Sitara

ستارہ

بدھ جون

Sitara
اس صبح فجر کی نماز پڑھ کر کئی دن بعد جب اس نے کھڑکی کھول کر باہر کی فضا کو دیکھنا چاہا تو اسے اس چاہت نے ہی اندر سے سکون بخشا، پھر اس نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے اور اپنا سر کھڑکی سے ذرا باہر نکال کر نیچے کی طرف دیکھا، نیچے بلکل سناٹا تھا، کوئی انسان تھا نہ جانور اکثر صبح کے اس وقت وہاں کا یہی عالم ہوا کرتا تھا۔۔۔ اس نے گردن گھما کر دائیں جانب دیکھا تو وہاں بھی اس آم کے درخت کے نیچے کی بینچ بلکل خالی تھی۔

پھر بائیں جانب دیکھا تو اسکول کے باہر بھی بلکل ویرانی تھی۔۔۔اب اس نے آنکھیں بند کرکے ایک لمبا سانس کھینچا اور اس سے پہلے کہ وہ سانس چھوڑتا کسی نے پچھلی سڑک پر جلتی بتی کو بند کردیا جو برابر والی بلڈنگ کے پچھلے دروازے پر لگی تھی۔ چونک کر اس نے آنکھیں کھولیں تھیں۔

(جاری ہے)

۔۔ اب اس پوری سڑک پر اگلی، پچھلی، دائیں اور بائیں، ہر جانب ویرانی اور سناٹے کے ساتھ ساتھ اندھیرا بھی چھا گیا تھا۔

۔۔اندھیرا ہوتے ہی ایک پل کو اسے کچھ نظر نہ آیا مگر ایک ہی لمحے بعد اسے اس سڑک کا ہر کونا بلکل صاف صاف نظر آنے لگا۔ اس نے سوچا کہ سورج نکلنے میں تو خاصہ وقت پڑا ہے یہ روشنی چاند کی بھی نہیں تھی۔جونہی سر آسمان کی طرف اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ایک بڑا ٹکڑہ ایک نہایت روشن اور چمکدار ستارے کو پھلانگتا ہوا آگے کو نکلا ہے۔ اس ستارے پہ نظر پڑتے ہی وہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔

۔۔ یہ اتنا چھوٹا ستارہ اتنی بڑی اندھیر سڑک کو روشن کیسے کرسکتا ہے؟ پھر خود ہی اسکے دل نے اسے جواب دیا یہ ستارہ نہیں نور ہے وہی نور جو قلب انسان میں کسی چھوٹے سے تل کے برابر موجود ہے پھر بھی پوری کائنات کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے۔اسے اسکی کلاس میں پڑھایا گیا ایک شعر یاد آیا تھا ''خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے۔۔۔فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے''. اس نے آنکھوں کو بند کرلیا اسکے باوجود اسے وہ روشنی یا نور اسی طرح محسوس ہورہا تھا اور آہستہ آہستہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-03

Your Thoughts and Comments