بند کریں
ادب افسانہپتھر کی عورت۔۔!

مزید افسانہ

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

پتھر کی عورت۔۔!
اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ ! یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا ، اتنا بعد میں کہ نہ میں واپس جا سکتی ہوں نہ میں آگے جانے پر قدرت رکھتی ہوں۔۔۔

فوزیہ بھٹی:
اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ ! یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا ، اتنا بعد میں کہ نہ میں واپس جا سکتی ہوں نہ میں آگے جانے پر قدرت رکھتی ہوں۔اگر کچھ پہلے احساس ہوتا تو میں اپنے لیے کوئی ایک دیوارِ گریہ اٹھا رکھتی اور ساری باتیں سارے دکھ اس سے کہتی جاتی۔
میں بہت چھوٹی تھی جب پہلی بار سُنا کہ میں بہت بہادر ہوں بات بے بات نہیں روتی۔ کبھی چوٹ بھی لگ جائے تو بس آنسو گرتے رہتے ہیں واویلا نہیں کرتی۔ شور نہیں کرتی رو رو کہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر نہیں اٹھاتی۔ بہادر ہونے کے اسی دھوکے میں ، میں نے زندگی کے 25سال گزار دیئے مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں واقعی بہت بہادر ہوں اتنی بہادر کہ رونا مجھے اپنی توہین لگنے لگا۔ زندگی میں ایسے بہت سے مقام آئے جہاں مجھے بہت رونا آیا مگر میں نہیں روئی ۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ نہ رونا میری بہت سی نفسیاتی بیماریوں کی جڑ بن گیا تھا۔ایک مدّت تک نہ رونے سے میں بہت گُم صُم سی ہو گئی تھی اتنی گُم صُم کہ بہت سے لوگوں کو یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید میرا دماغی توازن درست نہیں ہے ۔ ایک وقت ایسا تھا کہ کوئی میری طرف غور سے دیکھتا یا کوئی بھولا بھٹکا جملہ میرے حال احوال کے لئے پوچھ لیا جاتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ اب مجھے رو لینا چاہیے اتنا رو لینا چاہیے کہ مجھے تھوڑا سا قرار آجائے۔ اسی کشمکش میں زندگی کی زیادتی کچھ یوں بھی رہی کہ عمر کے پہلے پچیس سال جس بات کو میری طاقت سمجھ کر میرے تعارف کا درجہ حاصل تھا کہ میں ”روتی نہیں“ازدواجی زندگی کے اگلے پچیس سال وہی طاقت میری کمزوری اور شاید گناہ گار ہونے کی حد تک طعنہ بن گئی۔
ایسا نہیں کہ مجھے روناآتا نہیں تھا۔آتا تھا بہت رونا آتا تھا،بات بے بات آتا تھا۔ہوا یوں کہ ایک دوبار اگر آنسو چھلک ہی پڑے اور میں زبردستی تھونپی گئی اس مضبوط جذباتی ملکہ کے عہدے سے اترنا بھی چاہا تو میرے مجازی خدا نے مجھ سے کہا کہ ”عورت اور مگر مچھ کے آنسو وٴں میں خاص فرق انہیں محسوس نہیں ہوتا“۔ تو بس جو ذرا سا نارمل ہونے کی کوشش میں تھی واپس اسی جذباتی تابوت میں بند ہوگئی۔ اگر صرف رونا ہی میرا مسئلہ ہوتا تو بات اتنی خراب نہ ہوتی میں نہ رونے کی کوشش بلکہ جدوجہد میں اتنا مصروف ہوئی کہ میں ہنسنا اور مسکرانا بھی بھول گئی۔ نہ رونا میرے اعصاب پر اس طرح سوارتھا کہ میں باقی جذبات سے لا تعلق ہو کہ زارو قطار رونے کی خواہش کو دباتی چلی گئی۔اس خواہش کو پھر میں نے اتنا دبایا اتنا دبایا کہ زندگی کی جدوجہد آدھے سے زیادہ اسی میں صرف ہو گئی۔
میرا نہ رونا میری طاقت سے میری کمزوری میں ڈھل گیا پھر یہ میری ذات کا حصہ بن گیا جب میں نے تیسرے مہینے میں اپنا پہلا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی کھو دیا تب میری ساس نے مجھے پہلی بار پتھر کی عورت ہونے کا اعزاز دیا۔ان کے مطابق دنیا میں کوئی ایسی عورت ہو ہی نہیں سکتی کہ جس کا آنے والا پہلا پہلا بچہ آنے سے پہلے ہی اس سے چھن جائے اور اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ ٹپکے۔پتہ نہیں ان کو میری سرض اور سوجی ہوئی آنکھیں دکھائی نہیں دیتی تھیں یا جان بوجھ کر وہ ایسا کہتیں تھیں۔اب کسی کو کیا پتہ کہ میرے اس بچے کے ساتھ میرے اندر کا ایک حصہ مر گیا تھا کتنے دن میں مکمل طور پر اپنے حواسوں میں نہیں آسکی تھی پرکسی کے سامنے نہ رونے کی خواہش اور کوشش ایسی شدید اور گڈمڈ ہوگئیں کہ میں اپنے ہونٹوں کو سختی سے دبائے رکھتی کبھی کبھی میرے جبڑے دُکھنے لگتے۔ ڈینٹسٹ کے مطابق میرے نچلے دانتوں پر ایسے نشان بن گئے تھے جیسے میرا منہ کسی آلے میں جکڑا رکھا ہوا رہا ہو۔میرے مجازی خدا کو سوتے ہوئے میرے دانت زور زور سے پیسنے کی آوازوں سے اتنی چڑ ہوئی کہ اس نے اپنا کمرہ ہی بدل لیا۔ پھراور بچے ہوئے میں دنیا کی نظروں میں عورت بن گئی۔ پہلی بار جب میری بیٹی سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے رو پڑی تو میری ساس نے اس سے کہا کہ وہ بہت بہادر رہے اور گندے بچوں کی طرح نہ روئے اس دن میں پہلی بار اس عورت پر دھاڑی اپنی بیٹی کو اُٹھا یا میں نے اسے چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے کمرے میں لے جا کر میں نے اس کو اپنی گود میں لے لیا۔ اس کے ماتھے پر خاموشی سے اپنے ہونٹ رکھ دئیے لیکن یہ ہرگز نہیں کہا کہ خاموش ہو جاوٴ اور ساری زندگی میں نے اس کو اپنے لمس کے احساس سے تقویت دی میں نے اس کو سکھایا کہ اگر درد ہو تو چلاتے ہیں رونا آئے تو روتے ہیں دل بھر آئے تو چیخ بھی لیتے ہیں میری تو عمر ہی ”پتھر کی عورت“ کے طعنوں میں گزر گئی۔ لوگ اب میری قبر کے پاس سے دن میں بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں میری قبر کے بارے میں مشہور ہے کہ رات گئے یہاں سے اونچی اونچی رونے کی آوازیں آتیں ہیں مگر اب مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے اب مجھے کسی کا خوف نہیں ہے میری قبر بھلے اب سفید پتھر کی ہے مگر میں پتھر کی عورت نہیں ہوں۔
اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ ! یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا ، اتنا بعد میں کہ نہ میں واپس جا سکتی ہوں نہ میں آگے جانے پر قدرت رکھتی ہوں۔اگر کچھ پہلے احساس ہوتا تو میں اپنے لیے کوئی ایک دیوارِ گریہ اٹھا رکھتی اور ساری باتیں سارے دکھ اس سے کہتی جاتی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے