Rakht E Safar - Qist 4

رخت سفر۔ قسط نمبر 4

عارف چشتی جمعرات ستمبر

Rakht E Safar - Qist 4
25 دسمبر 1966 کو طے شدہ پروگرام کے مطابق اسلامیہ کالج کراچی خلیل کے ھمراہ پہنچا. آج کالج کی طرف سے ھاکس بے کی سیر کا پروگرام تھا. تمام طلبہ کا قافلہ دو بسوں میں 10 بجے روانہ ھوا اور 11 بجے وھاں پہنچ گئے. اجازت کے تحت تمام طلبہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے. زندگی میں پہلی دفعہ ھوش میں سمندر کا نظارہ دیکھا تھا، لہریں آتی تھیں اور جاتی تھیں.

کبھی تو آکر پاؤں تک پہنچ جاتی تھیں اور نیچے سے ریت کے ساتھ پاؤں بھی کھسکنے شروع ھو جاتے تھے. لہروں کا بھی اپنا الگ ھی شور ھوتا ھے. جن دوستوں کو تیراکی آتی تھی، انہوں نے لباس بدل کر نہانا شروع کر دیا تھا. ڈوبنے کے خوف سے ھماری ٹولی ھاتھوں میں جوتیاں پکڑ کر سمندر کے کنارے کنارے چلتے رھے تھے.

(جاری ہے)

کئی دفعہ لہریں گھٹنوں تک آتی تھیں اور ھم خشکی کی طرف بھاگتے تھے.

ان دنوں کچھ سازندے ماؤتھ آرگن اور ستار لیکر مختلف پرانے گانوں کی دھنیں بجا بجا کر سیر پر آئے لوگوں کو محظوظ کرتے تھے. شوقین مزاج تفریح کی خاطر فرمائش پر بھی کسی مطلوبہ گانے کی دھن سن کر انکو مزید پیسے دے دیتے تھے. دراصل وہ دور ھی میوزک کا تھا اور دھنیں بھی دل موہ لینے والی ھوتی تھیں. اسکے علاوہ سجے سجائے اونٹوں کی سواری سے بھی لوگ محظوظ ھوتے تھے.

اکثر لوگ پکنک منانے کے لئے اپنی فیملیز کے ساتھ آئے ھوئے تھے اور چادریں پچھا کر سمندری ماحول سے محظوظ ھو رھے تھے اور ان کے بچے کھیل کود میں مصروف تھے. دور سمندر میں بحری جہاز آتے جاتے اور لنگر انداز ھوتے نظر آرھے تھے. دو تین گھنٹے وھاں گزارنے کے بعد پیراڈائز پوائنٹ روانگی ھوئی اور تمام مقامات کا مشاھدہ ھوا، جن کو اکثر کئی پاکستانی فلموں میں دیکھا تھا.

واقعی وہ جگہ قدرت کے حسن کی ایک تصویر تھی.
سمندری پانی بہت ھی شفاف اور سمندری ساحل پر پہاڑی میں قدرتی کٹاؤ نے کراچی کے ساحلی حسن کو دوبالا کر دیا تھا. تیراکی ٹولی اپنے آپ میں مست ھو گئی تھی اور ھم نے پورا چکر لگا پہاڑی پر جانے کی ٹھانی. پہاڑی پر چڑھ کر ھی دم لیا. وہ نظارے دیکھے کہ ذھن میں اب بھی نقش ھیں. کراچی میں اس وقت صرف سمندر کی سیر ھی واحد تفریح ھوتی تھی.

تھک ھار کر شام 5 بجے واپسی ھوئی تو پروگرام کے مطابق پھوپھی کے گھر عزیز آباد چلا گیا تھا. کالج کے دیگر ساتھی اسلامیہ کالج چلے گئے تھے. نہا دھو کر کھانا کھایا. سردی زیادہ محسوس ھو رھی تھی، اسلئے لحاف لیکر ایسا سویا کہ رات بھر ھوش نہ رھی. 26 دسمبر 1966 کو طے شدہ پروگرام کے تحت دوپہر دو بجے براستہ ایم اے جناح روڈ، ٹاور کیماڑی پہنچے. پتھروں کے استعمال سے تعمیر شدہ عمارات کا بھی مشاھدہ ھوا تھا، جو کے پنجاب سے کسی حد تک مختلف تھا.

