Imthehaan Wafa

امتحان وفا

پیر اپریل

Imthehaan Wafa
آں دم کہ دل بعشق دھی خوش دمے بود درکار خیر حاجت ھیچ استخارہ نیست وہ وقت کتنا مبارک ہوتا ہے جس وقت دل کو حق تعالٰی کی محبت کا درد عطا ہوتا ہے۔ حق تعالٰی کی محبت میں حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ پر عجیب حالت طاری ہو گئی۔ایسی شورش و دیوانگی طاری ہو گئی تھی کہ آپ کی آہوں سے لوگوں کے کلیجے منہ کو آجاتے تھے۔ نعرہ مسانہ خوش می آیدم تا ابد جاناں چنیں می بایدم محبت میں بجز نالہ و فریاد کے کچھ اچھا نہیں لگتا گریہ و زاری اور تضرع سے حق تعالٰی کا راستہ بہت جلد طے ہو جاتا ہے۔

اس قدر قرب بصیب ہوتا ہے کہ سالہا سال کے مجاہدے سے وہ بات نصیب نہیں ہوتی۔حاکم وقت نے اپنے آپ کو قید میں ڈالنے کا حکم دیا۔ زندان جب آپ کو قید خانے کی طرف لے کر چلے تو آپ کے شاگرد اور مرید روتے ہوئے پیچھے پیچھے ہو لیے وہ کہتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے کامل ولی پر جنون کا غلبہ ہو اس میں کوئی نہ کوئی راز پوشیدہ ہے۔

(جاری ہے)

جب آپ کو قید خانے میں ڈال کر دروازہ بند کر دیا گیا تو دوست احباب نے غوروفکر شروع کیا کہ آخر کیا ماجرا ہے کہ اتنا بڑا شیخ قیدخانے میں محصور کر دیا گیا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مہتاب باطن کو ابر جنون سے چھپانا چاہتے ہیں،اور عوام کے شر سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی ہے۔ ایسی عقل و خرد سے پناہ جو ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کے عشق و عرفان کی دولت کو جنون سمجھے۔آخر کار ان سب نے زندان کی سلاخوں کے قریب آکر عرض کیا کہ " حضور!ہم سب آپ کے چاہنے والے ہیں۔ آپ کے معتقد اور جانثار ہیں۔ آپ کی مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوئے ہیں،اور حیران ہیں کہ کس نے آپ پر جنون کا الزام لگا دیا۔

آپ تو دریائے عقل ہیں۔ یہ اہل ظاہر آپ کے مقام قرب اور رفعت باطن سے ناواقف ہیں،اور آپ کو مجنون و دیوانہ سمھجتے ہیں۔ حالانکہ آپ تو سچے عاشق ہیں۔ ہم لوگ آپ کے سچے محب اور دوست ہیں۔۔۔۔۔۔۔ دونوں عالم میں آپ رحمتہاللہ علیہ کو عزیز دکھتے ہیں۔براہ کرم ہم پر اس راز کا انکشاف فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس قیدخانے میں اپنی جان کو کیوں مصائب و آلام میں مبتلا کر رہے ہیں۔

اپ کی ایسی حالت سے ہمارا دل کڑھتا ہے۔ راز کو اپنے دوستوں سے نہیں چھپایا کرتے۔"حضرت شیخ ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی گفتگو میں بوئے اخلاص محسوس نہ کی۔۔۔۔۔۔۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دل میں کہا "آوٴ ان کی وفاداری اور محبت کو آزمائیں۔ امتحان اخلاص کے لیے ان کی طرف پتھر اٹھا کر دوڑے جیسے پاگل وھشت میں لوگوں کو مارنے کے لیے دوڑتا ہے۔

یہ معاملہ دیکھتے ہی سب لوگ ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ شیخ نے جب ان کو یوں بھاگتے دیکھا تو ان کے اعتقاد و محبت پر قہقہہ لگایا اور فرمایا اس درولش کے دوستوں کو دیکھو۔ ان کی وفا اور الفت کے دعوے سنو! ارے نادانو! تم محبت دوستی کو کیا جانو کے کراں گیرد زرنج دوست دوست رنج مغز و دوستی او را چو پوست سچا دوست دوست کے دنج و تکلیف سے کب کنارہ کشی کرتا ہے، دوست کی دوستی تو پوست ہے اور دوست کی طرف سے رنج و تکلیف اصلی مغز ہے۔

دوست ھمچو زر بلا چوں آتش است زر خالص در دل آتش خوش است دوست مثل سونے کے ہے اور بلا و مصیبت مثل آگ کے ہے۔ خالص سونا آگ کی تکلیف میں مزید چمکتا ہے اور خوش ہوتا ہے، اور عاشقین خام کا یہ حال ہوتا ہے، تو بیک زخمے گریزانی زعشق تو بجز نامے نمی دانی زعشق اے مخاطب!جب ایک ہی زخم سے تو عشق سے مستعفی ہو گیا اور راہ فرار اختیار کر لی تو معلوم ہوا کہ تجھے ابھی عشق کی ہوا بھی نہیں لگی تو نے صرف عشق کا نام سن رکھا ہے۔ پس محبت کا راستہ آسان نہیں۔ جو حادثے یہ جہاں میرے نام کرتا ہے۔ میرا شعود انہیں نزر جام کرتا ہے فقیہہ شہر نے تہمت لگائی صوفی پر یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے۔ درس حیات: جو مصیبت میں کام نہ آئے وہ دوست نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2018-04-16

Your Thoughts and Comments