Virus

وائرس

عاطف ندیم بدھ مارچ

Virus

"سنوعلی!!! یہ وائرس ، میری جان لے گیا تو!!؟؟" "تو زندگی مجھ پر بھی حرام ہو جائے گی۔ " بلال کے مذاق پر ، علی نے ایسا جواب دیاکہ،، دونوں دوست کافی دیر تک، مزید کوئی بات کیے بغیر،، خاموشی سے قدم اٹھاتے رہے۔کندھوں پر بیگ لٹکائے، دونوں مین گیٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔وائرس کے وبائی خدشے کی پیش نظر یونیورسٹی دو ہفتوں کے لیے بند ہو رہی تھی۔

آج دونوں گھروں کو لوٹ رہے تھے، دونوں کا تعلق مختلف صوبوں سے تھا،، اور یہی دوری دونوں کو پریشان کیے جا رہی تھی۔ مین گیٹ سے باہر آکر،دونوں نے ایک دوسرے کو آخری بار دیکھا۔۔ وہ آخری الفاظ، اب بھی ان کے کانوں میں گونج رہے تھے۔دونوں دوست مذاق میں ایک ایسا وعدہ کر گے ،کہ جو وبائی مرض سے بھی زیادہ خطر ناک ثابت ہوا۔

(جاری ہے)

۔گاڑیوں میں بیٹھتے وقت ، دونوں نے ایک دوسرے کو آخری بارپلٹ کر دیکھا،خاموشی سے ہاتھ ہلائے اوردھڑکتے دلوں کے ساتھ جدائی کے نہ ختم ہونے والے سفر پر روانے ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "آپ علی کو روکنے کی بجائے، خود گاڑی کی چابی دے رہے ہیں!!ان کو چھٹیاں موج مستی کے لیے تو نہیں دی گئی۔ جانتے نہیں کہ یہ وائرس کتنا جان لیوا ہے؟؟۔" " کیوں بچے کر ڈرا رہی ہو،ہم کوئی چین کے شہر ووہان میں تو نہیں بیٹھے ہوئے۔ یہ لو گاڑی کی چابی،، اور خوب انجوائے کرو۔۔" اس سے پہلے کہ مما مزید کچھ کہتی،، علی چابی لیتے ہی تیزی سے باہر چلا گیا۔

"حد کرتے ہیں آپ بھی نا،،اگر کچھ ہو گیا اسے تو!!۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " آپ دونوں کے میری باتیں مذاق لگ رہی تھی نا!!۔نیوز دیکھی ہیں آپ دونوں نے۔"ناشتے کی ٹیبل پر وہ شوہر اور بیٹے سے مخاطب ہوئی۔ "اب کیا ہو گیا مما!؟؟۔" ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے علی بولا۔ " ہوا یہ کہ سندھ میں بھی وائرس پھیل چکا ہے۔ میرا یہی خدشہ کل آپ دونوں کو مذاق لگ رہا تھا نا!!۔

۔" " کیا!؟؟سندھ میں وائرس پھیل چکا ہے! ، مما آپ سچ کہ رہی ہیں نا؟؟۔" سندھ کا نام سنتے ہی علی چونک گیا۔اور ہاتھ سے چائے کا کپ چھوڑتے ہوئے ، موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا۔پاس بیٹھے مما، بابا علی کے چہرے کے تاثرات دیکھ چکے تھے۔ "علی!! تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے،وائریس نے تم پر حملہ کر دیا ہے۔کیا ہوا!!تم ایک دم خوفزدہ کیوں ہو گئے؟۔

" ۔ "بابا!! ، ،، وہ بلال!!!۔ وہ بھی تو،،،، سندھ میں رہتا ہے!!۔" بلال کے وہ الفاظ پھر اس کے کانوں میں گونجنے لگے،،، "یہ وائریس میری جان لے گیا تو" ۔ "لیجیے جباب!!!، سندھ پانچ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے،،، اور تم ایک دوست کے لیے فکر مند ہو گے۔سبحان اللہ!!!۔ ۔"بابا نے طنز کیا "کیا ہاتھ میں موباہئل لے بیٹھے ہو!!پہلے ناشتہ تو کر لو،، پھر کال بھی کر لینا بلال کو۔

۔" "مما ! بلال کال پک نہیں کر رہا!!!۔ آپ سچ بول رہی ہیں نامما، کیا واقعی سندھ میں وائرس پھیل چکا ہے۔میرا دوست!!۔" "کم آن علی !!کیا پاگل پن ہے یہ،،،بچے تو نہیں ہو تم!!!پورے سندھ میں درجن بھر تو کیسسز نہیں اور تمہیں خدشہ ہے کہ کہیں بلال نہ شکار ہو چکا ہو!!! "۔ "ہاں بابا! مجھے فکر ہے بلال کی!! جب تک سندھ میں ایک بھی پیشنٹ ہو گا نا تو مجھے سکون نہیں ملے گا۔

" علی مسلسل بلال کے نمبر پر کال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر دوسری طرف کی خاموشی سے علی کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ "اتنا کمزور ہوتم!!۔۔ چائنا میں نہیں دیکھا تم نے!! ،،ہزاروں لوگ اپنے عزیزوں سے بچھڑ گے،،ہمیشہ ہمیشہ کے لیے،، اور تم صرف ایک دوست کے لیے اتنا دل پر لے رہے ہو۔۔ " "وہ میرے لیے بہت خاص ہے بابا!! بلال کو کچھ نہیں ہونا چاہیے !!، کمینا ! کال بھی تو نہیں پک کر رہا!!۔

" کال نہ پک کرنے پر علی کی پریشانی مزید بڑھتی جا رہی تھی،،بلال کے آخری الفاظ ہی علی کی پریشانی میں اضافہ کر رہے تھے، ایک انجانہ خوف تھا ، کہ علی کی دھڑکنیں تیز ہوئے جا رہی تھیں۔ " علی وائرس نے میری جان لے تو؟!! وائرس نے میری جان لے لی تو!!؟؟۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "مما،مما!! دروازہ کھولیں مما!! بابا،،بابا۔" " اب کیا ہو گیا اسے!! دوست کے پیچھے ہماری جان بھی کھائے جا رہا ہے!! رات کے دس بجے دروازہ پیٹے جا رہا ہے۔

۔"وہ سونے ہی لگے تھے جب علی نے دستک دینی شروع کر دی "اچھا میں دیکھتی ہوں نا!! ،، مگر پلیز آپ چپ رہیے گا،، پہلے ہی وہ بہت پریشان ہے ۔"علی مسلسل دروازے پر دستک دیے جا رہا تھا۔ دروازہ کھول کر اس سے پہلے کہ مما کچھ پوچھتی،، علی چیخ اٹھا۔۔ "بلال ہاسپٹل میں ہے مما،وہ بہت سیریس ہے مما!! وہ مجھ سے بات بھی نہیں کر سکا،، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔

۔ پلیز کچھ کریں نا۔" علی کی آواز بھاری ہو چکی تھی، اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھی۔اس کے بابا بھی اٹھ کر پاس آگے تھے اور دلاسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ "اچھا بیٹھ تو جاؤ یہاں!!پلیز آپ پانی تولائیں ۔اور بتاؤ کس سے بات ہوئی تمھاری؟؟۔" علی کو بیڈ پر بٹھاتے مما پوچھنے لگی۔ علی کے ایک طرف مما خود بیٹھ گی اوربابا بھی دوسری طرف بیٹھ چکے۔

"بلال کی چھوٹی بہن سے با ت ہوئی ہے امی،،، بلال ویلینٹیلیٹر پر ہے،، وہ،،،،،،، وہ بہت سیریس ہے مما،، اسی لیے مجھ سے بات نہیں کر سکا۔ "علی بچوں کی طرح پھوٹ رہا تھا۔ "سنبھالو خود کو علی،،، ٹھیک ہو جائے گا بلال۔" "میری اس سے بات بھی نہیں ہوئی بابا،،،،،، وہ مر رہا ہے بابا،،، میرا بلال مر رہا ہے ۔ پلیز کچھ کریں۔"علی کی حالت دیکھ کر وہ دونوں بھی پریشان ہو گئے۔

"تم رونا تو بند کرو پہلے،،ٹھیک ہو جائے گا وہ!!!! ۔" "بابا !! ہم صبح ہوتے ہی سندھ جائیں گے،،،، ٹھیک ہے نا بابا!!چلیں گے نا آپ دونوں میرے ساتھ؟؟۔"سندھ جانے کی خوائش پر مما ،بابا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،، کیونکہ ابھی علی لاعلم تھا کہ سندھ لاک ڈاون ہو چکا ہے،اور سندھ کی طرف سفر کرنا ناممکن ہے، مگر رات کے گیارہ بجے علی کو حوصلہ دینے کے لیے ،ہاں میں ہاں ملا دی گئی۔

بلال کا سن کر وہ دونوں بھی بہت پریشان ہو گے تھے، اور دل میں بلال کی صحتیابی کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح، ناشتے سے پہلے ہی ،علی کا سندھ جانے کے لیے اصرار شروع ہو چکا تھا۔سندھ کے لاک ڈاون ہونے کی بات شاید علی کو جھوٹی لگی ،، اسی لیے بابا، علی کو ٹی وی لاؤنج لے گے۔۔ "علی بیٹا،، شاید تمھیں ہماری بات جھوٹ لگے ،،،،،، اسی لیے یہ نیوز دیکھو لو۔

" " کیسی نیوز بابا!!ْ؟؟۔"دیوار پر لگی ٹی وی اسکرین آن ہو چکی تھی، اور علی نیوز کی پٹی پر نظریں دوڑا رہا تھا۔ وہ اٹھا اور بابا کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔ "میں پھر بھی جاؤں گا بابا!!کوشش تو کی جاسکتی ہے نا۔" " علی علی!! سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا،،، کوئی آدھ گھنٹے کا راستہ تو ہے نہیں!!۔ پورے چھ گھنٹے کا سفر ہے،، دیکھا نہیں ٹی وی پر کہ ساری سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

اچھا ٹھیک ہے !! ادھر آؤ ایک اور چیز دیکھو، پھر فیصلہ کرنا۔ " وہ علی کا ہاتھ پکڑ کر،نیچے گلی میں کچھ دکھانے، اسے بالکنی میں لے گے ۔ "وہ دیکھونیچے ،،، چاچو کی گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے نظر آرہے ہیں نا۔۔ تمھارے چاچو بھی لاک ڈاون کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور انجام دیکھ لو گاڑی کا۔"علی نے بابا کی آنکھوں میں دیکھا اور بغیر بولے وہاں سے چلا آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کب سے دروازے پر بیل ہو رہی ہے،،، جاؤ بیٹا دیکھو تو۔ایک تولاک ڈاون میں بھی، لوگوں کو گھروں میں آرام بھی نہیں لگتا، ،، جانتے بھی ہیں یہ وائریس خطرناک ہے، پھر بھی دوڑے چلے آتے ہیں۔"علی کی ماں نے چھوٹی بیٹی کو آواز دی کہ دروازہ پر دیکھے کون بیل دے رہا ہے ، کیونکہ ملازم بھی اسی وبا کی وجہ سے چھٹی پر تھے۔ "کون ہے یہ عورت بیٹا!! آپ تو اسے اندر ہی لے آئی ہو۔

گیٹ پر ہی پوچھنا تھا نا۔"لباس اور حالت سے آنے والی عورت بہت غریب لگ رہی تھی، دروازہ کھلنے پر وہ ساتھ ہی اندر آگئی تھی۔ "جی کون ہیں آپ،،،،۔۔"اس اجنبی عورت کا حلیہ دیکھ کر علی کی مما نے حقارت سے پوچھا۔ علی بھی دور صوفے پر ٹیک لگائے، سب دیکھ رہا تھا۔۔اس عورت نے ایک دم رونا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر علی کی مما گبھرا سی گی،اور علی بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اس کو عورت سے دیکھنے لگا۔

"بیگم صاب!! میرا بیٹا بہت بیمارہے،، خدا را ہماری مدد کرو۔"وہ عورت مسلسل روئے جا رہی تھی۔ "کیسی مدد!!! اگر بیمار ہے تو ہاسپٹل لے جاؤ،،،،، یہاں کیا لینے آئی ہو؟؟۔"علی کی مما کا لہجہ اس لیے بھی سخت ہو رہا تھا کہ وہ وائرس کی وبا سے خوفزدہ تھی اور یہ اجنبی عورت تو گھر کے اندر تک آچکی۔ "بیگم صاب!! باہر سڑک پر کوئی گاڑی نہیں ہے،، کیسے ہاسپٹل جاؤں،، خدارا ہماری مدد کرو۔

۔ ہمارا جوان بیٹا ہے،، مر جائے گا وہ!!۔" اس عورت کے آخری الفاظ پر علی چونک سا گیا،کیونکہ اس کا دوست بھی بہت دور مر رہا تھا، اور وہ اس عورت کی طرح ہی بے بس تھا۔عورت کو دیکھ کرعلی پھر تڑپ گیا۔ "کہاں ہے آپ کابیٹا؟؟ اور کیا ہوا اسے؟۔" علی اس کے عورت کے پاس جا کر پوچھنے لگا۔ " اسے بت تیز بکار ہے،، بت کھانسی کرتا ہے، بولتا ہے ، سب جسم میں درد ہے۔

" یہ سب سن کر علی کی مما کا رنگ اُڑ گیا، کیونکہ یہ علا مات تو !!!!۔علی بھی سمجھ گیاکہ اس کے بیٹے کو کیا مسئلہ ہے۔ "میں لے جاؤں گا آپ کے بیٹے کو،،،کہاں ہے آپ کا گھر؟؟۔"علی نے آسمان کی طرف دیکھا ،ایک لمبی سانس لی،جیسے اللہ سے اس کے بدلے کچھ مانگ رہا ہو۔ "علی !!آر یو آؤٹ آف یور مائنڈ !!؟؟؟۔ جانتے ہو کیا کرنے جا رہے ہو۔خبردار گھر سے ایک قدم بھی باہر رکھا تو۔

اور بی بی آپ جاؤ یہاں سے۔۔ ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔۔" علی کی مما سمجھ چکی تھی کہ اس عورت کا بیٹا وائرس کا شکار ہو چکا ہے۔ اورایسے میں اس کی مدد کرنا ، خود موت کو گلے لگانے کے برابر ہے۔ "ہاں میں ہوش میں ہوں مما!! اور میں ضرور جاؤں گا۔ آپ لوگوں نے کہا نا کہ،، سندھ چھ گھنٹے پر دور ہے۔ تو دیکھیں سندھ خود چل کر میرے پاس آگیا۔بلال نہ سہی تو اس کا غریب بیٹا سہی۔

میں جاؤں گا مما۔ اور آپ مجھے نہیں روکیں گی۔" علی نے ساتھ ٹیبل پر پڑی گاڑی کی چابی اٹھائی اور عورت کو چلنے کا اشارہ کیا۔مما اس کے پیچھے دوڑی مگر وہ تیزی سے باہر جا چکا تھا۔ماں کے چلانے پر بھی ، علی نہ رکا اور اس عورت کے ساتھ چلا گیا، شاید بلال سے کیا گیا عہد نبھانے جا رہا تھا" ، کہ تمھیں کچھ ہو گیا تو، زندگی مجھ پر بھی حرام ہو جائے گی۔

" وہ عورت تھوڑی ہی دور ، ایک کچی آبادی سے گاڑی کی تلاش میں آئی تھی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے، سڑک پر اسے کوئی گاڑی نہ ملی تو وہ پوش علاقے میں مدد مانگنے آپہنچی۔ علی نے اس کے بیٹے کو گاڑی میں بٹھایا اور ہاسپٹل لے گیا، سارے راستے علی بار بار آسمان کی طرف دیکھتا،، اس کے لب ہلتے پھر ایک نظر پیچھے گاڑی میں تڑپتے اس نوجوان کو دیکھتا۔جیسے اس نیکی کے بدلے اللہ سے کچھ مانگ رہا ہو۔

واپسی پر گھر پہنچتے پہنچتے اسے شام ہوچکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر پہنچ کر جیسے ہی اس نے، گاڑی سے نیچے قدم رکھا ، اس کی مما تیزی سے اس کی طرف لپکی، اور زور دار تھپڑ اس کے منہ پہ دے مارا۔ "مرنے کا بہت شوق ہے نا تجھے!!!! کچھ احساس بھی ہے اپنے ماں باپ کا ۔۔پچھلے پانچ گھنٹوں سے انتظار کر رہے ہیں ہم۔۔" "پڑھے لکھے جاہل شخص ہو تم!! بلال کی جان کی فکر تو ہے تمھیں مگر، اپنی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں،،،،،، دفعہ ہو جاؤ اندر۔

"علی جا کر ٹی وہ لاونج میں بیٹھ گیا، جہاں اس کی مما بھی پریشان بیٹھی تھی۔بابا بھی وہاں آکر بیٹھ چکے۔اور غصے سے علی کی طرف دیکھنے لگے۔ "کیوں کیا تم نے ایسا؟؟ جسے تم ساتھ گاڑی میں لیے پھرتے رہے ہو نا،، وہ موت تھی موت!! جو کسی کو بھی چمٹ سکتی تھی، اور تمھیں بھی۔۔" "آئی ایم سوری بابا! مجھے لگا یہی میرا بلال ہے، جو میرے گھر کے پاس ہی کہیں مر رہا ہے،، تو!! تو میں اسے بچانے چلا گیا۔

" "اسے بچانے نہیں، بلکہ خود مرنے گے تھے تم۔ مرنے کا بہت شوق ہے نا تمھیں!! کیوں مرنا کیوں چاہتے ہو تم!؟؟۔"بابا کی بات پر ،علی کے کان میں وہ الفاظ پھر گونجنے لگے جو اس نے بلال سے کہے تھے کہ " اگر تمھیں کچھ ہو گیا نا!! تو زندگی مجھ پر بھی حرام ہو جائے گی۔" "ٹھیک کہتے ہیں آپ بابا!! میں واقعی مرنے گیا تھا،، ہاں بابا!! میں واقعی مرنے گیا تھا۔

" اس سے پہلے کہ علی کی اس فضول بات پر بابا کچھ بولتے ،اُن کے فون پر رنگ ہونے لگی تو ان کا دھیان موباہل کی طرف ہو گیا، کال کسی انجان نمبر سے آرہی تھی۔ "ہیلو،، ہیلو،،کون۔" "جی ! میں علی کا فادر!!! مگر آپ کون۔"دوسری طرف پوچھنے پر علی کے بابا نے جواب دیا۔پاس بیٹھا علی بھی چونک سا گیاکہ میرا حوالہ کون دے رہا ہے۔ "میں بلال کا بھائی !! آپ پلیز علی سے بات کروا دیں۔

"علی کے کان یہ سن چکے تھے، علی نے تیزی سے اٹھا، بابا کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور اپنے کان سے لگا لیا۔ "بلال ٹھیک تو ہے نا!!کہاں ہے وہ، ۔" بلال کا نام لیتے ہی علی کی آنکھیں بھیگ چکی تھی ۔ علی کے بابا،مما بھی علی کے پاس کھڑے ہو چکے، وہ دونوں ڈر رہے تھے کہ بلال کی طرف سے کوئی بری خبر ، علی سہہ نہیں پائے گا۔ اچانک علی نے پاس کھڑی مما کی طرف دیکھا ،،اس کے ہاتھ سے موبائل نیچے گر چکا تھا،،،، "کیا کہا بلال کے بھائی نے!! بلال ٹھیک تو ہے نا!؟" مما نے علی سے پوچھا "بلال بچ گیا مما!!!!!!! میرا بلال بچ گیا!!ہاں مما!! وہ ٹھیک ہو چکا،،وہ ٹھیک ہو چکا۔

" علی کی سسکیاں بلند ہوئے جا رہی تھی۔ساتھ مما ، بابا کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھی۔ بابا نے علی کو دونوں ہاتھوں کو تھامے ، اپنے سامنے لاکھڑا کیا،، علی کے آنسو صاف کیے،اور ، علی کی پیشانی چوم لی ۔مگر علی کے تپتے ہاتھ اور جلتی پیشانی کو محسوس کرنے کے بعد ،بابا انجانے خوف میں چلے گے۔۔ "تمھاری نیکی اللہ کو پسند آگئی علی، تمھاری نیکی نے بلال کو نئی زندگی دے دی،،، مبارک ہو بیٹا!! بلال کی زندگی بہت بہت مبارک ہو۔

" ساتھ ساتھ بابا کی نظریں علی کے سرخ ہوتے چہرے پر تھیں۔ "ہاں علی!! تمھاری نیکی سے بلال پھر جی اٹھا۔ " "نہیں مما!! بلال کونئی زندگی، میری کسی نیکی نے نہیں دی ، بلال تو میرے ایک سودے سے جی اٹھا ہے۔۔ ہاں بابا!!۔" علی کا جسم جل رہا تھا،، اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔۔علی کا سرخ ہوتا چہرا دیکھ کر مما ، غیر ارادی طور پر اس کے پاس گئی اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلانے لگی۔

علی کے ہاتھوں کی تپش مما محسوس کر چکی تھی۔ "ہاں مما!! بلال کی زندگی کے لیے،، اللہ کے سامنے میں نے، خود کو پیش کیا تھا،، اور اللہ نے!! اللہ نے میری سن لی مما۔ اللہ نے میری سن لی مما۔اور بلال موت کے منہ سے پلٹ آیا۔"علی نے کس سودے کی بات کی، ان دونوں نے کچھ نہیں سنا۔ کیونکہ وہ دونوں اپنے بیٹے کی بگڑتی حالت محسوس کر چکے تھے۔علی کا تپتا جسم ،اور سرخ ہوتا چہرہ بتا رہا تھا کہ علی کو کیا ہوا ہے۔

دونوں جان چکے تھے کہ علی وبا کا شکار ہو چکا ہے۔ بلال کے کچھ الفاظ کی دھیمی آواز علی نے محسوس کی کہ!!" علی،اگر یہ وائریس میری جان لے گیا تو!!۔ علی کے کانپتے ہاتھ بلند ہوئے،،،، چھینک کی بلند آواز کمرے میں گونجی،، اور علی کو وجود ڈھیر ہو گیا۔علی کے مسکراتے لبوں نے آخری بار حرکت کی!" یاد کرو بلال!! تمھارے سوال پر کیا کہا تھا میں نے!! " اور علی کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوچکی۔

تاریخ اشاعت: 2020-03-25

Your Thoughts and Comments