ٹرام بھی چل رھی تھی اور ھم بسوں پر سفر کر رھے تھے. کیماڑی سمندر کے اس حصہ میں عجب سی بدبو محسوس ھو رھی تھی. ساحل پر بڑے بڑے لکڑی کے تنوں اور تختوں سے پلیٹ فارم بنایا ھوا تھا اور درجنوں کشتیاں رسوں سے باندھ کر پلیٹ فارم کے ساتھ لنگر انداز تھیں. جیسے ھی ایک کشتی جزیرہ منوڑہ روانگی کے لئے بھر جاتی تھی، تو کشتی بان رسیاں کھول کر چپو چلا کر روانہ ھو جاتے تھے.

فی کس کرایہ 25 یا 30 پیسے یکطرفہ تھا. مچھیروں کی چھوٹی کشتیاں الگ لنگر انداز ھوتی تھیں. مچھلی کے شکار کے شوقین حضرات گھنٹوں کے کرایہ کے حساب سے پوری کشتی کرایہ پر لیکر لطف اندوز ھوتے تھے. کالج کی طرف سے دو کشتیاں کرایہ پر لیکر منوڑہ روانگی ھوئی. میں بہت ھی خوف زدہ تھا، پورے راستے آنکھیں بند کر کے آیت الکرسی پڑھتا رھا تھا. کئی ساتھی تو جھک کر پانی میں ھاتھ ڈال کر ایک دوسرے پر اچھالتے رھے تھے.

میں کن انکھیوں سے چلتی کشتی کے ارد گرد جائزہ لے لیتا تھا. منوڑہ پہنچ کر راستے میں سیپیوں، گوگھوں کے ڈیکوریشن کا سامان اور عورتوں کے زیورات کی دوکانوں کا مشاھدہ کرتے رھے اور اللہ تعالٰی کے شاہکاروں کی داد دیتے رھے تھے، اور واپسی پر جو جو پسندیدہ چیزیں خریدنی تھی اسکی سلیکشن بھی کر لی تھی. شائد ایک آدھ کلومیٹر کے بعد سمندر کے کنارے پر پہنچ گئے تھے.

جو انتہائی ٹھاٹھیں مار رھا تھا اور مقابلتا لہروں کا شور بھی زیادہ تھا. ڈوبنے کے خوف سے ھم کچھ دوست تو بلندی پر چادریں بچھا کر بیٹھ کر نظارا کرتے رھے تھے، تیراکی کرنے والے نہانے لگ گئے تھے. شام 4 بجے واپسی ھوئی تھی.
حسب توفیق سب نے ڈیکوریشن کی اشیاء خریدیں کیماڑی 5 بجے واپسی ھوئی. ھمارے گروپ نے سرپرست لیکچرار صاحب سے اجازت لی اور پروگرام کے تحت پلازہ سینما میں مشرقی پاکستان کی فلم " بھیا" دیکھی.

رات 10 بجے پی. ای. سی. ایچ سوسائٹی ماموں کے گھر پہنچا تھکان کافی تھی. نہا دھو کر کھانا کھایا اور تھوڑی دیر تک نانا صاحب کے ساتھ انکے دور کی باتوں پر گفتگو کرتے کرتے سو گیا تھا. تھکان کی وجہ سے کافی دیر تک سوتا رھا تھا اور پھر اس دن کالج کی طرف سے سیر کا کوئی پروگرام نہ تھا. بیدار ھو کر ناشتہ کیا. جاوید اور خلیل کے ھمراہ طارق روڈ اور بعد میں قائداعظم کی قبر جو کافی اونچائی پر تھی پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی.

جو ابھی پختہ نہیں ھوئی تھی اور مزار بھی تعمیر نہ ھوا تھا.
شام کو کالج کی طرف سے کلفٹن جانا ھوا جو مقابلتا بہت ھی خوبصورت سی سائٹ تھی اور جنٹری وھاں جانے کو ترجیح دیتی تھی. کیسری پتھر سے گنبد اور سیڑھی نما راستے بنائے ھوئے تھے. زندگی میں پہلی دفعہ پلے لینڈ اور بعد میں ایمپورئم (مچھلی گھر) کی سیر کی. سینکڑوں اقسام کی مچھلیاں دیکھ کر خود ھی اللہ تعالٰی واحدہ و لا شریک لا کے تعریفی کلمات منہہ سے جاری ھو رھے تھے.

رات واپسی ھوئی اور روشنیوں کے شہر کے نظارے نے طبیعت ھشاش بشاش کردی تھی.کالج کی طرف سے اب کوئی خاص پروگرام نہ تھا. 28 دسمبر 1966 کو اپنے گروپ کے دوستوں کے ساتھ گاندھی گارڈن (چڑیا گھر) کی سیر کی. لاھور سے مقابلتا کم جانور ھی دیکھنے میں آئے تھے. واپسی مونگ پھلی، چلغوزے کھاتے کھاتے پیدل ھی صدر کراچی کی سیر کی. کچھ دیر جہانگیر پارک بیٹھے رھے.

