Noshaba (episode 2)

نوشابہ (قسط نمبر 2)

عالیہ بی بی پیر مارچ

Noshaba (episode 2)
میں تائی امی کے ساتھ گھر کے اندرونی حصے کی طرف آئی۔ کچا صحن اور اس کے بعد سیمنٹ کا بنا ہوا برآمدہ اور پھر قطار میں کمرے۔ برآمدے میں ایک پیلی روشنی والا بلب جل رہا تھا صحن تک تو اس کی روشنی پہنچ ہی نہیں رہی تھی لیکن اتنے بڑے برآمدے کے لیے بھی وہ ناکافی تھا۔ اندر کمرے میں ایل ای ڈی بلب تھا روشنی قدرے بہتر تھی۔مجھے بٹھا کر مجھ سے بیگ لے کر ایک کونے میں رکھے لوہے کے صندوقوں کے قطار میں سب سے اوپر والی صندوق پہ رکھا ۔

مجھ سے آرام دہ ہو کر چارپائی پہ بیٹھنے کو کہا اور یہ کہہ کر باہر گئیں کہ نوشابہ بھی آتی ہے۔ نوشابہ۔۔۔ میں نے نام سنا تھا۔ جب آپ کسی ایسے خاندان میں بیاہے جاتے ہیں جن کو آپ پہلے سے نہیں جانتے، ان کے رشتہ داروں کو یاد رکھنا بہت وقت لیتا ہے۔میں دو چار منٹ بیٹھی رہی پھر برآمدے میں نکل آئی۔

(جاری ہے)

تائی آمی صحن کے آخری کونے میں لگے تندور میں آگ جلا رہی تھیں۔

اتنے میں دائیں طرف سے ایک لڑکی میری طرف آتی دکھائی دی۔ ملگجے اندھیرے میں اس کا ھیولا ہی نظر آرہا تھا۔ قریب آنے پر اس کے حلیے پہ غور کیا۔ سر پہ آونی ٹوپی جو کہ اس کے اونی شال سے ماتھے پر سے جھلک رہی تھی۔ شال سے اس نے بکل ماری تھی جس کی وجہ سے اس منہ بھی ڈھکا ہوا تھا لمبا گھٹنوں سے زرا اوپر تک دو جیبوں والا سویٹر، ہاتھ اس نے چادر کے اندر سے سینے پہ باندھے تھے۔

پاؤں میں موزے اور ربڑ کی چپل۔ قریب آنے پر اس نے ہاتھ باہر نکال کر مصافحہ کیا۔ گلے لگایا اور حال پوچھا۔ آدھا چہرہ اس کا ابھی بھی ڈھکا ہوا تھا۔ پانی پیا؟ نہیں، بہت ٹھنڈ ہے۔ میں نے منع کیا۔ اچھا، چلو باورچی خانے آجاؤ، میں چائے بناتی ہوں گرم گرم پیو گی تو ٹھنڈ کم ہو جائے گی۔ وہ برآمدے میں بنے دائیں طرف باورچی خانے کی طرف بڑھیں۔ وہ ایک بہت ہی بڑا اور اونچا کمرہ تھا۔

سامنے بائیں دیوار کے قریب مٹی کے بنے دو چولھے تھے اس کے اوپر چمنی بنائی گئی تھی۔ چولھے کے ایک طرف لکڑی سے بنے بیٹھنے کے لئے کٹکے تھے اور دوسری طرف چٹائی بچھی ہوئی تھی۔ سامنے کی پوری دیوار میں سیمنٹ سے بنی الماریاں تھیں جس میں برتن، دیگچے، آٹے گڑ اور گھی کے کنستر، ایک ٹوکری میں تازہ ٹماٹر، مرچیں دھنیا اور شاید توری یا کدو پڑا تھا۔

اس کے ساتھ زمیں پر جوٹ کی بوری پر پیاز آلو اور لہسن پھیلا ہوا تھا۔ ایک کونے میں فریج اور اس کے ساتھ ہی کمرے کی طرف ایک دروازہ تھا۔ میرے لیے اس نے چٹائے چولھے کے اور قریب کردی اور بیٹھنے کو کہا میں شوز اتار کر اس پہ اکڑوں بیٹھ گئی۔ اس نے لکڑی سے بنی چوکی سنبھالی اور آگ سلگانے لگی۔ ایک طرف لکڑیوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔ لکڑیاں جن خو چیر کر ٹکڑے کئے گئے تھے اور اس کے رکوایا جھاڑی نما ٹہنیاں کچھ بھوسہ نما خاشاک۔ بڑی موٹی لکڑیاں رکھ کر بیچ میں کچھ بھوسہ رکھا پھر جھاڑی والی ٹہنیاں اور پھر ماچس کی تیلی جلا کر اندر بھوسے پہ پھینک دی۔اس نے آگ پکڑی اور پھر چھوٹی ٹہنیاں بھی جلنے لگیں۔ مجھے بہت اچھا لگنے لگا۔تھوڑی سی سردی کم ہوئی تو میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-23

Your Thoughts and Comments