بند کریں
ادب حکایاتبیت اللہ کی کنجی

مزید حکایات

- مزید مضامین

مزید عنوان

بیت اللہ کی کنجی
حضور نے فرمایا اے عثمان! آج تو یہ دروازہ کھولنے سے انکار کررہا ہے اور ایک دن ایسابھی آئے گا کہ بیت اللہ کی یہ کنجی میرے قبضہ میں ہوگی اورمیں جسے چاہوں گا یہ کنجی دوں گا
سچی حکایات:
ہجرت سے پہلے بیت اللہ کی کنجی قریش مکہ کے قبضہ میں تھی اور یہ کنجی عثمان بن طلحہ کے پاس رہا کرتی تھی، یہ لوگ بیت اللہ کو پیر اور جمعرات کے روز کھولا کرتے تھے، ایک دن حضور ﷺ تشریف لائے اور عثمان بن طلحہ سے دروازہ کھولنے کو فرمایا تو عثمان نے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا، حضور نے فرمایا اے عثمان! آج تو یہ دروازہ کھولنے سے انکار کررہا ہے اور ایک دن ایسابھی آئے گا کہ بیت اللہ کی یہ کنجی میرے قبضہ میں ہوگی اورمیں جسے چاہوں گا یہ کنجی دوں گا ، عثمان نے کہا تو کیا اس دن قوم قریش ہلا ک ہوچکی ہوگی؟ دیکھا جائے گا پھر ہجرت کے بعد جب مکہ فتح ہو ا اور حضور ﷺ کے قدوسی لشکر سمیت مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو سب سے پہلے کعبہ شریف میں تشریف لائے اور اسی کلید بردار عثمان سے کہا۔ لاؤ وہ کنجی میرے حوالے کردو، ناچار عثمان کو وہ کنجی دینی پڑی حضور نے وہ کنجی لے کر عثمان کو مخاطب فرما کر فرمایا ، عثمان! لو، کلید بردار میں بھی تجھی کو مقرر کرتا ہوں تم سے کوئی ظالم ہی یہ کنجی لے گا۔ عثمان نے دوبارہ کنجی لی تو حضور نے فرمایا عثمان ! وہ دن یاد ہے جب میں نے تم سے کنجی طلب کی تھی اور تم نے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا تھا

(0) ووٹ وصول ہوئے