھنے والوں کا رنگ رجعت پسندانہ تھا ، انہوں نے کہاکہ ادب زبان کی سطح پر مزاحمت کرتا ہے اور بغاوت پورے نظام کے خلاف ہوتی ہے جبکہ مزاحمت محض چند پالیسیوں کے خلاف ہوسکتی ہے ،انہوں نے کہاکہ تین طرح کی مزاحمت ادب میں ہمیں ملتی ہیں ایک دانش وارانہ مزاحمت، دوسری ثقافتی مزاحمت اور تیسری ادبی مزاحمت، جب جبر کی شکل زیادہ ہوجائے تو اس سے نکلنے کے لیے یہ تینوں مزاحمتیں کام آتی ہیں، اخلاق احمدنے ”اردو افسانے کے سماجی و ثقافتی سروکار“کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ افسانے اور سماج کا رشتہ دائمی رہا ہے سماج سے ہی افسانے نے جنم لیا ہے، افسانہ سماج سے اس لیے جڑا ہوا ہے کہ اس میں ہماری محرومیوں کا ہر رنگ نظر آتا ہے ہمارے یہاں افسانے کا ثقافت سے رشتہ زیادہ مضبوط ہے اس لیے ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ سماج کی عکاسی ایک مسلسل عمل ہے جو تاریخ کا حصہ ہے، لمحہ موجود میں افسانہ نگاروں کے لیے نئے مطالبات جنم لے رہے ہیں، بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں، سماج اور ثقافت مستقل تبدیل ہورہے ہیں اور گلوبل ثقافت اب عام ہورہی ہے، اس طرح آگہی کے ہزاروں در کھل چکے ہیں مگر ساتھ ساتھ مقامی ثقافت ختم ہورہی ہے اور عالمگیر ثقافت اپنی جگہ بنانے کے لیے تیار نظر آتی ہے، انہوں نے کہاکہ یہ سماج سروں کو کاٹنے، دہشت گردی کرنے اور ریپ کرنے والوں کا ہے جہاں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں مگر سفاک حالات ہی میں بڑا ادب پیدا ہوا ہے،انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ ہمارا افسانہ نگار اس موجودہ دور میں بھی چراغ جلانے کی کوششوں کوجاری رکھے گا، زیب اذکار حسین نے ”اردو افسانہ اور ہماری سیاسی تاریخ“کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اردو افسانوں کو عام طور پر اپنے ارتقائی مراحل کے حساب سے منشی پریم چند کے ہاں دیکھا جاسکتا ہے، سجاد ظہیر کا افسانہ ”د±لاری“ سماج پر چوٹ کرتا ہے جبکہ ان ہی کا دوسرا افسانہ ”گرمیوں کی رات“ بھی گہری چوٹ لگاتا نظر آتاہے اور یہ سب سجاد ظہیر کے گہرے مشاہدات اور تجربات پر مبنی افسانے تھے، انہوں نے کہاکہ کرشن چندر، حیات انصاری، علی عباس، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، مرزا ادیب، حمید اختر، خدیجہ مستور، حاجرہ مستور اور دیگر کے نام اس ضمن میں اہم نظر آتے ہیں، انہوں نے کہاکہ احمد ہمیش کا افسانہ ”مکھی“ میں بھی معاشرے کی تنزلی کی آخری حد پیش کردی گئی ہے اسی طرح قدرت اللہ شہاب کے ”شہاب نامہ“ میں بھی بہت تفصیل کے ساتھ ذکر ہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں جو سیاسی صورت حال رہی اس میں ہماری تخلیقات سے کچھ نہ ہوا مگر میں نوجوانوں میں بڑے امکانات دیکھ رہا ہوں جبکہ خواتین افسانہ نگار بھی بہت عمدہ افسانے لکھ رہی ہیں انہوں نے کہاکہ افسانے کا ارتقائ کبھی رک نہیں سکتا، اقبال خورشید نے ”دہشت گردی اور اردو افسانہ“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انسان مرگیا تو کہانی نے جنم لیا، ادب موضوعات سے نہیں اسلوب سے بنتا ہے، کسی بھی بڑے واقعے کو فوری کہانی بنانا لکھنے والے کو الجھا سکتا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کے بعد درپیش صورت حال پر منٹو، بےدی، انتظار حسین اور ان کے ہم عصروں نے بہت کچھ لکھا ہے، انہوں نے کہاکہ کہانی کار ان افراد تک ہی رسائی پا سکتا ہے جن کی سوچ اس سے مختلف ہوتی ہے، ادب اور ادیب بے قدری کاشکار ہوئے ہیں اگر یہ عالمی اردو کانفرنس نہ ہوتی تو ادیب کو بھلایا جاچکاہوتا اور یہ سب سے بڑی دہشت گردی ہوتی، انہوں نے کہاکہ ہرشخص ایک کہانی ہے اور ہرشخص سے وابستہ دوسرا شخص بھی کہانی ہے مگر کہانی کار ہی ماراگیا تو پھر کہانی کون لکھے گا؟

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments