پنجاب حکومت نے کان کنوں کے لیے ریسکیو اسکواڈ قائم کردیا

کان کنوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے معائنہ سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کردی گئی، معذور کان کنوں کو 6 ہزار روپے ماہانہ کی گرانٹ دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب

Sajid Ali ساجد علی اتوار 19 ستمبر 2021 12:48

پنجاب حکومت نے کان کنوں کے لیے ریسکیو اسکواڈ قائم کردیا
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 19 ستمبر2021ء ) پنجاب حکومت نے کان کنوں کے لیے ریسکیو اسکواڈ قائم کردیا ، کان کنوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے معائنہ سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب میں کان کنوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت کان کنوں کے لیے ریسکیو اسکواڈ قائم کیا گیا ہے ، کان کنی کے دوران ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سرگودھا پل 111 پر ریسکیو اسکواڈ قائم کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ میانوالی مکڑ وال میں 10 بیڈز پر مشتمل مائنز لیبر ویلفیئر اسپتال بنایا گیا ہے اس کے علاوہ 6 مائنز لیبر ویلفیئر ڈسپنسریاں بھی بنائی جارہی ہیں ، اس کے علاوہ چکوال میں کان کنوں کے لیے موبائل ہیلتھ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ کان کنوں کے بچوں کے لیے اسکالر شپ کی مد میں 300 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ، جس کے تحت کان کنوں کے 5 ہزار 600 بچوں کو تعلیمی وظائف 8 کروڑ 50 لاکھ روپے دیے جائیں گے جب کہ معذور کان کنوں کو 6 ہزار روپے ماہانہ کی گرانٹ دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کنسٹرکشن سیکٹر کے فروغ کیلئے سیمنٹ سیکٹر پر عائد پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور پنجاب میں نئی سیمنٹ فیکٹریوں کیلئے22نئے این او سی جاری کئے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں 10 سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے این او سی جاری ہو چکے ہیں جبکہ پنجاب میں سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے مزید این او سی کے اجراء کا عمل جاری ہے۔

نئی سیمنٹ فیکٹریاں قائم ہونے سے لاکھوں لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، پسماندہ علاقوں میں نئی سیمنٹ فیکٹریاں قائم ہونے سے معاشی ترقی ہوگی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید بتایا کہ نمک اور کوئلے کی صنعت کے فروغ کیلئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ، پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ایک ارب 64کروڑ روپے ریونیو وصولی کی گئی ہے ، نمک کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے 21راک سالٹ ایکسپلوریشن لائسنس جاری کئے گئے ، کوئلے کی 4اورنمک کی 8 مائنز کے آغاز سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ، کوئلہ کی کان کنی پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے اور کوئلہ کے 20 بلاکس کے نیلام عام میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments