Rakht E Safar - Qist 7

رخت سفر۔ قسط نمبر7

عارف چشتی پیر اکتوبر

Rakht E Safar - Qist 7
مجاھد مرزا اور دیگر تمام دوستوں نے ایم کام میں داخلہ لے لیا تھا اور دن رات پڑھائی میں مصروف ھو گئے تھے. میں تو سپلیمنٹری امتحان سے فارغ ھوا تھا اور نتیجہ آنے تک فارغ تھا. سرکنڈوں کے تنکوں کو چھیل کر قطعات بنانے میں لگ گیا تھا. کپڑوں پر پھول پتیوں کی آئل پینٹنگز کا شوق بھی پورا کرنے کا موقع مل گیا تھا. نئے سے نئے مشاغل اپنانے کا شوق تو ھمیشہ زندگی کا لازمی جزو رھا تھا.

صلاح الدین کے کہنے پر اسکی بہن کے لئے دن رات ایک کرکے کپڑوں کے ایک مکمل سیٹ پینٹ کیا تھا. جو اسے جہیز میں دینا تھا. آئل پینٹس اس نے انارکلی سے خرید کر دیئے تھے. پہلے صرف دو زنانہ قمیضوں کے سیمپل تیار کئے تھے. مختلف رنگوں میں پھول اور پتیاں پینٹ کی تھیں. تاکہ تجربہ ناکام نہ ھو.

(جاری ہے)

اللہ تعالٰی کے کرم سے تجربہ کامیاب ثابت ھوا تھا. ورنہ برائ مقدر بنتی.

خرچہ سارا صلاح الدین نے ھی برداشت کیا تھا. یہ شغل صرف ایک ماہ تک ھی رھا تھا، کیونکہ پینٹ مہنگا ھونے کی وجہ سے استطاعت میں نہیں آتا تھا.
ایک دن گھر کے بیرونی دروازے کے سامنے اکیلا ھی کرسی پر بیٹھا تھا، کہ ایک انہونی ھو گئی. جولی اور اسکی ماما جسے میں آنٹی کہتا تھا، سامنے گلی سے آتے دکھائی دیں. یقین نہیں آرھا تھا. آنکھیں مل کر دوبارہ دیکھا تو وہ دونوں ھی تھیں.

انتہائی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں قبول کر لی تھیں. پاس آنے پر سلام کیا تو آنٹی سے رک کر جواب دیا اور خیریت پوچھی. جولی منہہ بسور کر اپنے ماموں کے گھر چلی گئی تھی. اس دفعہ تیور کچھ زیادہ ھی بگڑے ھوئے تھے. فضل الرحمن کو بھی بہت خوشی تھی. اس میں بھی کچھ کچھ حرارت جاگ رھی تھی. بس باتوں سے ھی دل بہلاتے تھے. پیچھا بھی جاری ھو گیا اور پھر صبح دیدار بھی ھو جاتا تھا.

اب انہوں نے ساتھ والے خراس محلے میں گھر کرایہ پر لے لیا تھا. ایک روز سکول جاتے وقت اسکا منتظر تھا، کہ چند اس محلے کے اوباش لڑکوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تھا. فضل الرحمن بھی دفاع کرتا رھا. مجھے گھسیٹ کر آنٹی کے پاس لے گئے تھے. خوب تو تو میں میں ھوئی. آنٹی دھمکیوں پر آگئی تھی. میں نے بھی نڈر ھو کر کھل کر جواب دیئے تھے. مجھے سر اور کمر میں زخم آئے تھے.

اب تو غیروں تک کچھ کچھ ھونے کے قصے پہنچ گئے تھے. میں پولیس اسٹیشن بھی جاسکتا تھا، لیکن ایک تو اپنی حقیقی محبت اور پھر جولی کو رسوائی سے بچانا بہت ضروری تھا. یہ سب آنٹی کی سازش سے ھوا تھا. مجھے ڈاکٹر غلام محمد نے مرھم پٹی کی تھی. میں نے حقیقت ان پر عیاں کردی تھی. آنٹی ھمدردی کے بجائے والد صاحب سے شکایت کرنے آگئی تھی. والدہ صاحبہ شدید بیمار تھیں.

اسلئے علیحدہ کمرے میں جا انکی خوب منہہ ماری ھوئی تھی. والد صاحب نے آنٹی کو دھمکی بھی دی تھی، کہ آیندہ اگر ھمارے گھر میں قدم رکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا. بعد میں معلوم ھوا تھا، کہ اس نے والد صاحب اور دادی اماں سے باقاعدہ طریقے سے رشتہ مانگنے کی بات بھی تھی. زخمی حالت میں گھر پہنچا تو خوب ڈانٹ ڈپٹ ھوئی تھی. گھر سے بیدخل کرنے کی نوبت آ گئی تھی.

تمام دوستوں سے کہہ دیا گیا تھا، کہ اگر یہ جولی کا پیچھا کرے تو والد صاحب کو مطلع کردیں. دراصل میرے بڑوں کی نیت کچھ اور ھی تھی، جو مجھے معلوم ھی نہ تھی، ورنہ جولی سے رشتہ ضرور ھو جاتا. جولی کی بدنامی کی وجہ سے اسکا خاندان ھمیشہ کے لئے میکلوڈ روڈ کرایہ کے مکان میں شفٹ ھو گیا تھا. میں نے اور فضل الرحمن نے پھر بھی انکا پیچھا کیا تھا، تاکہ ظاھر کر سکیں کہ کچھ کچھ معاملات میں ھار بزدل ھی مانتے ھیں.
سیاسی منظر نامے میں ایوب خان کے خلاف ایجی ٹیشن زور پکڑ رھا تھا.

وہ تمام ایبڈو زدہ سیاست دان بلوں سے نکل کر احتجاوں میں شریک ھو رھے تھے. ایوب خان کی تنزلی کی اصل وجہ دس سالہ ترقی کا ڈھنڈورا تھا. چینی کی قیمت میں صرف دو آنے یعنی 13 پیسے اضافہ ھوا تھا. صنعتی ترقی تو ھوئی تھی، لیکن لوگ خاص طور پر غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے بہت پس چکے تھے. پہلے ایک دو خاندانوں کا شمار دولت مندوں میں ھوتا تھا اب 22 خاندان جن میں انگریزوں کے پالتو بھی شامل تھے.

ملکی وسائل پر قابض ھوچکے تھے. ھم تمام دوستوں میں اکثر مذھبی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے. حکمرانوں کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے ذھن پروگریسیو ھو رھے تھے. سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا اور غریبوں کے خون چوسنے کا سلسلہ زور پکڑتا جا رھا تھا. مجاھد مرزا اور میں پیپلز پارٹی کے منشور سے متفق تھے. ھم سیاسی لوگ تو نہ تھے، لیکن وقت نے سیاست میں دھکہ دے دیا تھا.

ساگر روڈ پر ایک درزی کا تعلق کونسل مسلم لیگ تھا اور اس کی دوکان پر اسکی قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ فریم میں ایک تصویر آویزاں تھی. میں شغل کے طور پر اسکی دوکان پر جا کر گپ شپ کرتا رھتا تھا. وہ بہت ھی محب وطن تھا. ھم محلے کے دوست چائے پینے کی خاطر اسکی تعریفوں کے پل باندھتے رھتے تھے. تعلیم یافتہ ھونے کی وجہ سے وہ میری بہت عزت کرتا تھا.

اسکی رسائی واقعی بڑے بڑے سیاست دانوں سے تھی. جہاں تک یاد پڑتا ھے 28 دسمبر 1968 کو ایک احتجاج میں شرکت کے دوران اس نے میری ملاقات ملک کے بڑے سیاست دانوں سردار شوکت حیات، نواب زادہ نصراللہ، سکندر حیات، میاں عبدالخالق اور خواجہ سعد کے والد خواجہ رفیق سے کروائی تھی. یہ زندگی میں کسی قومی سطح کے سیاست دانوں سے پہلی ملاقات تھی. انکی کوشش تھی کہ میں دیگر دوستوں کے ساتھ کونسل مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لوں.
ھم تو ذوالفقار علی بھٹو کے حامی تھے..

پسا ھوا طبقہ کھل کر پروگریسیو نظریات کی پرچار کر رھا تھا.اب جو بھی سیاست دان ائرپورٹ آتا تھا اور ھمیں انکا استقبال کرنے کی ھدایات ملتی تھی. ھم ائرپورٹ پہنچ جاتے تھے. 29 دسمبر 1968 کو مودودی صاحب کے استقبال کے لئے میں اور محلے دار شریف نے جم غفیر کے ھمراہ جلوس میں شرکت کی تھی. میں تو انکی گاڑی کے بیںنٹ پر بیٹھ کر خوب نعرے بازی کرتا رھا تھا.اگلے ھی روز مودودی صاحب نے ایوب خان کے ساتھ بھٹو کے پروگریسیو نظریات کی مخالفت میں بیان داغ دیا تھا.

پروگریسیو نظریات کے حامیوں کو سرخے اور ماؤ کے چیلے کا لیبل لگا کر دو دو پارٹیاں آمنے سامنے آ گئی تھیں اور اچھی خاصی ٹھن گئی تھی. 30 دسمبر 1968 کو مجاھد مرزا، شریف اور میں نے فریدکورٹ ھاؤس شیخ رشید وکیل سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی کی ممبرشپ کے فارم بھر دئے تھے. ھم نے باقاعدہ بینر لکھوا کر تین چار مقامات لگوا دئے تھے. کچھ مخالفت تو تھی ھی لیکن اکثریت میری حامی تھی.

جس میں خواتین بھی بھر پور حصہ لے رھی تھیں. شریف باردانے کا کام کرتا تھا اسلئے وہ فیصل آباد شفٹ ھو گیا تھا اور ایک انتہائی پر خلوص دوست روزی کی خاطر جدا ھو گیا تھا. نتائج کے انتظار تک صبح شام سیاسی بحث و مباحث کا سلسلہ جاری تھا. علاقے میں کوئی باقاعدہ پیپلزپارٹی کا دفتر نہیں بنا تھا. پڑھے لکھے لاھور کینٹ کے دوستوں سے خوب بیٹھک ھوتی تھی.

جن میں مرزا اعظم، صدیق جسکو ھم نے علامہ کا خطاب دیا ھوا تھا، نواز اور اسلم چوھدری شامل تھے. مختلف لیٹریچرز پر گفتگو ھوتی تھی. ایوب خان کے حمایتی جہاں کہیں جلسہ کرتے ھم گروپ بنا کر پہنچ جاتے تھے. جب وہ ھمارے سوالات کے جوابات دینے میں ناکام ھوتے، تو جلسہ ناکام ھو جاتا تھا. ایک منسٹرز نے رشوت دیکر ھمیں خریدنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن ھم اپنے نظریات میں اٹل تھے.

اگر پولیس پکڑ کر لے جاتی تھی، تو چھڑوانے والے جلوس کی شکل میں جا کر چھڑوا لاتے تھے. مقصود بیگ صاحب جنکا تعلق مسلم لیگ سے تھا وہ اپنے اثر و رسوخ سے کام انجام دیتے تھے. انکا منجھلا بیٹا ظفر میرا اچھا دوست تھا.
بقول شخصے اب وقت کافی تھا، اسلئے سیر و تفریح اور فلم بینی بھی جاری تھی. رومانوی اور جاسوسی قصے کہانیوں کا مطالعہ بھی جاری تھا.

چچا صاحب جو کے انکم ٹیکس میں آفیسر تھے، ان دنوں فلم انڈسٹری کا ایریا اور فلمی اداکاروں ان کی حدود میں آتے تھے. میری خوب موج لگ گئی تھی. جب بھی سینما میں انڈین فلموں کی چوری چھپے نمائش ھوتی تھی. صرف دو تین گھنٹے پہلے مجھے مطلع کرتے تھے، تاکہ میں زیادہ دوستوں کو نہ لے سکوں، کیوں کہ ان سینما گھروں میں صرف انکم ٹیکس کے ملازمین کی فیملیز کو مدعو کیا جاتا تھا.

عموماً اتوار کے دن صبح آٹھ بجے شو شروع ھوتا تھا گیارہ بجے ختم ھو جاتا تھا. فضل الرحمن اور مجاھد مرزا کو ھر صورت مطلع کرکے ساتھ لے جاتا تھا. 19 جنوری 1969 کو پہلی انڈین فلم "بابل" دلیپ کمار اور نرگس کی جوبلی سینما بھاٹی گیٹ دیکھی تھی. دوسری فلم 25 جنوری 1969 کو "میلہ" پیراماؤنٹ سینما میں دیکھی تھی. سیاست اور تفریح ساتھ ساتھ جاری تھی.تمام بہن بھائی اپنی اپنی تعلیم میں آگے بڑھ رھے تھے.

تنگ دستی بڑھ رھی. میرا خرچہ تو فیس معافی، وظائف اور چچا صاحب کی اعانت سے پورا ھو رھا تھا. ھمارے دونوں کنبوں کے ھاں کھانا الگ الگ پکتا تھا. لیکن پیار محبت قائم تھی. میں تو عموماً کھانا چچا صاحب کے ھاں ھی کھاتا تھا. کیا ھی اچھا دور تھا بھلائے نہیں بھولتا.
زندگی میں آخر ایک موڑ آ ھی پہنچا کہ میں نے ایک مرحلہ میں کامیابی حاصل کرلی تھی.

10 فروری 1969 کو میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بی کام (آنرز) کا امتحان پاس کر لیا تھا. پاس ھونے کی خوشی میں خوب مٹھائی تقسیم کی تھی. گھر میں سب خوش تھے کیونکہ انکی دعائیں بھر آئ تھیں اور میرے تعلیمی کیریئر کسی بھی دھچکہ سے محفوظ ھو گیا تھا. اصل وجہ میری بیماری تھی جو عین امتحانات کے وقت عود آتی تھی. ریاض بھائی بھی بی کام پارٹ ٹو میں پاس ھو گیا تھا.

اسی روز میں نے پرویزنل سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا تھا. چار ماہ لازمی انٹرنل شپ کے لئے کوشش جاری تھی.خوش قسمتی سے اسی سال ھیلی کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جن طالب علموں نے سپلیمنٹری میں اچھے نمبروں سے امتحان پاس کیا ھوگا انکو ایم کام میں داخلہ دے دیا جائے گا. یہ بھی اللہ تعالٰی کا ایک کرم اور عنایت تھی. یہ میرے تعلیمی کیریئر کے لیا ایک مثبت پہلو تھا.

گھر والے اب ھاتھ اٹھا چکے تھے کہ بی کام آنرز تک ھی حصول تعلیم کافی تھی. چچا صاحب کے ایک دوست نواز صاحب، رحیم جان چارٹرڈ اکاؤنٹس کے ٹیکسیشن کے لیگل ایڈوائزر تھے، جو کہ اس وقت سب سے اعلیٰ درجے کی فرم تھی. انکی وساطت سے 3 مارچ 1969 کو وھاں ٹریننگ کی اجازت مل گئی تھی اور باقاعدہ جانا شروع کر دیا تھا. دوپہر کا کھانا صلاح الدین کی دوکان پر جا کر کھاتا تھا.

ظہر کی نماز کے بعد دوبارہ رحیم جان چلا جاتا تھا. شروع شروع میں دو ھفتے کاسٹنگ (یعنی جمع تفریق) ھی میں لگائے رکھا تھا. اسی دوران مجاھد مرزا نے مطلع کیا تھا کہ ایم کام میں مزید داخلہ شروع ھو چکا اور ساتھ ھی داخلہ فارم لیتا آیا تھا. مجھ میں حوصلہ نہ تھا کہ گھر والوں کو داخلہ کا کہہ سکوں. ھمت کرکے چچا صاحب سے ذکر کر دیا کہ چند ماہ کی بات ھے اور قسمت بھی یاوری کر رھی ھے.

میں فیس معاف کروا لوں گا. بات انکی سمجھ میں آگئی تھی. فارم بھر کر ھیلی کالج جمع کر وا دیا گیا.ایوب خان کے خلاف بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بڑھنا ھوتے جا رھے تھے. مال روڈ پر روزانہ کوئی نہ کوئی احتجاجی جلوس نکلتا ھی رھتا تھا. کافی طالبعلم تشدد کی وجہ سے جان بحق بھی ھو چکے تھے. بس اسکی حکومت اب آخری سانس لے رھی تھی.
18 مارچ 1969 کو ایم کام میں داخلہ کا ھیلی کالج جا کر انٹرویو دیا تھا. تمام دوستوں سے ملاقات بھی ھو گئی تھی. اللہ اللہ کر کے داخلہ مل گیا اور تعلیمی کیریئر ھر طرح کے دھچکہ سے محفوظ ھو گیا تھا. ابھی ٹریننگ جاری تھی البتہ دیگر تمام مشاغل میں دلچسپی ختم ھوتی جا رھی تھی.
تاریخ اشاعت: 2020-10-26

Your Thoughts and Comments