Qaid Tanhai

قید تنہائی

حماد رزاق چدھڑ جمعہ مئی

Qaid Tanhai
ولی دو بہنوں کا اکیلا بھائی اور والدین کا چشم و چراغ ہے۔ولی خاندان کے لڑکوں سے تھوڑا مختلف مزاج رکھتا تھا۔پُر نور چہرہ لمبی زلفیں اور جوانی کی رُت ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔شیطانیاں،مکاریاں اور اداکاریاں زور پکڑنے لگیں۔جیسے ہی ولی کے والد کو بڑھاپے کی جھلک دکھائی دی اس نے گھر کا معاشی و معاشرتی نظام ولی کے سپرد کر دیا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ ولی ابھی سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اپنے مستقبل کو محفوظ کر لے۔

۔۔ ولی نے بچپن سے ہی لاڈلا اور زدی تھا۔والدین ممکنہ حد تک اس کی ہر خواہش پوری کرتے رہے۔ولی کچھ غلط کام کرتا تو والدین میں سے کوئی ایک اس کی حمایت میں کھڑا ہو جاتا جسکی وجہ سے اسے کبھی اپنے کیے پر ندامت محسوس کرنے کا موقع نہیں ملا۔مکمل اختیار،پیسے کی عام دستیابی، لاڈلے پن اور برے دوستوں کی صحبت نے ولی کو منشیات کی لت سے ملبوس کر دیا۔

(جاری ہے)

پہلے تو ولی باہر دوستوں کی محفلوں میں جاتا تھا لیکن اب سب بری محفلیں اس کے گھر کی زینت بن گئیں۔ دن رات بالی ووڈ فلمیں اور سنگیت کی وجہ سے گھر سینما کی شکل اختیار کر گیا۔ولی کے والدین بہت پریشان تھے کیونکہ سب کاروبار اور جائیداد اس کے نام کر چکے تھے اور ولی بھی ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ نشہ کی لت نے ولی کے ساتھ اس کے والد کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

گھر کے دونوں فرد دن دگنی رات چگنی غریبی خریدنے میں پُر گرم ہو گئے۔دشمن دوست خوشامد کے پل کے نیچے ان کی عقل بہا رہے تھے۔نشہ کی لت بتدریج پورے گھر پر ڈیرے ڈال گئی۔ چند عزیز و اقارب نے راہ راست پر لانے کی کوشش کی لیکن ان کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔ ولی کی ضعیف والدہ شدید بیمار ہو گئیں اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئی۔ ولی کی والدہ اپنے ساتھ ساری رحمتیں اور برکتیں بھی لے گئیں۔

جائیداد آہستہ آہستہ منشیات کی نظر ہو گئی۔ولی اور اس کے خاندان نے غربت کی منزل کو بہت جلد حاصل کر لیا۔ نشہ کی لت بیماری میں تبدیل ہو چکی تھی۔غریبی اور بیماری نے مل کر ان کے چودہ طبق روشن کیے۔ولی کی بیماری زور پکڑ گئی اور بچی کھچی رقم بیماری پر صرف ہو گئی۔ نشہ کی زیادتی اور بیٹے کے غم نے ولی کے ابا کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ پچھتاوا،ندامت،بیماری اور ذمہ داریوں کا بوجھ ولی سے نہ اٹھایا گیا اور پچیس سال کی عمر میں ہی اہل و عیال کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملا۔

جائیداد کا ضیاع تو قابلِ برداشت تھا لیکن جوان بیٹے کی موت نے ولی کے ابا کو زندہ گور میں دھکیل دیا۔ رونقین اور محفلیں ساری اجڑ گئیں۔ نشہ کی تپش نے پورے گھر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ بوڑھے ہاتھ پاؤں بھی جواب دے گئے کوئی پرسان حال نہیں بچا تھا۔غم کا طوفان ولی کے باپ کو بھی دنیائے فانی سے لے اڑا۔ تکالیف کی وراثتی حق دار ولی کی بہنیں تھیں۔

یتیم بچیوں کے سر پر اہل علاقہ اور عزیز و اقارب نے ہاتھ رکھا۔دلاسے دیے اور ممکنہ حد تک مالی معاونت کی۔ قیامت کا طوفان عقل و دل سے تجاوز کر چکا تھا۔ گھر میں رہ کر بے گھر ہو گئیں تھیں۔ آہستہ آہستہ لوگ اپنے دھیان میں مگن ہو گئے۔ان کے پاس حال غم سنانے کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا۔ایک بہن نفسیاتی مرض میں مبتلا ہو گئی کیونکہ غم زیادہ تھے دماغ میں نہیں سما سکے۔

دوسری بہن خود کو سمجھاتی یا اپنی بہن کو کنٹرول کرتی۔صورتحال اسطرح بدل گئی کہ گلستان صف ماتم بن چکا تھا۔رزق تو خدا کی طرف سے عطا ہوتا رہا لیکن کوئی ان سے شادی پر آمادہ نہ ہوا۔ حالات کی بے رحمی نے پاؤں سے زمین چھین لی اور انہیں تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا۔دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ چکے تھے۔ دردِ دل ایسا تھا جسکی کوئی دوا نہ تھی۔ لوگوں کے گھروں میں ڈھول کی دھن انہیں کھا جاتی۔ معاشرتی رنگینیوں سے بھی کنارہ کر گئیں۔ عورت ذات ہونے کی وجہ سے نہ کما سکتی تھیں اور نہ کہیں جا سکتی تھیں۔ایک ہی کمرے میں بند بیحال بہنوں کی بے بسی چیخ چیخ کر سوال کرتی ہے کہ ”ابا! ولی اور آپ نے جہیز میں ہمیں قیدِ تنہائی کا سنگھار دے کر خود کو ہی رخصت کر دیا ہے۔“
تاریخ اشاعت: 2020-05-22

Your Thoughts and Comments