بدر منیر

35سال تک پشتو فلم انڈسٹری پر راج کیا

پیر اکتوبر

Badar Munir
وقار اشرف
پشتو فلموں کے لیجنڈ اداکار بدر منیر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے مگر وہ آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں،یہ نامور اداکار گیارہ اکتوبر 2009ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے،انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔1938ء کو سوات کے سیاحتی مقام مدین کے نواحی گاؤں شاگرام میں پیدا ہونے والے بدر منیر کے والد مولوی یاقوت خان انہیں مذہبی تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہاں تھے ۔

بدر منیر نے فلموں میں کام سے پہلے کئی چھوٹے موٹے کام کئے،کراچی میں رکشہ بھی چلایا پھر اداکار وحید مراد کے دفتر میں بطور ٹی بوائے کام کا موقع ملا ۔جب پشتو کی پہلی فلم”یوسف خان شیر بانو“بنی تو اس میں یاسمین خان کے ساتھ ہیرو کا کردار ان کے حصے میں آیا،انہوں نے تقریباً 41سال تک فلم انڈسٹری پر راج کیا اور پشتو فلموں کے دلیپ کمار کہلائے لیکن وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں پشتو فلموں کا بدر منیر ہوں ۔

(جاری ہے)


1970ء میں دولت اور شہرت کی دیوی بدر منیر پر اس وقت مہربان ہو گئی جب یاسمین خان کے ساتھ ان کی پہلی پشتو فلم”یوسف خان شیر بانو“ منظر عام پر آئی جو دونوں کے لئے نیک فال ثابت ہوئی،”یوسف خان شیر بانو“پٹھانوں کی ایک لوک داستان پر مبنی تھی،جب فلم کی نمائش ہوئی تو عوام نے اسے بے حدپسند کیا ۔پہلی فلم کی کامیابی کے بعد پشتو فلمسازی میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور بدر منیر کے ہمراہ یاسمین خان کی جوڑی ہٹ ہو گئی ۔

بدر منیر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کراچی کی ایک اردو فلم”جانور“میں ہیرو کاسٹ کیا گیا جو کامیاب نہ ہو سکی ۔کچھ عرصے کے بعد ہدایت کار ممتاز علی خان کی اردو فلم”دلہن ایک رات کی“میں کام کا موقع ملا جس میں نمی ان کی ہیروئن اور آصف خان ولن تھے ۔بدر منیر اور یاسمین خان کی جوڑی نے 70سے زیادہ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ۔

بدر منیر کی دیگر پشتو ہیروئنوں میں ثریا خان،شہناز،مسرت شاہین،خانم،نجمی،وحیدہ خان،نادرہ،ممتاز اور نمی شامل تھیں ۔اُردو فلموں میں نشو،نیلی،بابرہ شریف، دیبا،چکوری اور روحی بانو کے ساتھ بطور ہیرو اداکاری کے جوہر دکھائے ۔پشتو کے علاوہ چالیس کے قریب اُردو فلموں میں بھی کام کیا،پنجابی فلموں میں اپنے لہجے کی وجہ سے کام کرنے سے گریزاں تھے اس کے باوجود کئی فلمسازوں نے انہیں پنجابی فلموں میں سائن کیا ۔

بدر منیر کی یادگار فلموں میں یوسف خان شیر بانو‘آدم خان درخانئی،اوربل،گرفتار،میرے دور،ٹوپک زما قانون،دپختون شان،رواج، خاندانی بدمعاش،پڑانگ،اقرار،جشن،باڈی گارڈ اور مسافر کے علاوہ سینکڑوں دیگر فلمیں شامل ہیں ۔
”تین بادشاہ“ان کی پہلی پنجابی فلم تھی جبکہ مشہور اُردو فلموں میں جہاں برف گرتی ہے،دلہن ایک رات کی،دشمنی اور چیخ شامل ہیں ۔

پشتو فلم ”دیدن“میں انہوں نے اندھے کا کردار بہت خوبصورتی سے کیا تھا ۔اَن پڑھ ہونے کے باوجود بطور کہانی نویس کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں ۔فلم”جاگ اُٹھا انسان“میں بدر منیر نے ایک انگریز کا کردار کیا تھا ۔بدر منیر نے کئی زبانوں کی فلموں میں کام کیا جن میں پشتو کے علاوہ پنجابی،اردو،سندھی اور ایک ہند کو فلم بھی شامل ہے ۔انہوں نے 35سال تک پشتو فلم انڈسٹری پر بلا شرکت غیرے راج کیا اور 408فلموں میں ٹائٹل رول ادا کئے،اس طویل عرصے میں 65ہیروئنز کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا،53ہدایت کاروں نے اپنی فلموں میں کاسٹ کیا سوائے سنگیتا کے تمام خواتین ہدایتکاروں کی فلموں میں آئے ۔

1972ء سے 2007ء تک ہر سال ان کی کوئی نہ کوئی فلم ریلیز ہوتی رہی۔ان کی پانچ فلموں نے ڈائمنڈ جوبلی،14نے پلاٹینم جوبلی،40نے گولڈن جوبلی اور 162نے سلور جوبلی منائی،انہیں فنی خدمات پر لاتعداد اعزازات کے علاوہ حکومت پاکستان سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی ملا جس کے لئے انہیں 2008ء میں نامزد کیا گیا تھا لیکن 23مارچ2009ء کو ان کے لواحقین نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔

اس کے علاوہ بہترین اداکاری پر انہیں آٹھ نگار، گریجویٹ ،نور جہان،بولان اور دیگر لاتعداد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا ۔بدر منیر کے پسندیدہ ہدایت کاروں میں عزیز تبسم ،ممتاز علی خان اور نسیم خان کے نام شامل تھے جنہوں نے پشتو فلم انڈسٹری کو آباد رکھا ۔بدر منیر نے آصف خان کے ساتھ 200فلموں میں کام کیا ۔ انہوں نے ساری زندگی ایک مزدور کی طرح کام کیا ،جس وقت ان کی پہلی فلم”یوسف خان شیر بانو“کی شوٹنگ جاری تھی اس وقت بھی وہ شوٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد گلیوں میں ریڑھی پر چپل بیچا کرتے تھے ۔


بدر منیر نے بطور ہیرو435ٹائٹل کر دار کئے،25فلموں میں مہمان اداکار آئے،52سینما سکوپ،54بلیک اینڈ وائٹ تھیں،402پشتو، 31پنجابی اور ایک انگریزی فلم میں بھی کام کیا ۔وہ صحیح معنوں میں پشتو فلموں کے بے تاج بادشاہ تھے ۔”لیونئی“ان کی آخری فلم بے حد کامیاب رہی ۔پشتو فلم”مسافر“میں ان کے بیٹے دلبر منیر نے ہیرو جبکہ بدر منیر نے مہمان اداکار کا کردار ادا کیا تھا،وہ اپنی فلموں میں دل ہلانے والے خطر ناک مناظر خود فلماتے تھے ۔اداکارہ رانی کے ساتھ”یوہ ناوے“میں ہیرو آئے جس نے گولڈن جوبلی منائی ۔بدر منیر چار سال تک فالج کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 11اکتوبر 2008ء کو جہان فانی سے رخصت ہو گئے ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments