Mahroom Waarsat

محروم وراثت

ہفتہ نومبر

Mahroom Waarsat

مصورِ غم علامہ راشد الخیری
محمد احسن تحصیلدارکے دو بچے محسن اور رضیہ تھے ،مگر نہ معلوم احسن کس طبیعت کا بات تھا اُس کی نظر محسن پر پڑتی تو محبت میں ڈُوبی اور اور رضیہ پرپڑتی تو زہر میں بجھی ۔سمجھدار ،پڑھا لکھا ،مگر ظالم کی عقل پر ایسے پتھر پڑے تھے کہ دیکھ کر خوش ہوتا نہ سوچ کرنادم ،محسن کی تعلیم پر روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا ،مگر رضیہ غریب کو اُستانی بھی میسر نہ تھی ،کچھ اس لئے نہیں کہ وہ تعلیمِ نسواں کا مخالف تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی کمائی میں اس کو حقدار نہ سمجھتا تھا ،محسن کے پاس جُو تی کے آٹھ آٹھ دس دس جوڑے اور رضیہ کے پاس صرف ایک جوتی وہ بھی مہینوں کی ٹوٹی پُھوٹی تو نہیں ،مگر ٹوٹی سے بدتر ! محسن کے پاس ایک نہیں درجن بھر سُوٹ اور رضیہ کے پاس گنے چنے دو دو پٹے اور لُطف یہ کہ جو کچھ بھی رضیہ کو میسر تھا وہ اس کا حق یاباپ کی محبت نہیں صرف صفیہ کا اصرا رتھا ،ورنہ واقعات تو یہی کہتے ہیں کہ رضیہ کُھلے سر اور ننگے پاؤں بھی پھرتی تو احسن کو ملال نہ ہوتا۔

(جاری ہے)


باپ کی اس لاپرواہی اوربے پر واہی پر بھی وقت رضیہ کے ساتھ تھا،صفیہ ،جہاں شوہر کی اس کمی پر افسوس کررہی تھی ،وہاں اُس نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ اس نقصان کی تلافی کی اور جہاں تک بھی ممکن ہوا،اس کی تعلیم وتربیت میں انتہائی کوشش کرتی رہی ۔رضیہ کی فراست اُس کا شوق ،اُس کی سعادت مندی ،صبر اور خاموشی ،ماں کے دل میں گڑی جاتی تھی ،وہ اس کے یا اس کے باپ کے سامنے نہیں ،تنہائی میں اکثر روتی ۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کے موقع پر اس کے کچھ عزیز آنے والے تھے ،شاموں شام احسن نے بیوی اور بچے کے لئے سب سامان منگوایا ،احسن ،محسن ،صفیہ ،رضیہ چاروں ایک جگہ بیٹھے تھے ۔احسن ایک ایک چیز اُٹھاتا اور دکھاتا جاتا تھا اور متوقع تھا کہ بیوی اور اس کے بچے اس انتخاب کی داد دیں ۔احسن جس وقت ایک چیز دکھانے کے بعد صفیہ ،رضیہ اور محسن کی صورت دیکھ کر دادطلب کرتا اُس وقت صفیہ اُس ڈھیر کو کبھی شوہر کو اس امید پر دیکھتی اور تکتی کہ شاید اس ڈھیر سے یا شوہر کے منہ سے رضیہ کے لئے کوئی چیز یارضیہ کانام نکلے ،مگر پُوری نوچیزیں چار صفیہ اور پانچ محسن کی ختم ہوگئیں لیکن رضیہ کے نام کی چیز نہ ڈھیری سے نکلی نہ اُس کانام باپ کے منہ سے نکلا ۔


محسن نے باپ کی محبت اور کوشش کی داد دل کھول کر دی ،مگر صفیہ کے سامنے اُس وقت ایک اور ہی سماں تھا۔وہ اوپری دل سے تعریف کرتے ہوئے اُٹھی ،ساتھ ہی خیال آیا کہ اللہ غنی مُسلمان بچیاں جو ماں کی چوکھٹ پر چند روزہ مہمان ہیں ،بھائیوں کے مقابلے میں اتنا حق بھی نہیں رکھتیں کہ پانچ کے مقابلہ میں ایک چیز آجاتی ۔
میں جانتی ہوں کہ رضیہ کے پاس سب کچھ ہے اور میں نے حیثیت سے زیادہ اور ضرورت سے بڑھ کر اس کا سامان کر لیا ہے ۔

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ سب باپ ہی کی کمائی کا ہے ۔لیکن اس کے واسطے اگر ایک چیز بھی اس وقت آجاتی تو اس کا دل کتنا بڑھ جاتا۔باپ اس کی خوشی دوچارروپے میں بھی مول نہ لے سکا،محسن خدااس کی عمر دراز کرے ۔
آگے اور پیچھے ،آج اور کل مالک اورمختار ہے ،لیتا ہے اور لے گا ،مگر رضیہ کہاں اور یہ گھر کہاں ؟صفیہ شوہر کے پاس سے ایک خفیف بخاردل میں لے کر اُٹھی تھی ،مگر کمرے تک پہنچتے پہنچتے ہلہلا گئی اور اس خیال کے آتے ہی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔

جانتی تھی کہ آنکھوں میں آنسوؤں کے قطرے تیر رہے ہیں اور چاہتی تھی کہ اس حالت کو ظاہر نہ ہونے دے ،مگر اس جذبہ محبت نے جومامتا کی آغوش میں پلا تھا بے قابُو کر دیا اور بچی کی صورت دیکھنے کو منہ پھیرا۔
ایک ساکت مجسمہ تھا جو رضیہ کی صورت میں گُم سُم باپ کے سامنے بیٹھا زمین کو دیکھ رہا تھا ۔ماں نے بچی کی خاموش صُورت دیکھ کر اُس کے دل کی کتاب پڑھی اور ٹھنڈا سانس بھر کر آگے بڑھی ،احسن بیوی کایہ رنگ دیکھ کر حیرت میں ادھر آیا اور کہنے لگا۔
”بس وہی ایک پِٹنا کہ رضیہ کا کچھ نہ آیا،اس کے پاس سب کچھ موجود ہے۔“
بیوی ،”موجود تو محسن کے پاس بھی ہے ۔“
میاں ،”محسن کی اُس کی کیا برابری؟“

تاریخ اشاعت: 2018-11-17

Your Thoughts and Comments