لاہور سے اوباش نوجوان گرفتار، چونیاں کے ملزمان تک پہنچنے کا امکان

ملزم نے برگر پوائنٹ بنایا ہوا تھا، دکان میں بچوں سے زیادتی کرتا اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتا تھا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ ستمبر 12:11

لاہور سے اوباش نوجوان گرفتار، چونیاں کے ملزمان تک پہنچنے کا امکان
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) لاہور میں نواں کوٹ سے ایک اوباش نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کے دوران چونیاں میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان تک پہنچنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا۔چونیاں کے عبدالمجید نے نواں کوٹ کے علاقے گنج بخش پارک میں برگر پوائنٹ بنایا۔کچھ روز قبل مقامی 11سالہ بچے سے نازیبا حرکات کیں اور موبائل ویڈیو بنا لی۔

گذشتہ روز اس نے ایک دوسرے بچے کے ہاتھ پہلے بچے کو ایک تحریر بھجوائی کہ میں تمہارے لیے برگر بناؤں گا تم نہ آئے تو تمہاری ویڈیو دوسرے بچوں کو دکھاؤں گا۔بچے نے اپنے والد ارشد کو بتا دیا۔ارشد کے والد نے اس متعلق پولیس کو آگاہ کیا۔پولیس نے بچے کو برگر پوائنٹ بھجوا دیا۔عبدالمجید بچے کو دکان کے اندر لے کر گیا۔

(جاری ہے)

اور دکان بند کرنے کا ڈرامہ رچایا تو پولیس نے دکان کھول لی او زیادتی اور ویڈیو بنانے کی کوشش کرتے ہوئے عبدالمجید کو گرفتار کر لیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش کا بتایا کہ کچھ ایسے دوستوں کا بھی بتایا ہو اس کے ہم خیال اور چونیاں کے رہائشی ہیں۔اس پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ملزم سے تفتیش میں چونیاں کے ہم خیال دوستوں کی گرفتاری پر سانحہ چونیاں کے اصل ملزمان تک پہنچے کا امکان پیدا ہو گیا۔جب کہ دوسری جانب ق چونیاں میں ایک اور بچے کے مبینہ اغوا کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

اغوا ہونے والے بچے سے متعلق عینی شاہدین نے بتایا کہ اغوا کار آئے اور ایک بچے کو ساتھ لے گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محلہ ہاشم چوک سے نامعلوم مبینہ اغواکاروں نے 2 بچوں کو اُٹھایا تھا۔ بچوں کے شور مچانے پر مقامی لوگوں نے اغوا کاروں کا پیچھا کیا جس پر مبینہ اغوا کار ایک بچے کو ساتھ لے گئے جبکہ دوسرے بچے کو بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کرفرار ہو گئے۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اغوا کاروں سے بچنے والے بچے عمر دراز کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال چونیاں منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی جبکہ بعض مشتعل افراد نے تھانہ سٹی پر بھی پتھراؤکیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments