Aik Shair Ki Siasi YadeN ..... High School MeiN - Article No. 1567

Aik Shair Ki Siasi YadeN ..... High School MeiN

ایک شاعر کی سیاسی یادیں ۔۔۔۔ ہائی سکول میں - تحریر نمبر 1567

بی ڈی الیکشن میں سب یہی کہہ رہے تھے کہ اگر وہ جیت گئے تو فاطمہ جناح کو ووٹ دیں گے لیکن اعلان ہوا کہ ایوب خان جیت گئے اور فاطمہ جناح ہار گئیں۔ ہمیں بے حد افسوس ہوا

Basir Sultan Kazmi باصر سلطان کاظمی بدھ 1 نومبر 2017

جب میں چھٹی اور حسن پانچویں جماعت میں پہنچا تو ہمیں سینٹ فرانسس ہائی سکول میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں ہمارے دو کزن پہلے سے پڑھتے تھے۔ اس سکول کا بیرونی گیٹ کچہری روڈ پر لاء کالج کے گیٹ کے ساتھ تھا، جہاں سے مرکزی عمارت تک جانے والے راستے کے دونوں جانب کھجور کے بلند و بالا درخت تھے؛ دائیں جانب سکول کی وسیع کچی گراﺅنڈ اور بائیں جانب لاء کالج ہاسٹل کے کمرے تھے۔

سکول کا ایک دروازہ انارکلی بازار میں کھُلتا تھا۔ یہ ایک مشنری سکول تھا جس کے بیشتر اساتذہ اور بہت سے طلبا مسیحی تھے۔ یہاں دیہاتی علاقوں سے آنے والے مسیحی طلبا کے لئے ایک بورڈنگ ہال بھی تھا۔ پرنسپل، فادر فرنینڈز گوا سے آئے تھے۔ وہ کبھی سفید اور کبھی سیاہ چوغے میں ملبوس اپنی ریلے سائیکل پہ چکر لگاتے۔

(جاری ہے)

اُن کی رعب دار شخصیت اور سکول میں اُن کے ہر وقت ہر جگہ موجود ہونے کے احساس کے باعث یہاں کا ڈسپلن بہت اعلیٰ تھا۔

عیسائی ہم جماعتوں سے دوستی کے نتیجے میں ہمیں ان کے مذہب، رسوم و رواج اور تہواروں کے بارے میں بہت کچھ پتہ چلا۔ باجی (ہم اپنی والدہ کو باجی کہتے تھے) ہمیں اپنی ہندو سہیلیوں کی باتیں بتاتیں جو پاکستان بننے سے پہلے ان کی ہم جماعت یا پڑوسی تھیں۔ اس طرح ہم نے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے کا سلیقہ سیکھا اور ہمارے اندر رواداری اور کشادہ دلی کے جذبے میں اضافہ ہوا۔
باجی کے لیے اطمینان بخش بات یہ تھی کہ یہاں پڑھائی ہمارے پہلے سکول جتنی ہی اچھی تھی اور خرچ نسبتاً کافی کم۔ ہمارے یہ مزے تھے کہ مسلمانوں کے تہواروں کے ساتھ ساتھ مسیحی تہواروں کی چھٹیاں بھی ملتیں۔
روزنامہ’مشرق‘ کا اجراء:
”صدر کینیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا“، کسی اخبار کی پہلی شہ سُرخی تھی جو، مقتول صدر کی تصویر کے ساتھ، میرے حافظے نے سکین (scan) کر کے ذہن کی ہارڈ ڈسک (hard disk) پہ محفوظ کی۔
انہی دنوں جاری ہونے والا ایک نیا اخبار ’مشرق‘ ہمارے گھر باقاعدگی سے آنے لگا تھا۔ اس میں پاپا کی دلچسپی کا مرکز انتظار حسین کے کالم ہوتے اور ہمیں بچوں کے صفحے کا انتظار رہتا۔ میں نے کہانی کے مقابلے میں بھی کئی بار شرکت کی لیکن میری کہانی کبھی شائع نہیں ہوئی، اگرچہ کہانیاں بھیجنے والے بچوں کی فہرست میں نام ضرور چھپتا۔ بحیثیت ’ادیب‘ یہ پہلی مایوسی تھی جس کا میں نے سامنا کیا۔
ایک دن باجی نے پاپا سے کہا :”اِس کی کوئی کہانی ٹھیک کرکے انتظار بھائی کے ذریعے چھپوا دیں۔“ پاپا کا مختصر جواب تھا: ”اِسے سیکھنے دو، چھپنا ضروری نہیں۔“
گھر کی معاشی حالت:
نئے سکول میں پہلی گرمیوں کی چھٹیوں کا ایک واقعہ، جس کا تعلق ہمارے گھر کی معاشی صورتِ حال سے تھا، مجھے بھلائے نہیں بھولتا۔ ہمارے جوتے اتنے خستہ ہو گئے تھے کہ نئے جوتے خریدنا لازم ہو چکا تھا۔
چونکہ سکول تو جانا نہیں ہو رہا تھا لہٰذا یہ خریداری ملتوی کی جاتی رہی۔ لیکن ہم جانتے تھے کہ اس التوا کی اصل وجہ یہ تھی کہ پاپا کو کہیں سے کچھ پیسے ملنے کا انتظار تھا، غالباً دو ایک مشاعروں سے۔ وہ اُس وقت محکمہ ولیج ایڈ میں بطور اسسٹنٹ پبلسٹی آفیسر اور نائب مدیر ’ہم لوگ‘ ملازم تھے۔ تنخواہ باقاعدہ ملتی تھی لیکن کم تھی۔ اس کے علاوہ وہ اپنے کام کے حالات اور اوقات سے بھی خوش نہیں تھے۔
بالآخر وہ دن آیا اور ہم انارکلی بازار گئے۔ میں نے اور حسن نے ربڑ کی قینچی چپلیاں پہنی ہوئی تھیں۔ ہم جوتوں کی دکان میں داخل ہوا ہی چاہتے تھے کہ باجی کی ایک جاننے والی خاتون مل گئیں۔ ان کے ساتھ، ہمارے ہم عمر، ان کے دو بیٹے بھی تھے۔ انہوں نے نہایت عمدہ بشرٹ، نیکر اور بند جوتے پہن رکھے تھے، جرابوں سمیت۔ خاتون بے حد محبت سے ملیں۔ بعد میں باجی نے بتایا کہ وہ پاپا کے ایک ڈاکٹر دوست کی بیگم اور بچے تھے۔
میں نے کہا کہ کاش یہ لوگ تھوڑی دیر بعد ملے ہوتے، جب ہم دکان سے نیا جوتا پہن کے باہر آرہے تھے۔ پتا نہیں میں نے یہ جملہ کس دل سے کہا تھا اور باجی پہ اس کا کیا اثر ہوا کہ چند روز بعد پاپا کو ریڈیو پاکستان لاہور میں بطور اسٹاف آرٹسٹ ملازمت مل گئی (ان کے کاغذات کے مطابق، یکم اگست 1964ء)۔ اس کے بعد ہمیں کبھی مالی تنگی کا احساس نہیں ہوا۔ آغاز میں اُن کی تنخواہ چار سو روپے تھی جو بعد میں بڑھ کر پانچ سو ہو گئی (1976ء میں گریڈ سترہ کے افسر اتنی تنخواہ لیتے تھے)۔

مادرِ ملت کی آواز:
مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور جنرل ایوب خان کے صدارتی انتخاب کی ایک دھندلی، بلکہ دھاندلی سی یاد میرے ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے۔ ویسے تو ہم چھٹیوں ہی میں منٹگمری جایا کرتے تھے لیکن اس موقع پر، شاید سکولوں میں انتخابات کی وجہ سے چھٹیاں ہونے پر، ہم وہاں تھے۔ ہمارا گھر ریلوے سٹیشن، بڑی نہر (لوئر باری دوآب) کے پُل اور مرکزی ڈاک خانے کے نزدیک واقع تھا۔
گھر کے قریب ایک گراﺅنڈ میں مادرِ ملت کے جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہم نے اُن کی تقریر گھر بیٹھ کے لاﺅڈ سپیکر پہ سنی۔ اُن کی مقبولیت اتنی زیادہ تھی کہ سب کو یقین تھا کہ وہ ہی کامیاب ہوں گی۔ لیکن صدارتی انتخاب کی بجائے ایک اور انتخاب ہونے لگا جسے بی ڈی الیکشن کہا جا رہا تھا۔ بیسیوں مقامی امیدوار لوگوں سے ووٹ مانگ رہے تھے۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ اگر وہ جیت گئے تو فاطمہ جناح کو ووٹ دیں گے۔
یہ انتخاب 9 نومبر کو ہوئے۔ تاریخ مجھے اِس لیے یاد ہے کہ اُس دن باجی کی سالگرہ تھی۔ ہم لاہور آگئے۔ کچھ عرصے بعداعلان ہوا کہ ایوب خان جیت گئے اور فاطمہ جناح ہار گئیں۔ ہمیں بے حد افسوس ہوا۔
ٹیلیویژن سروس کا آغاز:
ہمارے ایک ساتھی نے دوستوں کے حلقے میں یہ خوشخبری سنائی کہ اُس کے تایا نے ٹیلیویژن خرید لیا تھا۔ سو ہم باجماعت اُس کے تایا کے ہاں پہنچے۔
یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی شخص میلوں دور سے بات کرے اور ہم گھر بیٹھ کر نہ صرف اُسے سنیں بلکہ بولتے ہوئے دیکھیں بھی۔ سکرین بلیک اینڈ وائٹ تھی لیکن ہم نے اس سے زیادہ خوشنما مناظر پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ روز روز کسی ایک گھر میں جا کے یہ تفریح نہیں ہو سکتی تھی لہٰذا ہم میں سے ہر ایک نے گویا یہ ذمے داری سنبھال لی کہ جب اُس کا کوئی واقف ٹی وی خریدے تو وہ پوری ٹیم کے لیے کم از کم ایک دن کی بکنگ کا انتظام ضرور کرے۔
ہم یہ سوچ سوچ کے حیران ہوتے کہ جس گھر میں ٹی وی ہو اس میں رہنے والوں کو کیسا لگتا ہوگا۔ یعنی بس ایک بٹن دبانا ہوتا۔ کمال ہے!
ضد اور سیاست:
باجی اور چچی باقاعدگی سے نماز پڑھتیں اور روزے رکھتی تھیں۔ جیسا کہ ہمارے گھروں میں دستور ہے، ہمیں بھی قران بہت چھوٹی عمر میں پڑھایا گیا، اگرچہ صرف قرات کی حد تک۔ سمجھنے کے لئے تو آج بھی ترجمے کی مدد لینی پڑتی ہے۔
پھر ہم نے نماز سیکھی اور جلد ہی روزے بھی رکھنے شروع کر دیے۔ ہمارے بعض دوست پورے روزے رکھتے لیکن باجی ہمیں دو چار روزوں کے بعد وقفہ دے دیتیں اور کہتیں کہ روزے بڑوں پہ فرض ہیں، بچے آدھے بھی رکھ لیں تو پورا ثواب ملتا ہے۔ دوستوں میں اس بات کا مقابلہ ہوتا تھا کہ کون زیادہ روزے رکھتا ہے۔ ایک چھٹی کے دن سحری پہ میری آنکھ نہ کھل سکی۔ صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ حسن اور پڑوسی دوستوں کا روزہ تھا۔
میں نے کہا کہ میں اٹھ پہرہ رکھوں گا۔ باجی نے لاکھ کہا کہ انہوں نے مجھے جگانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن مجھ سے اٹھا نہ گیا، اٹھ پہرہ رکھنا بہت کٹھن ہوگا کہ دن لمبے تھے، لیکن میں نے ضد نہ چھوڑی۔ آخر انہوں نے پاپا سے کہا کہ مجھے ناشتہ کرائیں۔ میں پھر بھی نہ مانا۔ پہلے تو انہوں نے پیار سے سمجھایا، پھر برہم ہوکے حکم دیا کہ ناشتہ کروں۔ میں بھاگ کے صحن میں چلا گیا۔
انہوں نے تعاقب کیا تو میں جامن کے درخت پہ چڑھ گیا اور کہا کہ افطاری کے وقت اتروں گا۔ پاپا نے کہا، ”یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ اب یا تو فوراً اتر آﺅ اور ناشتہ کر لو یا پھر بعد میں پراٹھے کے ساتھ مار کھانے کے لیے بھی تیار رہو۔“ میں نے کچھ سوچ کے جواب دیا: ” آپ اپنے کمرے میں جائیں، میں سوچتا ہوں۔“ انہوں نے چند لمحے مجھے گھور کے دیکھا اور ”ٹھیک ہے“ کہہ کر چلے گئے۔
میں نے اِس نازک صورتِ حال میں ایک اہم سیاسی فیصلہ کیا جس میں درخت کی نازک یعنی لچک دار شاخوں نے میری مدد کی۔ میں، سخت گیری کو چھوڑ، اپنے موقف میں لچک پیدا کرتے ہوئے نیچے اترا، سیدھا باورچی خانے میں گیا اور اطمینان سے ناشتہ کیا۔ باجی نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے نہ تو خوشی کا اظہار کیا نہ مجھے بزدلی کا طعنہ دیا۔ ان کے ایسا کرنے سے میری انا مجروح ہوتی اور میں اپنی ’بھوک ہڑتال‘ پہ واپس جا سکتا تھا یا دو چار لقمے کھا کے ہاتھ کھینچ لیتا۔
اُس دن میں نے جانا کہ ضد ایک حد سے بڑھ جائے تو نہ صرف ضد کرنے والے کے لیے بلکہ اُس کے خیر خواہوں کے لیے بھی پریشان کن ہو سکتی ہے۔
لیو شاﺅ چی، امیر محمد خان اور ذوالفقار علی بھٹو:
سردیاں تقریباً جا چکی تھیں۔ ایک دن ہمیں بتایا گیا کہ سکول کے بعد چند بسیں ہوائی اڈے جائیں گی، چین کے صدر لیو شاﺅ چی کا استقبال کرنے۔
یہ مشکل نام، جو ہم نے بڑی مشق کر کے یاد کیا، ہمیں اگلے ہی روز بھول جاتا اگر وہ کچھ نہ ہوا ہوتا جو ہمارے ساتھ استقبال کے بعد ہوا۔ ہوائی اڈے کے باہر مختلف سکولوں سے لائے گئے سینکڑوں بچے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے کھڑے تھے۔ ہم سڑک کے بائیں طرف تھے۔ بڑی بڑی سرکاری اور غیر سرکاری گاڑیاں ہوائی اڈے کی طرف جا رہی تھیں۔ سڑک کے دوسری طرف ہمیں اپنا پڑوسی دوست ارشاد کھڑا نظر آیا جو مسلم ماڈل میں پڑھتا تھا۔
وہ مجھے اور حسن کو دیکھ کے ہمارے پاس آگیا۔ اچانک ایک بڑی سیاہ کار ہمارے سامنے رکی۔ پھر پچھلا دروازہ کھلا اور ہمیں ارشاد کے والد، جو سیکرٹریٹ میں سیکشن افسر تھے، نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں اندر لے جا سکتے تھے لیکن واپسی ہمیں اپنے سکولوں کے ساتھ ہی کرنی پڑے گی۔ ہم تینوں خوشی خوشی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اُس زمانے میں، اور اُس کے بعد بھی تقریباً بیس برس تک، مسافروں کو چھوڑنے اور لینے والے ہوائی اڈے کے اندر اس جنگلے تک جا سکتے تھے جہاں سے مسافر جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے دکھائی دیتے تھے۔
سو ہم اُس جنگلے تک پہنچ گئے۔ وہاں پہلے ہی بہت سے لوگ موجود تھے۔ جنگلے کے اُدھر چند اہم شخصیات پرواز کی منتظر تھیں۔ سر پہ پگڑی باندھے، ایک دراز قد، بڑی بڑی آنکھوں اور ان سے بھی بڑی بڑی مونچھوں والے صاحب ٹہل رہے تھے۔ قریب سے گزرے تو جس طرف ہم کھڑے تھے اُس طرف غور سے دیکھا، جسے ہم نے ’گھور کے دیکھنا‘ سمجھا۔ ہمیں ایسا لگا جیسے وہ یہ دیکھ رہے ہوں کہ اتنے چھوٹے بچے یہاں کیسے پہنچ گئے۔
اتنا رعب دار شخص میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، شاید اس کے بعد بھی نہیں دیکھا۔ ہم انہیں فوراً پہچان گئے کہ ان کی تصاویر متعدد بار اخبار میں دیکھی تھیں۔ یہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب امیر محمد خان تھے۔
آخر وہ جہاز جس کا سب کو انتطار تھا ہمارے سامنے آ کے رکا۔ دروازہ کھلا۔ دو ایک اصحاب کے بعد سبز رنگ کے سوٹ اور نارنجی رنگ کی قمیص میں ملبوس (مجھے کچھ ایسا ہی یاد ہے) ایک انتہائی باوقار اور خوبصورت شخص نمودار ہوا۔
کسی نے کہا کہ یہ ہمارے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ پھر ہم نے صدر لیو شاﺅ چی کو دیکھا۔ مہمانان اور میزبان ہمارے سامنے سے گزرتے ہوئے لاﺅنج میں چلے گئے اور اس کے بعد کچھ ہی دیر میں ہوائی اڈے کی عمارت سنسان ہو گئی۔ ہم تینوں باہر آئے اور جب اُس جگہ پہنچے جہاں ہمارے ساتھی اور اساتذہ تھے تو دیکھا کہ وہ تو جا چکے تھے۔ ہم بس سٹاپ پہ آگئے لیکن جو بس آتی وہ پہلے ہی سے ٹھسا ٹھس بھری ہوتی اور رکے بغیر گزر جاتی۔
ایک بس رکی۔ ارشاد کسی طرح سوار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ میں بھی تقریباً سوار ہو گیا تھا لیکن بس چل پڑی۔ چھوٹے بھائی کو اکیلا پیچھے چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں اتر گیا۔ کچھ دیر بعد بس سٹاپ ویران ہو گیا۔ وہاں کھڑے ہو کے اگلی بس کا انتظار کرنا خطرناک لگا۔ سو ہم پیدل ہی چل پڑے، اُس طرف جدھر بس گئی تھی۔ ہم دیکھ چکے تھے کہ بس کچھ دور جا کے دائیں جانب مڑ گئی تھی۔
اُس جگہ پہنچ کے ہم بھی دائیں مڑ گئے کہ اگلا بارونق بس سٹاپ اسی طرف ملنے کی توقع تھی۔ کسی سے راستہ پوچھتے ہوئے اس لئے ڈر رہے تھے کہ پتا چل جاتا کہ ہم اکیلے اور راستہ بھولے ہوئے ہیں۔ بچوں کے اغوا کی خبریں اور کہانیاں سن پڑھ رکھی تھیں۔ یہ سوچ کے اور بھی ہول اُٹھ رہا تھا کہ ارشاد نے گھر پہنچ کے بتا دیا ہوگا کہ ہم پیچھے رہ گئے تھے۔ گھر والے کتنے پریشان ہوں گے۔
چلتے چلتے مال روڈ پر آگئے۔ وہاں سے بس ملی اور گھر پہنچے۔
ڈرائنگ ، تاریخ اور سائنس:
ساتویں اور آٹھویں جماعتوں میں ہمارے ڈرائنگ ماسٹر الیگزینڈر مارٹن تھے۔ وہ پی ٹی اور جمناسٹک کے استاد بھی تھے۔ سننے میں آیا کہ پہلے وہ نیوی میں تھے۔ جمناسٹک کی طرح ڈرائنگ میں بھی اُن کی مہارت دیدنی تھی۔ انہوں نے آغاز پنسل سکیچ بنانے سے کرایا۔
اُن کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے مصور، ڈیزائنراور انجینئر ڈرائنگ کے بھی ماہر تھے۔ بظاہر معمولی سی ایک پنسل معجزے برپا کر سکتی ہے۔ اور وہ اس کا مظاہرہ کاغذ پر بھی کرتے اور چاک کی مدد سے تختہ سیاہ پر بھی۔ آڑھی سیدھی لکیروں، قوسوں اور گولائیوں کی مدد سے وہ مختلف اشکال بناتے اور شیڈنگ کے ذریعے روشنی کی مقدار گھٹا بڑھا کے وہ وہ تاثر پیدا کرتے کہ ہم پنسلیں منہ میں دبائے، ششدر، دیکھتے رہ جاتے۔
انہوں نے ہمیں سٹل لائف اور پورٹریٹ بنانے کے گُر سکھائے۔ ایک دن انہوں نے کہا کہ اپنی کسی پسندیدہ شخصیت کا خاکہ بناﺅ۔ کلاس میں بہت سے رسائل کے تراشے موجود تھے اور کچھ پورٹریٹ دیواروں پر آویزاں۔ میں نے قائدِ اعظم کا سکیچ بنایا اور ایک ہفتے بعد چرچل کا۔ پھر جب ہمیں پینٹنگ کرتے دو چار ماہ ہو گئے تو میں نے ٹیپو سلطان کا ایک رنگین پورٹریٹ بنایا جو فریم کرکے گھر کی ایک دیوار پہ لگایا گیا۔
ان تصاویر سے پاپا بہت خوش تھے اور یہ اُن کے دوستوں کو بطور خاص دکھائی جاتیں۔
ماسٹر غازی، جنہیں لڑکے بابا غازی کہتے تھے، ہمیں جغرافیہ اور تاریخ پڑھاتے تھے۔ وہ تاریخ کے سبق کا آغاز بلیک بورڈ پر برِصغیر کا نقشہ بنا کے کرتے اور واقعات کہانی کی طرح ایسے سناتے کہ ہمیں وہ اپنے سامنے گویا سٹیج پر ہوتے نظر آتے۔ اہم شخصیات اور واقعات کے بارے میں کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جو یاد رہ جاتا اور اس کی وجہ سے باقی کی تفصیلات۔
انہوں نے جب شاہجہان کے بارے میں کہا کہ اُس نے سات کروڑ کا تختِ طاﺅس محض اپنے نیچے رکھنے کے لئے تیار کروایا تو مجھے محسوس ہوا کہ اُس دن بادشاہت اور بادشاہوں کے بارے میں میرا ایک نظریہ قائم ہوا۔ رفتہ رفتہ تاریخ میں میری اتنی دلچسپی بڑھی کہ میں نے نویں جماعت میں اسے ایک مکمل مضمون کے طور پر اختیار کیا۔ اب ہمارے استاد حبیب اللہ قریشی تھے۔
وہ واقعات ایسے بیان کرتے جیسے کسی میچ کا آنکھوں دیکھا حال۔ جس شخصیت کا بھی ذکر کرتے ہمیں لگتا جیسے وہ اُسے ذاتی طور پر قریب سے جانتے تھے۔ ہم ماسٹر صاحب کی عمر کے بارے میں قیاس آرائی کرتے۔ کوئی کہتا یہ دو ہزار برس تھی، کوئی کہتا کہ نہیں، ڈھائی ہزار برس۔ اور یہ ڈھائی ہزار برس انہوں نے ہمارے اندر اتار دیے۔
ڈرائنگ کی جگہ میں نے فزیالوجی کا انتخاب کیا۔
انسانی جسم میں جو مختلف نظام عمل پیرا ہیں ان کا مطالعہ محیرالعقل تھا۔ کوئی بھی زندہ چیز اعلیٰ ترین تخلیق ہوتی ہے۔ وہ کیسے زندہ رہتی ہے؟ اور کیا اس کا محض زندہ رہنا ہی اس کی تخلیق کا اصل مقصد ہے؟ انسان کا جسم دوسرے جانداروں کے اجسام کی طرح کام کرتا ہے، پھر کیا چیز ہے جو اسے ان سے ممتاز کرتی ہے؟ سائنس میں ہماری دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ میں نے اور حسن نے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کے گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی۔
مجھے سائنس اور تاریخ میں ایک رشتہ نظر آنے لگا۔ ہم جس طرح یہ پیش گوئی کر سکتے ہیں، اور ثابت بھی کر سکتے ہیں، کہ اگر مختلف کیمیائی مادے مخصوص مقداروں اور حالات میں یکجا ہو جائیں تو کیا ردِعمل ہوگا، اِسی طرح تاریخ کا شعور یہ جاننے میں مدد کر سکتا ہے کہ کسی عمل کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ عمل اور ردِعمل سے متعلق نیوٹن کا تیسرا کلیہ ماضی کے واقعات میں بھی نظر آنے لگا۔

سدھارتھ:
ہمارا تاریخ کا نصاب ’ہندوستان کی تاریخ‘ تھا۔ پہلی شخصیت جس نے مجھے متاثر کیا وہ کپل وسطو کا شہزادہ سدھارتھ تھا۔ اُسے وہ سب کچھ حاصل تھا جس کی کوئی خواہش کر سکتا ہے۔ اُس نے ایک ضعیف کو دیکھا جو لاٹھی ٹیک کے چل رہا تھا۔ اُس نے غور کیا اور کہا: ”یہ میں ہوں۔“ پھر اُس نے ایک بیمار کو دیکھا، جسے طبیب کے پاس لے جایا جا رہا تھا، اور کہا کہ ”یہ بھی میں ہوں۔
“ اور جب اُس نے ایک جنازہ دیکھا تو پکار اٹھا: ”یہ مردہ جسم میرا ہے!“ اُس نے سوچا کہ اگر صحت، جوانی، حُسن، مال و دولت، جاہ و منصب، سب کا انجام یہی ہے تو ان سے کیا جی لگانا۔ سو ایک دن وہ اپنی خوبصورت بیوی اور چہیتے بیٹے کو سوتا چھوڑ جنگل کو سدھارا اور وہیں کا ہو رہا:
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لئے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
(میر درد)
آئیڈیل کی جستجو میں اُس کا تخت چھوڑنا مجھے مسحور کرتا ہے لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اُس کی بیوی اور بیٹے پر اس کا کیا اثر ہوا ہوگا؟ تاریخ اور ادب میں ایک مشترک بات یہ بھی ہے کہ دورانِ مطالعہ ہم جس کردار کے ساتھ چاہیں اور جتنی دیر تک چاہیں خود کو identifyکر لیتے ہیں۔
جہاں کسی نے کوئی کارنامہ سر انجام دیا، کوئی فائدہ پایا، ہم نے جانا کہ یہ ہم ہیں لیکن جہاں کسی کا کوئی عمل ہمیں اپنے مزاج یا حال کے موافق نہ لگا، ہم اُس سے الگ ہوئے۔ تاریخ میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ ہم جس بادشاہ کے ساتھ خود کو identifyکر رہے ہوتے ہیں اُس کے مر جانے پر ہماری بادشاہت ختم نہیں ہوتی۔ اُس کی جگہ ایک اور بادشاہ آ جاتا ہے۔

Browse More Urdu Literature Articles