Motiyon Ka Haar

موتیوں کا ہار

جمعہ اگست

Motiyon Ka Haar

ایک خرا سانی شخص حج کے لئے گھر سے نکلا تو شہر بغداد میں پہنچا اور اپنا ایک قیمتی موتیوں کا ہار جس کی قیمت ایک ہزار دینا ر تھی بغداد میں بیچنا چاہا ۔مگر ہار بک نہ سکا ۔ناچار اس نے یہ قیمتی ہار ایک عطار کے پاس جس کی شہرت اچھی تھی بطور امانت رکھا اور حج کو چلاگیا ۔پھر جب حج کرکے واپس آیا اور اس عطار سے اپنا ہار واپس طلب کیا تو وہ عطار مُکر گیا اور کہنے لگا کہ میں نہ تمہیں جانتا ہوں اور نہ کسی ہار کو اور اس بچارے خراشانی کو دھکے دے کر دکان سے نیچے اتار دیا ۔

لوگ جمع ہوئے تو سب نے عطار کی حمایت کی اور اس خراسانی حاجی کی کسی نے طرف داری نہ کی ۔یہ بڑا حیران ہوا اور بار بار اپنا قصہ سنانے لگا مگر اس کی کوئی سنتا ہی نہ تھا ۔ناچار یہ خلیفہ وقت عضد الدولہ کے پاس پہنچا اور اپنا پورا واقعہ پیش کیا ۔

(جاری ہے)

عضد الدولہ نے کہا تم کل صبح جا کر اس عطار کی دکان پر بیٹھ جاؤں وہ نہ بیٹھنے دے تو اس کے سامنے کی کسی دکان پر جاؤ اور مغرب تک بیٹھے رہو او ر عطار سے کوئی بات نہ کرو ۔

اسی طرح تین دن کروچوتھے دن ہم وہاں سے گزریں گے اور کھڑے ہوکر تم سے السلام علیکم کہیں گے ۔تم کھڑے نہ ہونا اور وعلیکم السلام کے سوا اور کوئی لفظ نہ کہنا اور جو سوال میں کرو ں صرف اُسی کا جواب دینا او ر کچھ نہ کہنا ۔اور پھر ہماری واپسی کے بعد تم اس عطار سے ہارکا قصہ چھڑدینا ۔پھر جو کچھ وہ جواب دے ہمیں اس کی اطلاع کرنا اور اگر ہار واپس کردے تو میرے پاس لے آنا ۔

چنانچہ اس پروگرام کے مطابق وہ خراسانی حاجی دوسرے دن صبح کے وقت اس عطاری کی دکان پر بیٹھنے کے لئے پہنچا ۔مگر اس نے نہ بیٹھنے دیا تو وہ سامنے کی دکان پربیٹھ گیا ۔وہ حابی تین دن تک وہیں بیٹھتا رہا ۔جب چوتھا دن ہوا تو خلیفہ عضدالدولہ ایک شاندار جلوس کے ساتھ ادھر آئے اور جب اس خراسانی کو دیکھا تو وہیں کھڑے ہو گئے ۔اور السلام وعلیکم کہا اس نے اپنی جگہ پر ہی بیٹھے ہوئے وعلیکم السلام کہا ۔

خلیفہ نے کہا بھائی صاحب ! آپ یہاں تشریف لائے ہیں ۔مگر ہم سے نہیں ملتے ۔اور نہ ہی کوئی خدمت ہمارے سپرد کرتے ہیں ۔اس نے کوئی بات نہ کی اور معمولی طور پر ہاں ہوں کردی ۔عضدالدولہ اس سے بار بار اصرار کرتے رہے ۔کھڑے رہے اور ان کی وجہ سے پورا لشکر کھڑا رہا ۔اس بات سے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ یہ شخص عضدالدولہ کا کوئی بڑا ہی محترم دوست ہے ۔

ادھر عطار نے یہ نظارہ دیکھا تو اس پر خوف کے مارے غشی طاری ہونے لگی اور اس نے گمان کیا کہ اس خراسانی نے عضدالدولہ کو ابھی ہار کاقصہ بتا یا نہیں ۔اور اگر اس نے بتا دیا تو خدا جانے میرا کیا حشر ہو ۔عضدالدولہ جب وہاں سے چلا گیا تو عطار خود اس خراسانی کے پاس آیا اور کہا کہ آپ نے یہ بتایا کہ وہ ہار آپ نے کب اور کس چیز میں لپٹا ہوا ہمارے پاس رکھا تھا ۔

آپ مجھے یاد لائیں شاید یاد آجائے ۔اس نے یہ سب کچھ بتایا تو اس عطار نے ادھر ادھر ہاتھ مارنے کے بعد ایک تھیلا الٹا ۔جس میں سے ہار گرا تو کہنے لگا کہ میں اصل میں بھو ل ہی گیا تھا شکر ہے کہ آپ کا ہار مل گیا یہ لیجئے اپنا ہا ر ۔خراسانی اپنا ہار پاکر سیدھا خلیفہ عضدالدولہ کے پاس پہنچا۔عضد ا لدولہ نے اس کے ساتھ اپنے حاجب کو ہار دے کر عطار کی دکان پر بھیجا جس نے عطار کو پکڑکروہ ہار اس کے گلے میں ڈال دیا اور اس کو دکان کے دروازے ہی پر پھانسی دے کر لٹکا دیا ۔اور منادی کرادی کہ یہ اس شخص کی سزا ہے کہ جس کے سپرد ایک امانت کی گئی مگر وہ منکر ہو گیا ۔جب دن گزرگیا تو حاجب نے اس کی گردن سے ہار نکال کر حاجی کے سپرد کر دیا اور اُسے جانے کی اجازت دے دی ۔

تاریخ اشاعت: 2018-08-31

Your Thoughts and Comments