پھر حسب توفیق مشہور زمانہ سوھن حلوہ، نمکو، مرمرا اور گاٹھیا خریدے. صدر کراچی سے عزیز آباد کی بس پر سوار ھو کر ماموں یونس کے ھاں پہنچا.
انکے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بمبینو سینما میں فلم "کین کین" دیکھی جس میں زیادہ تر ڈانسز ھی دکھائے گئے تھے. وھاں سے لطف اندوز ھونے کے بعد ھم دونوں موٹر سائیکل پر کراچی ائرپورٹ(پرانے) پہنچے جو اس وقت واحد بین الاقوامی ایرپورٹ تھا.

وھاں سے واپسی پر واحد اوپن ائر ڈرائیو ان سینما دیکھا جو شہر سے دور ایک غیر آباد علاقے نیشنل سیمنٹ فیکٹری کے عقب میں واقع تھا. فلم تو نہیں دیکھی تھی لیکن سڑک سے ھی اسکا نظارہ کیا تھا. انٹری صرف گاڑی والوں کی ھی ھوتی تھی. رات عزیز آباد میں ھی گزاری اور ناشتہ کرکے پھوپھی کے ھاں چلا گیا.کالج کے طے شدہ پروگرام کے تحت کالج ٹور ٹیم کو کراچی چیمبر آف کامرس کا دورہ کروایا گیا اور ایک آگاہی سیشن بھی ھوا.

وھاں سے فارغ ھونے کے بعد کالج کی طرف سے جبین ھوٹل کراچی میں پرتکلف ڈنر کروایا گیا. ھلکی پھلکی موسیقی سے ڈنر کرنے کا مزہ دوبالا ھو گیا تھا. اس وقت اتنا کچھ بھی بہت بڑی تفریح کے زمرے میں آتا تھا. 30 دسمبر 1966 کالج کی طرف سے کوئی سیر کا پروگرام نہ تھا.
سوسائٹی سے جیکب لائنز ماموں امداد کے ھاں پہنچا اور انکے ھمراہ انکے سسرال جنکا میرے ددھیال کی طرف سے بھی گہرا رشتہ تھا، کیماڑی برج پار کرکے ریلوے کالونی ملنے چلے گئے.

انہوں نے پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا تھا، یہ انکی محبت اور خداداد عطا تھی. شام کو وھاں سے عزیز آباد پہنچا اور پھوپھا صاحب کے ھمراہ چچا مشتاق (گوجرہ والے) کی درزی کی دوکان پر لالو کھیت فردوس مارکیٹ پہنچا. خوب پیار محبت کی باتیں ھوئیں. شام کی چائے جیکب لائنز جا کر پی. سب عزیز و اقارب سے الوداعی ملاقاتیں مکمل ھو چکی تھیں. اسلئے شام کو سوسائٹی واپسی ھوئی.

جاوید اور خلیل کزنز کے ھمراہ پیدل ھی قائداعظم کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے چلا گیا تھا. کافی رات گئے واپسی ھوئی. اپنا سارا سامان ایک بستر بند میں باندھا کیونکہ اگلے روز 31 دسمبر 1966 کو لاھور واپسی طے تھی. صبح ساڑھے آٹھ بجے ٹرین بخیر و خوبی کراچی سے روانہ ھوئی.
1966 کا سورج پنجاب کی سرحدی سرزمین میں غروب ھوا. 1967 کا پہلا سورج لاھور کے قریب ھی طلوع ھوا تھا.

یکم جنوری 1967، صبح پونے سات بجے لاھور ریلوے اسٹیشن پہنچے یوں کراچی ٹور بخیریت اختتام پذیر ھوا. کم و بیش یہ ایک اچھا سفر ھی تھا جس کی یادیں آج بھی ذھن میں پیوست ھیں. 1955 کے کراچی کے نقوش جو ذھن سے محو ھو چکے تھے وہ دوبارہ تازہ ھو گئے تھے. کچھ دیر گھر آکر آرام کیا پھر گھر والوں کو سفر کی مکمل روداد سنائی. بعد میں دوستوں سے بھی ملاقات میں سفری ٹور کی روداد سنائی. اب پھر پڑھائی اور پڑھائی ذھن میں آرھی تھی. سیر و تفریح کی وجہ سے ذھن میں تروتازگی آگئی تھی. سوچ بچار میں بھی کافی تبدیلی آچکی تھی.
تاریخ اشاعت: 2020-09-10

Your Thoughts and Comments