قبائلی اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں،،محمودخان

قبائلی اضلاع میں شفاف اور کامیاب الیکشن کا انعقاد بھی صوبائی حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، قبائلی اضلاع کو 10 سالہ منصوبے کے تحت ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جائے گاجس کے تحت پہلے تین سالوں کیلئے منصوبہ بندی عمل میں لائی گئی ہے ،افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مزید بہتر بنائے جارہے ہیں اس مقصد کیلئے طورخم بارڈر کو 24/7 گھنٹے کھلا رکھنے کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا ہے،وزیراعلی خیبرپختونخوا

اتوار ستمبر 19:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ Ms Joanna Reid سے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں ملاقات کی ہے ۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ نے ڈی ایف آئی ڈی کی طرف سے صوبے اور قبائلی اضلاع کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تعاون پر شکریہ ادا کیاہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔

اُنہوںنے کہاکہ سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام یقینا ایک مشکل مرحلہ تھا جس کو صوبائی حکومت نے مستقل بنیادوں پر حل کرلیاہے جبکہ قبائلی اضلاع میں شفاف اور کامیاب الیکشن کا انعقاد بھی صوبائی حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ قبائلی اضلاع کو 10 سالہ منصوبے کے تحت ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جائے گاجس کے تحت پہلے تین سالوں کیلئے منصوبہ بندی عمل میں لائی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت سب سے زیادہ توجہ قبائلی اضلاع میں تیز تر عمل درآمد والے منصوبوں پر مرکوز کر رہی ہے ۔ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مزید بہتر بنائے جارہے ہیں اس مقصد کیلئے طورخم بارڈر کو 24/7 گھنٹے کھلا رکھنے کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا ہے ۔اسی طرح دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے دوسرے ملحقہ بارڈرز کو بھی تجارتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کئے جائیں گے جس سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گابلکہ قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی بھی ممکن ہو سکے گی ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ تاریخ میں پہلی بارصوبے کے ساتھ ساتھ قبائلی اضلاع میں بھی لوکل باڈی الیکشن کرنے جارہے ہیںجس سے قبائلی اضلاع میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں گے ۔ تمام صوبائی محکموں کی قبائلی اضلاع تک توسیع کر دی گئی ہے۔ قبائلی اضلاع میں خواتین کی ترقی کیلئے کئی منصوبے جاری ہیں ۔ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں صحت ، تعلیم اور روزگار پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔

ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ نے صوبائی حکومت کی سابقہ فاٹا کا صوبے میںانضمام، وہاں پر جنرل الیکشن کا انعقاد اور قبائلی اضلاع کے عوام اور خصوصی طور پر خواتین کی ترقی کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ نے عندیہ دیا ہے کہ اُن کا ادارہ قبائلی اضلاع میں تعلیم ، صحت ، سیاحت اور معاشی ترقی کیلئے تعاون یقینی بنائے گی جبکہ خواتین کی تعلیم اور ترقی کیلئے خصوصی طورپر کام کرے گی ۔

اُنہوںنے خواہش ظاہر کی ہے کہ قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی پروگراموں کی نگرانی تیسری پارٹی سے کرائی جائے گی تاکہ شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا جا سکے ۔ ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ نے بتایا کہ ان کا ادارہ قبائلی اضلاع میں سکل ڈویلپمنٹ پروگرام ، سٹینڈر ڈائزیشن آف سکولز ، خواتین کی تعلیم کیلئے خصوصی منصوبوں میں دلچسپی لے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ڈی ایف آئی ڈی کے ساتھ تمام ممکن مدد یقینی بنائے گی ۔

اُنہوںنے صوبے بشمول قبائلی اضلاع میں ڈی ایف آئی ڈی کی کاوشوں کو سراہا ہے اور قبائلی اضلاع کی ترقی میں مزید تعاون کی اُمید ظاہر کی ہے ۔ملاقات میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، ایس ایس یو ہیڈ صاحبزادہ سعید اور دیگر بھی موجود تھے ۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے ڈی ایف آئی ڈی سربراہ Joanna Reid کو شیلڈ پیش کی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے بھی ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ کو شیلڈ پیش کی ۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments