Rakht E Safar - Qist 6

رخت سفر۔ قسط نمبر6

عارف چشتی پیر اکتوبر

Rakht E Safar - Qist 6
بی کام پارٹ تھرڈ کو اسی سال بی کام آنرز کا درجہ دے دیا گیا تھا. امتحانات قریب سے قریب تر آ رھے تھے، مگر غیر یقینی تھے کیونکہ ایوب خان کے خلاف شدید ھنگامے شروع ھو چکے تھے. پڑھائی زور و شور سے جاری تھی. کالج کی طرف سے مئی 1968 کے آخری ھفتہ میں زبردست الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا. جس میں پہلے ورائٹی پروگرام پیش کیا گیا تھا. کچھ دوستوں نے لطیفے سنائے، کسی نے گانے گائے.

ڈانس کا مظاہرہ بھی ھوا تھا. آخر میں ھائ ٹی کا انتظام تھا. جوش جنوں میں، میں نے مونگ کی بھنی دال کھانے کے بعد تین عدد کوکا کولا کی بوتلیں پی لی تھیں. جسکی وجہ سے شدید ایسیڈٹی ھو گئی تھی. پیٹ میں یک دم اپھارا ھوگیا تھا. مجاھد مرزا نے بڑی مشکل سے گھر پہنچایا تھا.

(جاری ہے)

پوری رات پیٹ میں شدید درد میں مبتلا رھا تھا. پیٹ کی تکلیف نے مستقبل پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا.

پڑھائی کی فکر سے ویسے بھی اچھی حالت میں موشن لگ جاتے ہیں اور تیزابیت بڑھ جاتی ھے. علاج اور پرھیز جاری تھا. قدرے افاقہ ھوا تھا کہ ایک اور بیماری عود آئی. چچا صاحب کے ایک سناشا دوست سلام اینڈ کمپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ھاں ملازم تھے اور ھی سی اے بھی کر رھے تھے. کمرشل لاز کی رھنمائ حاصل کرنے کے لئے میں کبھی کبھار انکے آفس چلا جاتا تھا. زھے نصیب ایک روز دوپہر کو شدید گرمی میں ان سے نوٹس لینے انکے دفتر چلا گیا.

دفتر میں آئیر کنڈیشن چل رھا تھا. جیسے ھی شدید گرمی میں پسینہ سے شرابور انکے دفتر میں داخل ھوا تھا . یکدم سر چکرا گیا اور جسم میں عجیب سی بےچینی ھو گئی تھی. دھوپ میں آتے ھوئے جسم شدید گرم ھو چکا تھا. یکدم سرد کمرے میں داخل ھوتے شدید ردعمل تو ھونا ھی تھا اور سر میں شدید درد شروع ھو گئی تھی. ان صاحب سے بےچینی کی حالت میں کمرشل لاز کے نوٹس اور رھنمائی لی اور بڑے کرب کی حالت میں گھر پہنچا.

سر کی درد میں شدت بڑھ رھی تھی، ساتھ ھی بخار ھو گیا تھا. سب سے بڑی ٹینشن امتحانات میں صرف دو ھفتے باقی رہ گئے تھے. ذھنی دباؤ کی وجہ سے پریشانی میں اضافہ ھوتا جا رھا تھا. یہ ایک ایسا گمبھیر موڑ تھا کہ تعلیمی کیریئر کو دھچکا لگنے کا شدید خطرہ تھا. مئی اور جون کی گرمی اور پھر امتحانات کی تیاری، میٹرک اور بی کام ٹو کی طرح مجھے دوبارہ ٹائیفائڈ ھو گیا تھا.

جو غم اور ٹینشن میں نے محسوس کی تھی زیر قلم نہیں لاسکتا. بستر پر لیٹے لیٹے کتابیں پڑھتا رھتا تھا اور روتا رھتا تھا کہ کس امتحان سے گزر رھا ھوں. دیگر دوست بھی پڑھائی میں مصروف تھے، اسلئے رابطہ بھی کم ھوتا تھا. ڈاکٹر فیاض صاحب کا علاج جاری تھا. وہ جب بھی انجکشن لگاتے آنکھوں میں خون اتر آتا تھا. نقاھت بڑھتی جا رھی تھی. جو بھی احباب ملنے آتے تھے بس دعا ھی کرکے چلے جاتے تھے اور حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے.

والد صاحب کہتے تھے پڑھائی کی فکر نہ کرو جان ھے تو جہان ھے. تعلیم تو صحتیابی کے بعد بھی جاری رکھی جا سکتی ھے. ٹینشن ایک ایسا ذھنی مرض ھے، جائے جاتا نہیں جس پر سوار ھو جائے وہ بھی اسکو کنٹرول نہیں کر سکتا. ادویات کے مسلسل استعمال سے پیشاب خون کی طرح خارج ھوتا تھا. تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دل بہت گھبراتا تھا اسلئے کورامین کے قطرے پانی میں ڈال کر پلائی جاتی تھی.

دراصل نقاھت کی وجہ سے دل کی دھڑکن میں کمی اور گھبراہٹ محسوس ھوتی تھی. دوست احباب میری حالت دیکھ کر ناامید ھو چکے تھے، لیکن اسکا اظہار نہیں کرتے تھے.
5 جون 1968 کو ٹائیفائڈ کا زور ٹوٹ گیا تھا اور میں بیٹھنے کے قابل ھو گیا تھا. اسی روز محلے میں ایک سانحہ پیش آگیا تھا. عبداللہ نامی جوان چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گیا تھا، اسکی ریڑھ کی ھڈی فریکچر ھو گئی تھی.

اس کا انتقال ھو گیا تھا. بیماری کے دوران وہ صحتیابی کے لئے التجائیں ھی کرتا دنیا سے رخصت ھو گیا تھا.اب میں نے دل بڑا کرکے تمام ٹینشن ختم کردی تھی، کہ جیسے تیسے امتحانات دے دو نتیجہ اللہ تعالٰی کی ذات پر چھوڑ دیا تھا. لیکن ناکامی کی صورت میں دوستوں سے پیچھے رھنے کی خلش ضرور محسوس ھوتی تھی. 8 جون 2020 کو مجاھد مرزا میرا امتحانی رولنمبر پہنچا گیا تھا.

امتحانی سنٹر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس مال روڈ کی بلڈنگ میں بنا تھا. نقاھت تو تھی ھی لیکن ول پاور اور تعلیم مکمل کرنے کے مشن اور اللہ تعالٰی کی مدد کی وجہ سے نقاھت ھی کی حالت میں 12 جون سے 26 جون 1968 تک امتحانات میں مصروفیت رھی تھی. دوران امتحانات ایک امریکن نے میری اور شوکت کی ویڈیو بھی بنائی تھی. دراصل پیپر دینے کے بعد ھم آپس میں اظہار خیال کر رھے تھے کہ امریکن کیمرہ مین نے ھماری ویڈیو بنا لی تھی.

جس طرح سوچا تھا، پیپرز ویسے تسلی بخش نہیں ھوئے تھے. نتیجہ کا انتطار بس اللہ توکل ھی تھا. میں ھر نیتجہ کو سننے کے لئے تیار تھا. اللہ تعالٰی کا شکر تھا کہ سارے ھی پیپرز میں شرکت کی تھی. ایڈوانس اکاؤنٹنگ کے علاوہ تمام ھی پیپرز پاسنگ مارکس تک تسلی بخش ھوئے تھے. ایڈوانس اکاؤنٹنگ میں ایک دو طویل پروبلم حل نہ کرسکا تھا اور وقت ختم ھو گیا تھا.
امتحانات کے دوران ھی بڑے پھوپھا صاحب کا چہلم تھا اسلئے نہیں جا سکا تھا.

جیسے ھی امتحانات ختم ھوئے انکے افسوس کے لئے بڑی پوپھی صاحبہ کے ھاں ایک ھفتہ گزار کر لاھور واپسی ھوئی تھی. اس سے ذھنی کیفیت پر تھوڑا ریلیف ملا تھا اور پڑھائی اور بیماری کی طرف سے دھیان محو ھو گیا تھا. دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزر رھے تھے اور گڑ گڑا دعائیں ھو رھی تھیں کہ کامیابی ھو. پاجی جی سے تحصیل بازار جا کر خصوصی دعائیں کرواتا تھا، جس سے کافی ذھنی دباؤ کم ھو رھا تھا.

قرآن شریف کی تلاوت میں جو کمزوری آئی تھی. اسکو نئے سرے سے پورا کر رھا تھا البتہ ابھی اردو ترجمہ اور تفسیر کی طرف رحجان کم تھا. بس جو کچھ مولانا حضرات جمعہ کے خطبات میں بیان کرتے تھے اسی پر اکتفا تھا.
اللہ اللہ کرکے نتیجہ ستمبر 1968 کے دوران نکل آیا. میری ایڈوانس اکاؤنٹنگ میں کمپارٹمنٹ آگئی تھی. جیسے کہ مجھے پہلے ھی شک تھا. ایڈوانس اکاؤنٹنگ لازمی سبجیکٹ تھا، اسلئے تمام ھی مضامین میں دوبارہ سپلیمنٹری امتحان دینا لازمی تھا.

دیگر تمام دوست پاس ھو گئے تھے اور ایم کام میں داخلہ کی تیاری میں لگ گئے تھے.میں نے ذرا بھی ٹینشن نہ لی، موسم خوشگوار تھا. ذھنی طور پر پہلے ھی تیار تھا اور مکمل صحت یاب ھو چکا تھا. سارے کورس کے پچھلے امتحانات کے سوالناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے بغیر کسی پریشانی کے تیاری شروع کردی تھی. دن رات محنت جاری تھی. 23 نومبر 1968 کو سپلیمنٹری امتحانات کا رولنمبر مل گیا تھا، اور پوری تیاری سے تمام پرچے بخوبی حل کئے تھے.

11 دسمبر 1968 کو ایڈوانس اکاؤنٹنگ کا آخری پرچہ تھا. جو کافی تسلی بخش ھوا تھا اور میں پرامید تھا کہ نتیجہ کامیابی ھی ھوگا.امتحانات سے فارغ ھوا ھی تھا، کہ کزنز اسلم اور جاوید اسلام آباد سے لاہور کی سیر کے لئے آ گئے. 15 دسمبر 1968 کا دن بھر شہر کی سیر کرتے رھے پھر صلاح الدین کے ھاں رحمان پورہ چلے گئے دوپہر کا کھانا ان کے گھر ھی تناول کیا. اسی دن کزنز ستار و غفار سے ملنے اندرون لوھاری گیٹ چلے گئے تھے.

خوب گپ شپ رھی، رات کا کھانا کھا کر گھر واپسی ھوئی تھی. اگلے دن ناشتہ کرکے اقبال پارک چلے گئے تھے، وھاں سے بادشاھی مسجد کی سیر کی. اگلے روز وہ دونوں واپس اسلام آباد چلے گئے تھے.
مجاھد مرزا جس لڑکی کو چاھتا تھا اسکی منگنی اسکے خبطی دادا نے کہیں اور کردی تھی. مجاھد مرزا کے والدین اسکی جلد شادی کے خواھاں تھے، اور مجھ سے اپنے سگے بچوں سے بھی زیادہ مشاورت کرتے تھے.

بس اپنے گھر کا فرد ھی سمجھتے تھے. انہی دنوں ایک رشتہ جہلم سے آیا. جو انکے دور کے رشتہ دار تھے. یہی دن کالج کے سالانہ تفریحی ٹور کے تھے مگر رشتہ دیکھنے جانا بھی لازمی تھا. کالج ٹور میں شرکت معذرت کرلی. گھر والوں سے اجازت لیکر مجاھد مرزا اور اسکے والدین کے ھمراہ 23 دسمبر 1968 کو 5 بجے شام لڑکی والوں کے گھر جہلم پہنچے. مجھے اور مجاھد مرزا کو گھر کی اوپری منزل پر ٹھہرایا گیا تھا.

کافی خاطر و مدارت جاری رھی تھی. ھم دونوں جھرنوں سے اسکی منگیتر کی شکل دیکھنے میں کوشاں تھے، تاکہ کوئی حتمی فیصلہ کر سکیں. لیکن کوئی صورت نظر نہیں آرھی تھی. 24 دسمبر 1968 کو اسکے ھونے والے سالے کے ھمراہ منگلا ڈیم دیکھنے چلے گئے تھے. پہلے باھر سے جائزہ لیا تھا، بعد میں کافی پیدل چل کر رسپشن پر جا کر بڑی تگ و دو کے بعد بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کو اندر جا کر دیکھنے کی اجازت ملی تھی.

سچ پوچھیں اس وقت ھم ایک عجوبہ کا نظارہ کر رھے تھے، جسکا بیان مشکل لگتا تھا. ایک انجینئر نے ھمیں تمام شعبوں سے متعارف کروایا تھا. وھاں مشہور زمانہ آرٹسٹ صادقین کا دیو ھیکل تخلیق کردہ شاھکار ایک دیوار پر بنایا گیا تھا. اس پر حسین منظر کے نقوش سمیٹے ھوئے شام چار بجے واپس جہلم پہنچے تھے. رات کو کھانے کے بعد مجاھد مرزا کی ھونے والی منگیتر کو جھرنوں سے دیکھ ھی لیا اور فیصلہ ھوا کہ قابل قبول ھے.

25 دسمبر 1968 کو مجاھد مرزا کے دوست امداد کے گھر رات کا کھانا کھایا تھا. کھانے سے فارغ ھو کر ساڑھے بارہ بجے جہلم سے واپسی ھوئی تھی اور شام چھ بجے لاھور پہنچ گئے تھے. راستہ میں مجاھد مرزا کے والدین کو فیصلہ سنا دیا تھا، کہ رشتہ پکا کر دیا جائے. تو یہ تھی ایک گہرے دوست کی منگنی کی رام کہانی.
تاریخ اشاعت: 2020-10-05

Your Thoughts and Comments