چین کے سرمایہ کار سانی گروپ کی پنجاب میں پن بجلی کی پیداوار کیلئے سرمایہ کاری کرنے کیلئے دلچسپی

مشینری و آلات کی تنصیب کیلئے پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے ساتھ مل کر جگہ کے تعین کے لئے مشاورت جاری

جمعہ اگست 18:44

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست2017ء) چین کا ایک بہت بڑا سرمایہ کار سانی گروپ پنجاب میں پن بجلی کی پیداوار کیلئے سرمایہ کاری کرنے کیلئے انتہائی سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں مشینری و آلات کی تنصیب کیلئے پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے ساتھ مل کر جگہ کے تعین کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے کمپنی کے ایک اہم نمائندہ ریان ژا نے گزشتہ روز پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے دورہ کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانی گروپ پنجاب کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے پن بجلی کی پیداوار کیلئے تقریبا 1.5 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا جس سے 1000 میگا واٹ پن بجلی پیدا کی جائیگی۔

ریان ژا نے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے سے نہ صرف سانی گروپ کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان بھی ترقی کے ثمرات سے بہرہ ور ہو پائے گا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے اعلی عہدیداروں نے سانی گروپ کے نمائندگان کو پن بجلی کی پیداوار کیلئے موزوں ترین سائٹس کی نشاندہی کی اور پنجاب پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ضروری اقدامات سے روشناس کروایا۔

پنجاب بورڈ برائے تجارت کی طرف سے سانی گروپ کے نمائندے کو قابل تجدید توانائی کے حوالے سے میپنگ رپورٹ دکھائی گئی جو عالمی بنک نے پن بجلی کے منصوبوں کی تنصیب کیلئے موزوں ترین جگہوں کی نشاندہی کیلئے خصوصی طور پر تیار کی ہے۔ سانی گروپ اس ضمن میں پہلے ہی دو سائٹیں فائنل کر چکا ہے جس پر پنجاب پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ نے ان سے رجسٹریشن مکمل کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اس کے بعد چینی کمپنی کو اظہار دلچسپی کا خط جاری کیا جا سکے اورسرمایہ کاری کا یہ عمل تیزی کے ساتھ مکمل ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق سانی گروپ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی مشینری کی تیاری کے حوالے سے دنیا بھر میں پانچویں جبکہ چین میں پہلے نمبر پر ہے ۔ سانی گروپ پہلے ہی1000 میگا واٹ پن بجلی کی پیداوار کیلئے پنجاب پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ساتھ جبکہ اس ضمن میں سہولت کاری کیلئے پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments