Roshni Ka Safar

روشنی کا سفر

عائشہ جاوید پیر جون

Roshni Ka Safar
مجھے سکون چاہیے۔ کہاں سے ملے گا سکون…؟ تمہیں پتا ہے میں تھک گئی ہوں سمجھ نہیں آتا کیا کروں کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس کے ذریعہ میں اِس بے چینی سے نکل جاؤں۔ مجھے لگتا ہے میں بوجھ ہوں سب پر ماں باپ پر دوستوں پر بہن بھائیوں پر….میرا دل چاہتا ہے بہت دور کہیں ہمالیا کی پہاڑیوں میں چھپ جاؤں جہاں کوئی انسان نا ہو کوئی جاندار نہ ہو کیوں کہ جب بھی میں کسی کو سانس لیتے ہوئے دیکھوں گی مجھے میرے پچھلے چھ سال یاد آئیں گے جن کو میں نے کسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے گزارا اور خالی ہاتھ اُتنی ہی آج ہوں جتنی چھ سال پہلے تھی… مریم بنا آنسوؤں کے سسکتے ہوئے بولے جا رہی تھی شاید پچھلے چھ سال کا درد جو وہ دل میں رکھے ہوئے تھی آج اُس کو ایک ہمدرد کے سامنے نکالنے کا موقع ملا تھا اور ہمدرد بھی ایسا جس سے نہ کوئی خاص دوستی تھی نا کوئی خاص ملاقاتیں ہوئی تھیں بس ایک عجیب کشش تھی اُس میں کہ انسان نا چاہتے ہوئے بھی سب کچھ بول جاتا تھا اُس کو شاید راز رکھنے آتے تھے ہاں عائشہ کو راز رکھنے آتے تھے،اچھا تو پھر چھوڑ دو.اگر یہ سب اتنی ہی تکلیف دیتا ہے ..؟ عائشہ مسکرائی کیا یہ اتنا ہی آسان ہے جتنی آسانی سے تم نے بول دیا ہے….؟ مریم کے چہرے کے تاثرات بدلے شاید یہ اِس سے بھی آسان ہے..؟ عائشہ پھر مسکرائی تم کیسی باتیں کر رہی ہو کیا تمہیں پتا ہے میں چھ سال سے نہیں اپنے دل سے نکال پائی اور تم کتنی آسانی سے بول رہی ہو چھوڑ دو..بھول جائے۔

(جاری ہے)

۔ مریم کے تاثرات میں دکھ اذیت درد سب کچھ ایک ساتھ سمٹ آیا اور ایک قرب کے ساتھ بولی۔ دیکھو جس کی عادت تمہیں چھ سال سے ہے اور تم اس کو چھ سال سے جھیل رہی ہو کیا تمہیں پتا ہے تم اِس کو چھ سیکنڈ میں بھول سکتی ہو….؟ اب عائشہ کے لہجے میں نرمی تھی۔ چلو ٹھیک ہے تمہیں لگتا ہے چھ سیکنڈ کم ہیں کچھ اور پل لے لو یا شاید تمہیں کچھ گھنٹے کچھ دن یا کچھ ہفتے چاہیے.. اور تم جس کو چھ سال سے نہیں چھوڑ پائی اس کا مطلب یہ نہیں تھا تم سے چھوڑا نہیں گیا بلکہ تم چھوڑنا ہی نہیں چاہتی تھی۔

لمبا سانس خارج کیا اور مریم کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں اب کوئی تاثر نہیں تھا ۔ تمہیں پتا ہے قاسم علی شاہ کہتے ہیں ایک عادت کو چھوڑنے میں زیادہ سے زیادہ اکیس دن لگتے ہیں لیکن اِس صورت میں اگر آپ چھوڑنا چاہیں تو ورنہ ساری زندگی لگے رہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا… عائشہ کے الفاظ سے مریم کا چہرا سفید پڑتا جا رہا تھا جیسے اُس کے چہرے سے سارا خون نچوڑ دیا گیا ہو اور وہ بولی اب بھی کچھ نہیں۔

کیا تمہیں علم ہے جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ایسے ہی محبت محبت کو اور عشق عشق کو کاٹ دیتا ہے اُس کا عشق چھ سال سے اپنے دل میں لیے بیٹھی ہو اِس کو کسی اور عشق سے کاٹ دو ۔ مریم کا چہرا سرخ ہوا اور حیران نظروں سے عائشہ کو دیکھا لیکن الفاظ کا سہارا پھر نہیں لیا آج وہ شاید بس سنا چاہتے تھی۔ مجھے پتا ہے اب تم سوچ رہی ہو کہ میں تمہیں بیوفائی کا کہہ رہی ہوں ایک ایسے انسان سے بیوفائی کا جس سے پچھلے چھ سال سے تم وفا کرتی آئی ہو پر کیا تم ایک انسان کے عشق کو اللہ کے عشق پر ترجیح دو گی عائشہ کی بات پر حیران تاثرات لیے مریم شاید سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

پر شاید میں تمہیں آدم کے عشق سے آدم کے رب کے عشق تک لے کر جانا چاہتی ہوں تم آدم کے عشق کی جڑیں آدم کے رب کے عشق سے کاٹ دو اور امر ہو جائے…. تمہیں بوجھ لگتی ہے نا زندگی تو میں تمہیں ایک آیت سناتی ہوں جس میں اللہ پاک فرماتے ہیں ''وَفِی أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ'' ترجمہ: اور کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے؟ (21) سورة الذاریات اس آیت کو غور سے پڑھو دیکھو تمہارا رب تم سے کیا کہہ رہا سنو اُس کی بات اور اپنے ہی من میں ڈوب کے زندگی کا سراغ حاصل کرلو کیا تم اپنے اندر نہیں دیکھ رہی تمہارے رب نے کیا کیا رکھا ہے… تھوڑی سختی آئی تھی عائشہ کے لہجے میں اور مریم کی آنکھ سے پہلا آنسو نکلا اور پلکوں پر ہی اٹک گیا پھر دوسرا جو گال کو نم کر گیا اور پھر تیسرا جو گردن تک رسائی حاصل کر گیا پھر ایک تواتر سے آنسو جاری ہوئے اور ہر آنسو کے ساتھ ابن آدم کے عشق کی جڑیں کاٹی جاتی رہیں اور ابن آدم کے رب کا عشق مضبوط ہوتا چلا گیا ۔

عائشہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اور وہ اُٹھ کر باہر نکل گی مریم کو موقع دیا گیا تھا آدم کے رب سے باتوں کا….. راستہ وہ دیکھا چکی تھی اور اگلا کام اللہ کا تھا اُسے صرف اپنے رب کی طرف سے اپنے رب کا پیغام پہنچانے کا حکم تھا اپنے بندے کے دل میں کیسے ڈالنا ہے وہ کائنات کا رب خوب جانتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-01

Your Thoughts and Comments